دنیا کا ہر شخص اپنے سپنوں کی منزل تلاش کرنے میں سرگرداں ہے۔
کوئی سرسبز وادیوں میں سکون ڈھونڈ رہا ہے
تو کوئی آسمان کی وسعتوں میں اپنا مقدر تلاش کرریا ہے۔
کوئی سمندر کی گہرائیوں میں زندگی کا راز ڈھونڈنے کے لئے نکل پڑا ہے
تو کوئی پہاڑوں کی چوٹیوں پر جا کر کامیابی کے مفہوم کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
……….لیکن
ہر سفر کسی نہ کسی موڑ پر جاکر ، ٹھہر جاتا ہے
ہر روشنی کسی نہ کسی مقام پر پہونچ کر مدھم پڑ جاتی ہے
اور ہر جستجو آخرکار کسی خلاء میں تحلیل ہو جاتی ہے۔
مگر ۔۔۔۔۔
ایک روشنی ایسی ہے جو صدیوں سے درخشاں ہے۔
ایک راستہ ایسا ہے جو کبھی مسدود نہیں ہوا ہے ۔
ایک شاہراہ ایسی ہے جو منزل تک پہونچ کر رہتی ہے ۔
اور وہ ہے ، اسلام ۔۔۔۔
یہ راستہ اللہ تعالیٰ کا ابدی دستور ہے جو ہر انسان کے لیے زندگی کی سچی اور سیدھی راہ متعین کرتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی انسان گمراہی کے اندھیروں میں بھٹکنے لگا، جب بھی معاشرے فکری اور اخلاقی زوال کا شکار ہوئے
تب وحی کی روشنی نے راستہ دکھایا
اور ہدایت کا پیغام لے کر اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندے آئے، تاکہ نسل انسانی کو اس کے مقصدِ حیات سے روشناس کرا سکیں۔
اور سب نے ہمیشہ
اللہ تعالیٰ کی بندگی▪️
عدل و انصاف کے قیام▪️
اخلاقی طہارت▪️
اور انسانوں کے بیچ باہمی احترام و محبت کا پیغام دیا۔▪️
یہی وہ ازلی حقیقت ہے جسے حضرت آدم سے لے کر حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ عليهم السلام ، اور بالآخر حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تک ہر نبی نے پیش کیا۔
فرق صرف اتنا تھا کہ ہر نبی کی شریعت ان کے زمانے ، تہذیب و ثقافت اور قوموں کی فہم و صلاحیت کے لحاظ سے قدرے مختلف تھی
مگر دین کا جوہر ہمیشہ یکساں رہا ہے ۔
آج دنیا میں بے شمار نظریات، فلسفے اور تہذیبیں موجود ہیں۔
ہر ایک اپنے اصولوں کو کامل اور اپنی راہ کو سچ سمجھتا ہے۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر نظریہ وقت کے ساتھ بدل جاتا ہے۔
ہر فلسفہ اپنی کمزوریوں کے باعث زوال پذیر ہو جاتا ہے
اور ہر تہذیب ایک دن قصہ پارینہ بن جاتی ہے۔
مگر ، اسلام واحد دین ہے جو نہ صرف ازل سے ہے بلکہ ابد تک باقی رہے گا، کیونکہ اس کی بنیاد انسانی خواہشات پر نہیں، بلکہ خالق کائنات کی حکمت پر ہے۔
یہ دین محض کچھ عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل طرزِ زندگی ہے، جو معاشرت معیشت، اخلاق، عدل، سیاست اور قانون کے ہر پہلو پر محیط ہے۔
یہ انسان کے روحانی، اخلاقی اور سماجی ارتقاء کی ضمانت دیتا ہے۔
اگر انسان کامیابی چاہتا ہے
اگر اقوام ترقی کی راہ پر گامزن ہونا چاہتی ہیں
اگر دنیا سکون اور عدل کی متلاشی ہے
تو واحد حل یہی ہے کہ اس دین کے سائے میں پناہ لی جائے
اس کے اصولوں کو اپنایا جائے، اور اس کے بتائے ہوئے راستے پر چلا جائے۔
یہ روشنی کبھی بجھنے والی نہیں ، یہ قندیل کبھی مدھم پڑنے والی نہیں ، اور یہ راستہ کبھی بند ہونے والا نہیں ہے ۔
کیونکہ یہ ابدی دستور ہے جسے خالقِ کائنات نے خود نازل فرمایا ہے!
