تاریخ گواہ ہے کہ قومیں جب اپنے فکری، دینی اور تہذیبی تشخص سے دستبردار ہو جاتی ہیں تو ان کی شناخت مٹ جاتی ہے
اور وہ کسی غالب قوم کے سایہ میں اپنی ہستی کھو بیٹھتی ہیں۔
ایسے ہی لمحوں میں ایک لفظ پوری شدت سے ابھرتا ہے: “تَشَبُّہ”۔
تَشَبُّہ ، ایک تہذیبی المیہ ہے جس میں قومیں اپنی اصلیت چھوڑ کر دوسروں کی ظاہری چمک دمک میں گم ہو جاتی ہیں۔
کسی دوسری قوم کی مشابہت اختیار کرنا اس کی مخصوص رسموں ، طریقوں، لباس، انداز عادات و اطوار اور تہوار کو اپنانا، یعنی اپنا تشخص چھوڑ کر دوسروں کی ہیئت میں ڈھل جانا ۔
اسلام میں ایسا کرنا، صرف ناپسندیدہ نہیں بلکہ شناختی خودکشی کے مترادف سمجھا گیا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
“من تشبہ بقومٍ فھو منھم”
جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے، وہ انہیں میں شمار ہوگا۔
(سنن ابی داؤد)
یہ حدیث ، کسی قوم کی نہ صرف ظاہری مشابہت سے منع کرتی ہے، بلکہ اس کی طرف دل و دماغ کے جھکاؤ سے بھی روکتی ہے
یہاں اصل مسئلہ محض لباس یا وضع و قطع کا نہیں، بلکہ فکر، رویے، اور شناخت کا ہے
آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں، تہذیبی یلغار کا دور ہے مغرب کی ظاہری ترقی، سائنسی شوکت اور میڈیا کے بے تحاشہ اثر نے ہمارے نوجوانوں کے دل و دماغ میں یہ وسوسہ بٹھا دیا ہے کہ ترقی یافتہ ہونے کے لیے مغربی طرزِ زندگی اختیار کرنا ناگزیر ہے
چنانچہ اب عید کی چمک دمک ماند اور کرسمس کی چکاچوند بڑھ رہی ہے
زندگی میں ایک بار بچوں کا عقیقہ کرنا مشکل ہو رہا ہے ، اس کی حکمت ، مشروعیت پر طرح طرح کے سوالات ہو رہے ہیں ، مگر ہر سال برتھ ڈے منانا ، کیک کاٹنا ، موم بتیوں پر پھونک مارنا ترقی کی علامت ہے۔
عقیقہ کی مشروعیت پر سوال اٹھانے والے ، ان اعمال کی افادیت بتانے کے لئے تیار نہیں ہیں۔
سادگی کی جگہ نمود و نمائش
اور اسلامی وقار کی جگہ مغربی فیشن نے لے لی ہے ۔
احساس کمتری
تَشَبُّہ دراصل احساسِ کمتری کی علامت ہے جب کوئی قوم اپنے اقدار پر اعتماد کھو دیتی ہے تو وہ دوسروں کی تقلید کو عزت سمجھنے لگتی ہے
مگر یاد رکھیں کہ قومیں جب دوسروں کی نقالی میں خود کو بھول جاتی ہیں تو وہ کدھر کی بھی
نہیں رہتیں ۔۔۔۔۔
نہ انہیں اصلی ترقی ملتی ہے ، نہ روحانی سکون۔
مسلمانوں کی پہچان
مسلمانوں کی شناخت ، ہمیشہ ان کی سچائی، امانتداری، وعدہ وفائی ، عہد کی پابندی ، انصاف ، تواضع اور ایمان سے وابستہ رہی ہے
انہوں نے ہمیشہ دنیا کو متاثر کیا ہے
خود مرعوب نہیں ہوئے ہیں
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، تابعین، اور اہل اللہ ، کبھی کسی باطل تہذیب کے سامنے نہیں جھکے ، بلکہ اپنی اصل پر قائم رہ کر دنیا والوں کی رہنمائی کی ۔
تَشَبُّہ کا رد
کسی قوم کی مشابھت سے بچنا دراصل اپنے تشخص کی حفاظت ہے۔
یہ وہی تشخص ہے جس پر قرآن کریم نے
فخر کیا ہے
: ارشاد ہے
“کُنْتُمْ خَیْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ”
تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے نکالی گئی ہے۔
( آل عمران: 110)
لہٰذا ضروری ہے کہ مسلمان اپنی تہذیب معاملات اور طرزِ حیات میں اصل اسلامی اقدار کے امین بنیں اور خیر امت کے معیار پر اتریں ۔
