اسلام ایک مکمل دین ہے، جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم اور اپنیپاکیزہ سنت کے ذریعہ امت تک پہونچا دیا ہے ۔
اب اس میں کسی طرح کے اضافے کی گنجائش باقی نہیں ہے۔
البتہ ہر زمانے میں حالات کے پیش نظر قرآنی آیات و احادیث مبارکہ میں تشریحات کا سلسلہ جاری رہیگا ، جو وقت کے معتبر علماء دین کرتے رہیں گے ۔

مگر کسی نئے عقیدے ، عمل یا عبادت کو دین میں شامل کرنے یا دین میں کسی طرح کی بے اعتدالی یعنی اسلام کے اہم احکامات کو غیر اہم اور غیر اہم کو اہم ، قرار دینے کی اجازت نہیں ہے ۔

کوئی بھی عقیدہ ، عبادت یا عمل جس کی بنیاد قرآن کریم یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں نہ ہو، اسے “بدعت” کہتے ہیں ۔

: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
ٱلۡيَوۡمَ أَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِينَكُمۡ وَأَتۡمَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ نِعۡمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ ٱلۡإِسۡلَٰمَ دِينٗا
(المائدة: 3)

آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا، اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی، اور تمہارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کر لیا۔

: بدعت کی تعریف

بدعت عربی زبان کا لفظ ہے، جس کا مطلب ہے نئی چیز ایجاد کرنا۔

: اصطلاحی معنی

ہر وہ نیا عقیدہ ، عمل ، عبادت جو دین میں شامل کی جائے، جب کہ اس کی بنیاد قرآن کریم ، احادیث مبارکہ میں نہ ہو، “بدعت” کہلاتا ہے۔

: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
«مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ»
(صحيح البخاري، صحيح مسلم)
جس نے ہمارے دین میں کوئی نئی چیز ایجاد کی جو اس میں نہیں ہے، وہ مردود ہے۔

: بدعت کی قسمیں

علماء کرام نے بدعت کی دو قسمیں بیان کی ہیں

بدعت اعتقادی

یہ وہ بدعت ہے جو عقیدے میں شامل کر لی جائے اور اس کی دلیل قرآن کریم یا نبی کریمﷺ کی سنت میں نہ ہو ۔

اللہ تعالیٰ قرآنی احکامات کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں

وَأَنَّ هَٰذَا صِرَٰطِي مُسْتَقِيمٗا فَٱتَّبِعُوهُۖ وَلَا تَتَّبِعُوا۟ ٱلسُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمۡ عَن سَبِيلِهِۦۚ
(الأنعام: 153)
اور میرا سیدھا راستہ یہی ہے، لہذا اسی پر چلو اور دیگر راستوں پر مت چلو، ورنہ وہ تمہیں اللہ تعالیٰ کے راستے سے ہٹا دیں گے۔

بدعت عملی

عبادات اور اعمال میں کسی طرح کا اضافہ کرنا جو نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرامؓ سے ثابت نہ ہو۔
جیسے کوئی مستقل نماز ، روزہ وغیرہ ایجاد کرنا یا نماز ، ذکر ، دعا وغیرہ ، کسی ایسے طریقے پر شروع کرنا جو نہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو نہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ، عملی بدعت ہے ۔

: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
«سَتَرَوْنَ بَعْدِي أُمُورًا تُنْكِرُونَهَا»
(صحيح البخاري، صحيح مسلم)
میرے بعد تم دیکھو گے کہ کچھ لوگ دین میں نئی چیزیں پیدا کریں گے، پس تم انہیں رد کر دینا۔

▪️ترجیحات میں بے اعتدالی،فکری بدعت▪️

اسلام ایک متوازن دین ہے، جو اعتدال، حکمت اور ترجیحات کے اصول پر قائم ہے۔
شریعت میں ہر حکم کی درجہ بندی اور اہمیت ہے، اس لئے دین کے کسی اہم کو غیر اہم یا غیر اہم کو اہم سمجھنا، بے اعتدالی اور فکری بدعت ہے۔

مثلا کوئی شخص فرائض و محرمات کو اہمیت نہ دے ۔
عبادتیں، حقوق ، اخلاقیات اور معاملات کے فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی کرے ، حقوق العباد کو پامال کرے ، جھوٹ، دھوکہ ، ظلم، غصب، خیانت، بددیانتی ، عہد شکنی ، غیبت جیسی سنگین برائیوں میں مبتلا ہو
مگر ساتھ ہی اپنی کچھ ظاہری عبادتوں اور وضع قطع سے صالحین کا رنگ اپناتا ہو
تو وہ دین کی حقیقی ترجیحات کو پس پشت ڈالنے والا اور خود فریبی میں مبتلا ہے۔

دین میں ترجیحات کا اصول

دین میں اعتدال لازم ہے۔ اسلامی تعلیمات میں فرائض و محرمات اور حقوق العباد کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔
جو شخص فرائض و محرمات کو اہمیت نہ دے کر غیر ضروری امور یعنی سنن و مستحبات پر زور دیتا ہے تو وہ دین کی اصل روح سے بھٹک گیا ہے۔
جیسے کوئی شخص نماز پنجگانہ تو پڑھتا ہے مگر اس کے ذمہ جو دوسرے فرائض ہیں ، ان کی پرواہ نہیں کرتا ۔
اسی طرح ایک شخص سال بھر فرض نمازیں بھی نہیں پڑھتا مگر رمضان میں تراویح وغیرہ کا خوب اہتمام کرتا ہے ، تو وہ دین اسلام کے مزاج کے خلاف عمل کر رہا ہے ۔