دین کا مفہوم
دین کا معنی ہے
قانون، ضابطہ، اور حساب ۔
لیکن حقیقت میں یہ ایک ایسا ہمہ گیر نظام ہے جو انسان کو نہ صرف اپنی دنیا سنوارنے کی راہ دکھاتا ہے بلکہ آخرت کی کامیابی کی بھی ضمانت دیتا ہے۔
یہ محض کچھ افکار کا مجموعہ نہیں بلکہ زندگی کے ہر پہلو پر محیط ایک ضابطہ ہے جس میں فطرت کی سادگی بھی ہے اور آفاقی وسعتیں بھی۔
: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ
(آلِ عمران: 19)
بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک (سچا) دین صرف اسلام ہے۔
یہ دین ، انسانیت کی تخلیق سے ہے اور ابد تک رہے گا۔
یہ وہی پیغام ہے جو حضرت آدم سے لے کر حضرت عیسیٰ تک سبھی انبیاء کی زبان سے گونجتا رہا۔
ہر نبی نے یہی صدا دی کہ
لوگو! ایک اللہ تعالیٰ کی بندگی کرو، وہی تمہارے خالق، رازق اور حاکم ہیں ۔
وقت کے تقاضے بدلتے رہے
انسانی معاشرے ارتقاء پذیر ہوتے رہے
تہذیبیں ابھرتی اور مٹتی رہیں۔
ہر قوم کے حالات کے مطابق انبیاء کی شریعتوں میں تبدیلیاں آتی رہیں،
لیکن دین اپنی اصل میں ہمیشہ ایک رہا۔
اور جب دنیا فکری، علمی اور تمدنی لحاظ سے اپنے کمال پر پہنچی، تو اللہ تعالیٰ نے آخری نبی، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو مبعوث فرمایا اور دین کی تکمیل کر دی۔
اللہ تعالیٰ اعلان فرماتے ہیں
الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا
(المائدہ: 3)
آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا، اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی، اور تمہارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کر لیا ۔
یہ وہ ساعت تھی جب انسانی تاریخ نے اپنے کمال کو چھولیا ، جب ہدایت کی بارش مکمل ہو گئی ، اور جب حق کا چراغ تا قیامت جلنے کے لیے مکمل کر دیا گیا۔
دین و شریعت
ازلی اصول، زمانی احکام
دین اسلام کی بنیادیں ہمیشہ سے ایک رہی ہیں۔
توحید، رسالت، آخرت اور سماجی ، معاشی اخلاقی اصول ہمیشہ ایک رہے ۔
یہ وہ سچائیاں ہیں جن پر ہر نبی کی دعوت قائم رہی۔
مگر شریعت، جو عملی احکام پر مشتمل ہوتی ہے، وقت اور حالات کے مطابق بدلتی رہی۔
: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
شَرَعَ لَكُم مِّنَ ٱلدِّينِ مَا وَصَّىٰ بِهِۦ نُوحًۭا وَٱلَّذِىٓ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِۦٓ إِبْرَٰهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَىٰٓ أَنْ أَقِيمُوا۟ ٱلدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا۟ فِيهِ…
(الشوریٰ: 13)
اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے وہی دین مقرر کیا جس کا اس نے نوح کو حکم دیا تھا، اور (اے نبی) جو ہم نے تمہاری طرف وحی کی ہے، اور جس کا ہم نے ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ کو حکم دیا ہے، اس دین کو قائم رکھو اور تفرقہ میں نہ پڑو ۔
یہی حقیقت رسول اکرم ﷺ نے یوں بیان فرمائی
أنا أولى الناس بعيسى بن مريم في الدنيا والآخرة، والأنبياء إخوة لعلات، دينهم واحد…
(بخاری، مسلم)
میں دنیا اور آخرت میں عیسیٰ ابن مریم سے سب سے زیادہ قریب ہوں، اور تمام انبیاء کرام بھائی بھائی ہیں، سبھی کا دین ایک ہے۔
دین کے لازوال اصول
یہ دین کسی خاص دور یا خاص قوم کے لیے محدود نہیں، بلکہ ہر زمانے اور ہر نسل کے لیے ہے
: اس کے اصول دائمی ہیں
ایمانیات: توحید، رسالت، آخرت پر ایمان، اور اللہ تعالیٰ کی کتابوں کو ماننا ہر نبی کی تعلیمات کا بنیادی جزو رہا ہے۔