صرف مسجد میں نہیں، بلکہ بازار، گلی اسکول، معاملات و معاشرت ، میڈیا اور طرزِ گفتگو میں ان سے اسلام جھلکے ۔
آج تَشَبُّہ ایک فیشن بن چکا ہے، لیکن اصل میں یہ فکری غلامی کا طوق ہے، جسے کاٹنے کے لیے تعلیم ، خودی، شعور اور فکری ، دینی تربیت کی ضرورت ہے۔
مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے رب کی دی ہوئی شناخت پر ناز کریں، نہ کہ دوسروں کی تقلید میں اپنی اصل گم کر بیٹھیں۔
: تشبہ کا لغوی معنی
التشبه مأخوذ من المشابهة، وهي المماثلة والمحاكاة والتقليد
(الرسالة لناصرالعقل )
تشبه مشابھت سے ماخوذ ہے یعنی مماثلت نقل اتارنا ،تقلید کرنا ۔
اصطلاحي معني
هو تمثُّل المسلم بالكفار في عقائدهم أو عباداتهم أو أخلاقهم أو فيما يختصون به من عادات۔
(التدابير الواقية)
عقائد ، عبادات ، اور مخصوص اخلاق و عادات میں کفار کی نقل کرنا۔
: امام ذھبی رحمة الله عليه فرماتے ہیں
لا يكون التشبه بالكفار الا بفعل ما اختصوا به من دينهم او من عاداتهم
ممنوعہ تشبہ صرف اس صورت میں لازم آتا ہے ، جب کوئی مسلمان ، کفار کے دینی امور یا ان کی مخصوص عادتوں اور صفتوں کو اپنائیگا
(تشبيه الخسيس باهل الخسيس للذھبی)
دور حاضر میں پڑھے لکھے لوگ بھی تَشَبُّہ کو محض وضع قطع کی تقلید تک محدود سمجھتے ہیں جب کہ اس کا دائرہ کافی وسیع ہے
فکری، اخلاقی تَشَبُّہ کی اہمیت ، ظاہری تَشَبُّہ سے کسی درجہ بھی کم نہیں ہے۔
عقائد و نظریات ، افکار و خیالات ، معاملات و معاشرت اور تہواروں و رسموں میں بھی تشبہ کی ممانعت اسی طرح ہے جیسے دیگر ظاہری امور میں۔
تَشَبُّہ کے وسیع مفہوم کی وضاحت کے لئے اس کی کچھ مثالیں درج ذیل ہیں۔
▪اعتقادی امور میں تَشَبُّہ▪
عقائد میں مماثلت و مشابھت یعنی ایسے خیالات رکھنا، جن کا تعلق کفار کے عقائد سے ہو یا وہ اسلام کے کسی بنیادی عقیدہ کے خلاف ہو۔
جیسے یہ کہنا کہ انسان کو اس کے کرتوت کی سزا دنیا ہی میں مل جاتی ہے ۔
یہ بات جس طرح اسلام کے عقیدہ آخرت کے خلاف ہے ، ھندوؤں کے عقیدہ آوا گون سے مشابھت رکھتی ہے
کسی کے اعمال کی پوری جزا یا سزا دنیا میں ملنا، ممکن ہی نہیں ہے۔
مثلا ، جو شخص کئی لوگوں کا قاتل ہو ، کیا اسے سزا کے طور پر متعدد بار قتل کیا جا سکتا ہے ؟
ظاہر ہے دنیا میں ایسا نہیں ہو سکتا ، پھر تو کسی ایسی عدالت کا ہونا ناگزیر ہے ، جہاں اسے ، اس کے جرم کی مکمل سزا مل سکے ، اور یہ صرف ، اللہ تعالیٰ کی عدالت ہے ۔
افکار و خیالات میں تَشَبُّہ▪
یہود و نصاری اور مشرکین جیسی سوچ رکھنا
مثلا کوئی شخص کسی کو نسلی بنیاد پر اعلی و ارفع اور کسی کو کمتر سمجھے یعنی وہ انسانوں میں نسلی بنیاد پر اونچ ،نیچ کا قائل ہو ۔
اس طرح کا خیال یہود و نصارٰی کا ہے، وہ لوگ خود کو نسلی طور پر اعلی و ارفع سمجھتے ہیں اور دوسروں کو کمتر۔
: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
وَقَالَتِ الْیَهُوْدُ وَ النَّصٰرٰى نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللّٰهِ وَ اَحِبَّآؤُهٗؕ قُلْ فَلِمَ یُعَذِّبُكُمْ بِذُنُوْبِكُمْؕ بَلْ اَنْتُمْ بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَؕ ( المائدہ ۱۸)
اور یہودیوں اور عیسائیوں نے کہا: ہم اللہ تعالیٰ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں ۔ آپ کہئے ( اگر ایسا ہے تو) پھر وہ تمہیں ، تمہارے گناہوں پر عذاب کیوں دیتے ہیں؟
بلکہ تم (بھی) اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے (عام) آدمی ہو ۔
اس لئے اگر کوئی مسلمان یہ سمجھتا ہو کہ مسلمانوں کی بعض برادریاں بعض دوسری برادریوں سے اعلی و ارفع ہیں
تو وہ مسلمان، فکری طور پر یہود و نصاری اور بھارتی برہمنوں کے مشابہ ہے۔
اخلاق و معاشرت میں تَشَبُّہ▪
اخلاق و معاشرت میں تَشَبُّہ کی صورت یہ ہوگی کہ کوئی شخص غیر مسلموں کی مخصوص عادات و صفات کو اپنا ئے ۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ بَطَرًا وَّ رِئَآءَ النَّاسِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِؕ وَ اللّٰهُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ
(الانفال 47)
اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو اپنے گھروں سے اتراتے ہوئے ، لوگوں کو دکھانے کیلئے نکلتے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکتے ہیں اور ان کے سارے کام اللہ تعالیٰ کے قابو میں ہیں۔
اترانا ، دکھاوا کرنا اور اللہ تعالیٰ کی راہ سے لوگوں کو روکنا
یہاں تین باتوں کا ذکر ہوا ہے، اول الذکر دونوں باتیں تو واضح ہیں
مگر تیسری بات یعنی اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنے کا کیا مطلب ہے ؟
: امام طبری رحمة الله عليه فرماتے ہیں
ويصدون عن سبيل الله يقول: ويمنعون الناس من دين الله والدخول في الإسلام
(تفسير الطبري)
اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکنے کا مطلب ، اللہ تعالیٰ کے دین میں داخل ہونے سے روکنا ہے ۔
بر صغیر میں اللہ تعالیٰ کے دین سے روکنے کے کئی نئے طریقے بھی رائج ہیں
قرآن کریم کو سمجھکر پڑھنے سے روکنا، اس کے خلاف مہم چلانا، ذھن سازی کرنا مثلاً یہ کہنا کہ قرآن کریم سمجھنا صرف علماء کی ذمہ داری ہے ۔۔۔۔
دراصل املاء بدل کر (یعنی سمجھانے کی جگہ سمجھنا رکھ کر) مسلمانوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔
اور بعض کہتے ہیں کہ قرآن کریم سمجھنے کے لئے 14 یا 24 علوم میں مہارت ہونی ضروری ہے ، وغیرہ وغیرہ ۔
اس طرح کا خیال قرآن کریم کے مقصد نزول کی نفی کرتا ہے ۔
اللہ تعالیٰ نے ، قرآن کریم کے نازل کرنے کا مقصد یہ بتایا ہے کہ
اسے سمجھا جائے ، اس میں غور و تدبر کیا جائے
: ارشاد ہے
کتاب اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ
(ص 29 )
۔ (یہ قرآن کریم ) مبارک کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف نازل کی ہے، تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں غور وفکر کریں اور عقلمند ، اس سے نصیحت حاصل کریں۔
اور ھدی للناس ، لتبین للناس جیسے الفاظ متعدد بار قرآن کریم میں آئے ہوئے ہیں جس میں اس کے عام لوگوں کے لئے ھدایت ہونےکا تذکرہ ہے ۔
نیز یہ کہ قرآن کریم کا نزول ، عرب کے امیوں اور ان پڑھوں کے درمیان ہوا تھا، پھر بھی ان کی سمجھ میں آیا ۔
اور آج بھی عالمی سطح پر غیر مسلمین میں اسلام کی طرف رغبت کی بنیاد قرآن کریم ہے ۔