عبادات: اللہ تعالیٰ کی بندگی ہر امت کا خاصہ رہی، اگرچہ عبادات کے طریقے مختلف رہے۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج جیسے احکام بنیادی طور پر تمام امتوں میں پائے گئے۔
اخلاقیات: صداقت، دیانت، عدل و انصاف مساوات، اور احترامِ انسانیت کے اصول ہر شریعت میں شامل رہے۔
معاملات: نکاح، وراثت، تجارت، اور معاشرتی تعلقات کے بنیادی اصول ہمیشہ یکساں رہے اگرچہ ان کی تفصیلات میں زمانے کے لحاظ سے فرق رکھا گیا۔
اتحادِ امت: خواب یا حقیقت؟
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء اور ان کے پیروکاروں کے بارے میں ارشاد فرمایا
إِنَّ هَذِهِۦٓ أُمَّتُكُمْ أُمَّةًۭ وَٰحِدَةًۭ وَأَنَا۠ رَبُّكُمْ فَٱعْبُدُونِ
(الأنبیاء: 92)
بے شک یہ سبھی تمہاری
امت (تمہارے دین شریک بھائی) ہیں
اور تم سب ایک امت ہو ، اور میں تم سب کا رب ہوں، لہذا تم سب میری ہی عبادت کرو۔
یہ آیت اس حقیقت کا اعلان کرتی ہے کہ حضرت آدمؑ سے لے کر نبی کریم ﷺ تک تمام انبیاء کی امت درحقیقت ایک ہی امت تھی۔
جب کہ ان کے مابین شریعتوں کا قدرے اختلاف بھی تھا ، مگر اس سے امت کی وحدت اثرانداز نہیں ہوتی ہے ۔
مگر افسوس
آج ہم ایک اللہ، ایک رسول، ایک قرآن اور ایک شریعت کے ماننے والے ہو کر بھی بے شمار گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں۔
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ اعلان فرماتے ہیں
وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰۤى اِلَیْكُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًاۚ-( النساء 94)
اور جو تمہیں سلام کرے اسے یہ نہ کہو کہ تم مسلمان نہیں ہو ۔
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کسی جنگی سفر سے واپس آئے تھے، جس میں انہوں نے کسی ایسے شخص کو قتل کر دیا تھا جس نے ان کے سامنے کلمہ پڑھا تھا (کلمہ پڑھ کر وہ خود کو مسلمان بتانا چاہتے تھے )
اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا
أَ قَالَ: لا إِلهَ إِلَّا اللَّهُ وَقَتَلْتَهُ؟
! اسامہ
اس نے لا اله الا الله کہا پھر بھی تم نے اسے قتل کر دیا ؟
اور سخت غصے میں آپ ﷺ نے یہ بات کئی بار دہرائی ۔
: حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا
يَا رسولَ اللَّهِ! إِنَّمَا قَالَهَا خَوْفًا مِنَ السِّلاحِ،
یا رسول اللہ اس نے ہتھیار کے ڈر سے کلمہ پڑھا تھا
اللہ کے رسول ﷺ نے سخت غصے میں ارشاد فرمایا
أَفَلا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ حَتَّى تَعْلَمَ أَقَالَهَا أَمْ لا ؟
کیا تم نے سچائی جاننے کے لئے اس کا دل چاک نہیں کیا کہ اس نے کلمہ دل سے کہا تھا یا تمھارے ڈر سے ؟
( بخاری ،مسلم )
! ذرا سوچیں کہ
کیا قرآن و سنت کے اس قدر واضح نصوص کے بعد بھی ہم مسلمان ایک دوسرے کی تکفیر کا سلسلہ بند نہیں کریں گے ؟
اور خود کو ٹٹولیں کہ
کیا واقعی ہم اسی دین کے پیروکار ہیں جس کی بنیاد اخوت ، محبت اور انسانیت پر ہے ؟؟؟؟؟
یا ہم نے اپنی خواہشات ، تعصبات اور نفرتوں کو دین کا نام دے کر، اسلام کے اصل پیغام کو پس پشت ڈال دیا ہے ؟
یاد رکھیں
اگر ہم نے خود کو تنگ نظری اور تعصب کے اندھیروں سے نہ نکالا، تو وہی فرقہ پرستی کی آگ جسے ہم ،جہالت میں روشنی سمجھ بیٹھے ہیں ، نہ صرف ہمارے لئے بلکہ پوری ملت کے لئے تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے
اللّٰہُمَّ وَفِّقْنَا لِمَا تُحِبُّ وَتَرْضَىٰ
آمین
👉 हिंदी में पढ़ने के लिए यहाँ दबाएँ