وہ اسے پہلے پڑھتے ، سمجھتے ہیں پھر اسلام کی حقانیت کو تسلیم کر کے حلقہ بگوش اسلام ہوجاتے ہیں۔
برادرانہ عصبیت ▪
بھارت میں برادران وطن کو اسلام سے دور رکھنے میں برادرانہ عصبیت کا اہم کردار ہے
یہاں کی اکثریتی آبادی ، جو صدیوں سے دبی کچلی اور پسماندہ ہے ، اور عرصے سے عزت نفس کی بازیابی کی جد و جہد میں لگی ہوئی ہے ، مگر مسلمانوں کے درمیان جاری برادرانہ عصبیت اور اونچ نیچ کی کشمکش نے ان کے سامنے اسلام کی شبیہ برہمن ازم جیسی بنا رکھی ہے ۔
لھذا ، اگر کوئی شخص مسلمانوں کے درمیان رائج ، برادرانہ عصبیت اور اونچ نیچ کی وجہ سے اسلام سے دور ہے ، تو اس کی ایمان سے محرومی کے ذمہ دار وہ لوگ بھی ہونگے ، جو اس برہمنی سوچ کے حامل ہیں۔
اسی طرح بدعہدی کرنا ، بے وفائی کرنا ، وعدہ کر کے مکر جانا بھی ، غیر مسلموں کی صفات ہیں
اگر کوئی مسلمان اس طرح کی غیر اخلاقی حرکتوں میں ملوث ہے ، تو وہ کفار کی اخلاقیات کو اپنانے کا مرتکب ہے۔
: اللہ سبحانہ و تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
وَلَا تَكُونُواْ كَٱلَّذِينَ قَالُواْ سَمِعْنَا وَهُمْ لَا يَسْمَعُونَ (انفال 21)
اور ان لوگوں کی طرح مت ہو جانا جو بات ماننے کا اقرار کرنے کے بعد ، اسے ان سنی کر دیتے ہیں ۔ یعنی اپنے وعدہ سے مکر جاتے ہیں ۔
تہذیب و روایات میں تَشَبُّہ ▪
یعنی غیر مسلموں کی مخصوص عادات تہذیب اور روایات کو اپنانا
جیسے جہیز کا مطالبہ کرنا ، لڑکیوں کو میراث سے محروم رکھنا وغیرہ
اللہ تعالیٰ نے وراثت کی تفصیل بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا
وَمَنۡ يَّعۡصِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَيَتَعَدَّ حُدُوۡدَهٗ يُدۡخِلۡهُ نَارًا خَالِدًا فِيۡهَا ۖ وَلَهٗ عَذَابٌ مُّهِيۡنٌ
( النساء 14)
اور جو ( تقسیم میراث میں) اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی حدود سے تجاوز کرے گا ، اللہ تعالی اس کو دوزخ میں داخل کریں گے ، جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کے لئے ذلت آمیز عذاب ہے ۔
بھارت کے مسلمانوں میں عام طور پر لڑکیوں ( بہنوں) کو میراث سے محروم رکھنے کا رواج ہے ، یہ بھی ایک ھندو روایت کے زیر اثر ہے۔
ہندوؤں کے یہاں لڑکیوں کے کنیا دان کرنے کی رسم ہے جس کے بعد ،مائکے سے ان کے سارے حقوق ختم ہو جاتے ہیں ، شادی کے بعد ان کا رشتہ ، محض اخلاقی رہ جاتا ہے ۔
اسی طرح بعض مسلمان بھی، والدین کی جائداد میں بہنوں کا حق نہیں دیتے ہیں کچھ تو ان کی وراثت کے عوض ہی اخلاق کا مظاہرہ فرماتے ہیں ۔
لڑکیوں کو وراثت کے حق سے محروم رکھنا ، در اصل ہندوؤں کی مذھبی روایت کی نقالی ہے۔
مگر حیرت اس بات پر ہے کہ
قرآن کریم کی سخت تنبیہ اور وعید کے باوجود لڑکیوں کو ان کے حق وراثت سے محروم رکھا جاتا ہے ، کس قدر جرئت کی بات ہے ؟
عملی تشبہ ▪
مسلمانوں کے درمیان گروپ بندی کرنا ، خود کو برحق اور جنتی تصور کرنا اور دوسروں کو گمراہ سمجھنا بھی یہود و نصاری کا شیوہ رہا ہے۔
: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ لَیْسَتِ النَّصٰرٰى عَلٰى شَیْءٍ ۪وَّ قَالَتِ النَّصٰرٰى لَیْسَتِ الْیَهُوْدُ عَلٰى شَیْءٍۙ وَّ هُمْ یَتْلُوْنَ الْكِتٰبَؕ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ مِثْلَ قَوْلِهِمْۚ فَاللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ
( البقرہ ۱۱۳)
اور یہودی کہتے ہیں کہ نصرانی صحیح راستے پر نہیں اور نصرانی بولتے ہیں کہ یہودی صحیح راستے پر نہیں ہیں ، حالانکہ وہ دونوں کتاب پڑھتے ہیں ، اسی طرح جاہلوں نے بھی ان کی سی بات کہی ۔ اللہ تعالی قیامت کے دن ان کے مابین فیصلہ کریں گے جس بات میں وہ جھگڑ رہے ہیں۔
ر صغیر کے مسلمانوں میں موجود کچھ جماعتیں، بعض فروعی اختلافات کی بنیاد پر ایک دوسرے کو گمراہ سمجھتی ہیں ، جب کہ ان سب کی بنیاد قرآن و سنت ہے، اور سبھی ان کو ماننے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں
ایسے مسلمان ، فکری وعملی طور پر ان بنی اسرائیل کی طرح ہیں، جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا ہے ۔
نیز یہ کہ بنی اسرائیل نے جس طرح اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ہوتے ہوئے، دوسری کتابوں کو مصدر ہدایت بنایا لیا تھا
اسی طرح اگر کوئی مسلمان یہ سمجھتا ہے کہ قرآن کریم کا متبادل یا نعم البدل دوسری کتابیں بھی ہیں ، جو اس کی ھدایت کے لئے کافی ہیں ، اور اب انہیں قرآن کریم کی ضرورت نہیں ہے
تو وہ بھی یہود و نصاری کے ساتھ تشبہ کا مرتکب ہے ۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں۔
وَلَا تَكُونُواْ كَٱلَّذِينَ تَفَرَّقُواْ وَٱخْتَلَفُواْ مِنۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ ٱلْبَيِّنَٰتُ ۚ وَأُوْلَٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ
(آل عمران 105)
ان لوگوں کی طرح مت ہو جانا جو اللہ تعالیٰ کی واضح آیات کے نازل ہونے کے بعد فرقوں میں تقسیم ہوکر اختلافات میں پڑ گئے، ان لوگوں کے لئے بڑا عذاب ہے ۔
فرقوں میں پڑنا اور اللہ تعالیٰ کی کتاب کو چھوڑ کر دوسری کتابوں کو سرچشمہ ھدایت سمجھنا ، بنی اسرائیل کا شیوہ رہا ہے
صوری تشبہ
وضع قطع اور شکل و شباھت ایسی بنالینا کہ غیر مسلم ہونے کا شائبہ ہونے لگے ، یہ صوری تشبہ ہے ۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر مسلموں کی وضع و قطع اور شباھت بنانے سے منع
: فرمایا
حضرت عبدالله بن عمرو بن العاص رضي الله عنه روایت کرتے ہیں کہ
عن عبد الله بن عمرو بن العاص رضی الله عنه قال
رَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ ثَوبَينِ مُعَصفَرَينِ
: فَقَالَ
إِنَّ هَذِهِ مِن ثِيَابِ الكُفَّارِ فَلا تَلبَسهَا (مسلم )
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دو زعفرانی رنگ کے کپڑوں میں دیکھا
: آپ نے ارشاد فرمایا
یہ کفار کا لباس ہے ، اسے مت پہنو ۔
گویا، سادھوؤں، پادریوں ، ربیوں جیسا لباس پہننا ، کراس لگانا اسلام میں ممنوع ہے۔
سوال پیدا ہوتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض جزوی امور میں بھی ، یہود و نصاری اور مشرکین کی مخالفت کا حکم دیا ہے ، جس سے ان کی ایسی مشابھت نہیں ہوتی ہے کہ شناخت مشکل ہو ۔
مثلا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
(2) غیروا الشیب ولا تشبھوا الیھود
( نسائی)
بڑھاپے کو تبدیل کرو اور یہود کی مشابھت مت اپناؤ
یعنی بالوں کو رنگین بناؤ۔
(2) ان اليهود والنصاري لا يصبغون فخالفوهم ( بخاري ،مسلم )
یہود و نصاری (اپنے بالوں کو) رنگین نہیں کرتے ہیں،تم ان کی مخالفت کرو یعنی رنگین کرو ۔
: قال الإمام النووی رحمه الله
ومذهبنا استحباب خضاب الشيب للرجل والمرأة بصفرة أو حمرة۔
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کہ مردوں اور عورتوں دونوں کو پیلے یا لال خضاب لگانا مستحب ہے۔
(3) خالفوا اليهود والنصارى فإنهم لا يصلون في نعالهم ولا خفافهم)
(سنن ابو داؤد)
جوتوں اور خفین پہنکر نماز ادا کرو اور یہود کی مخالفت کرو کیونکہ وہ ایسا نہیں کرتے ہیں
( ابو داؤد)
جب کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ننگے پاؤں اور جوتے پہنکر دونوں حالتوں میں نماز ادا کرتے تھے ۔
عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي حافيا ومنتعلاً
(احمد ،ابو داؤد ،ابن ماجه)
علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ ، اس حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں
ففي هذا بيان أن صلاتهم في نعالهم، وأن ذلك كان يفعل في المسجد إذا لم يكن يوطأ بهما على مفارش أ.هـ. من الفتوى الكبرى۔
نماز جوتے پہنکر ہو جائیگی بشرطیکہ جوتے صاف شفاف ہوں اور اس سے فرش آلودہ نہ ہو ۔
یعنی موجودہ زمانے میں ننگے پاؤں ہی پڑھنا چاہئے ۔
اس طرح کی مخالفت کے احکام کو علماء کرام نے محض استحباب کے درجہ میں رکھا ہے
ظاہر ہیکہ اگر اس طرح کی مخالفت محض استحبابی ہے ، تو یہ من تشبه بقوم فهو منهم کے دائرہ میں نہیں آئیگی۔
نیز تشبہ کے احکام کا تعلق ان ممالک اور ریاستوں سے ہے ، جہاں اسلام غالب آ چکا ہو ۔
چنانچہ اس طرح کے سارے ارشادات ، مدینہ سے تعلق رکھتے ہیں ۔
اور ان ارشادات سے جہاں پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش نظر، ایک ممتاز و غالب امت کی تشکیل تھی ، وہیں پر یہ ( تشبہ بالکفار کی مخالفت ) جنگی ضرورت بھی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تلواروں کے زمانے میں اثناء جنگ دوست و دشمن کی شناخت ایک بڑا مسئلہ تھا
: علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں
ان المخالفة لهم لا تكون الا مع ظهور الدين وعلوه كالجهاد والزامهم بالجزية والصغار فلما كان المسلمون في اول الامر ضعفاء لم تشرع المخالفة لهم فلما كمل الدين وظهر وعلي شرع ذلك
(اقتضاء الصراط المستقيم)
کافروں کی مشابہت کی مخالفت اُس وقت واجب اور ضروری قرار دی گئی، جب اسلام کو غلبہ حاصل ہوگیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور ابتدائی دور میں جب مسلمان کمزور تھے اس وقت تشبہ کی کھلی مخالفت کا حکم نہیں دیا گیا۔
پھر جب دین مکمل ہوا اور پوری طرح غالب آ گیا تو مخالفت کا باقاعدہ حکم دیا گیا۔
اس لئے مسلمانوں کو ظاہری اور امتیازی شناخت بنانے اور تشبہ بالکفار کی مخالفت کا حکم اس جگہ ہے جہاں اسلام غالب ہو ، مگر جہاں مسلمان کمزور ہیں وہاں حکمت کے پیش نظر اس طرح کے ظاہری تشبہ میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
البتہ غیر مسلموں کے عقائد ،عبادات ، شعار اور مذھبی امور میں تشبہ کہیں بھی درست نہیں ہے
واللہ تعالیٰ اعلم وعلمہ اتم واحکم ۔