: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
إِنَّ ٱللَّهَ يَأْمُرُ بِٱلْعَدْلِ وَٱلْإِحْسَٰنِ وَإِيتَآءِ ذِى ٱلْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ ٱلْفَحْشَآءِ وَٱلْمُنكَرِ وَٱلْبَغْىِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ
(سورۃ النحل: 90)
بے شک اللہ تعالیٰ انصاف، احسان، اور رشتہ داروں کو ان کا حق دینے کا حکم دیتے ہیں، اور بے حیائی، برائی، اور ظلم سے روکتے ہیں، وہ تمہیں نصیحت کرتے ہیں تاکہ تم سبق حاصل کرو۔

ظاہری تقویٰ ، باطنی خیانت

عض لوگ ظاہری دینداری اور مذہبی وضع قطع کو اختیار کر کے خود کو نیکوکار ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر وہ خیانت بددیانتی، ظلم اور حقوق العباد کی پامالی میں ذرا بھی دریغ نہیں کرتے ۔
ایسے لوگوں کا یہ رویہ خود ان کے لئے خطرناک ہے ۔

: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
فَلَا تُزَكُّوا أَنفُسَكُمْ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَى (النجم32)
اپنی پارسائی مت ظاہر کرو اللہ تعالیٰ اچھی طرح جانتے ہیں کہ کون شخص کتنا متقی ہے ۔

نبی کریم ﷺ نے ایسے لوگوں کے بارے میں سخت وعید ارشاد فرمائی ہے

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ
“أَتَدْرُونَ مَا الْمُفْلِسُ؟
قَالُوا: الْمُفْلِسُ فِينَا مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ
فَقَالَ: “إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاةٍ وَصِيَامٍ وَزَكَاةٍ، وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هَذَا وَقَذَفَ هَذَا، وَأَكَلَ مَالَ هَذَا، وَسَفَكَ دَمَ هَذَا وَضَرَبَ هَذَا، فَيُعْطَى هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْضَى مَا عَلَيْهِ، أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ، فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ، ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ. (صحیح مسلم)

“تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟”
صحابہ نے عرض کیا: ہمارے نزدیک مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ درہم ہے اور نہ مال و اسباب۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: میری امت کا مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے دن بہت سی نماز، روزے اور زکوٰۃ لے کر آئے گا، مگر کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر بہتان لگایا ہوگا، کسی کا مال کھایا ہوگا، کسی کا خون بہایا ہوگا، کسی کو ناحق مارا ہوگا، تو ان لوگوں کو اس کی نیکیاں دے دی جائیں گی، یہاں تک کہ اگر اس کی نیکیاں ختم ہو گئیں اور بدلہ باقی رہ گیا، تو ان کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے اور پھر اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔

واضح ہے کہ عبادات کا اہتمام کرنے والا، اگر حقوق العباد میں خیانت کریگا ، تو وہ قیامت کے دن شدید خسارے میں ہوگا۔

اسلامی ترجیحات میں افراط و تفریط ، ایک فکری بدعت

دین میں افراط و تفریط یعنی انتہا پسندی اور بے اعتدالی کو ہمیشہ ناپسند کیا گیا ہے۔
اگر کوئی شخص فرائض کو نظر انداز کر کے مستحبات کو اہمیت دیتا ہے، یا کبیرہ گناہوں کو نظر انداز کر کے صغائر و مکروہات کو اہمیت دیتا ہے، تو وہ دراصل اسلامی احکام میں غیر متوازن طرزِ فکر کا شکار ہے۔

: نبی اکرم ﷺ نے فرمایا
إِيَّاكُمْ وَالغُلُوَّ فِي الدِّينِ، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِالغُلُوِّ فِي الدِّينِ. (سنن نسائی)

دین میں غلو (انتہا پسندی) سے بچو، کیونکہ تم سے پہلے لوگ اسی کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔
دین میں غیر متوازن ترجیحات اختیار کرنا ایک ہلاکت خیز روش ہے۔

دین میں فرائض کی اولین حیثیت ہے، اور نوافل و مستحبات فرائض کی تکمیل کا ذریعہ ہیں، نہ کہ فرائض کا متبادل۔

حقوق العباد کی پامالی، ظلم، خیانت اور بددیانتی ایک سنگین جرم ہے، اور اس کا مرتکب محض ظاہری عبادات سے اللہ تعالی کی پکڑ سے نہیں بچ سکتا۔

جو شخص دین میں ترجیحات کا لحاظ نہیں رکھتا اور خود کو صرف کچھ ظاہری عبادات کے ذریعے متقی باور کرانے کی کوشش کرتا ہے وہ حقیقت میں گمراہی اور فکری بدعت کا شکار ہے۔

اصل دینداری یہ ہے کہ ایمان، عبادات معاملات ، معاشرت اور اخلاقیات سب میں قرآن و سنت کی ہدایات پر عمل کیا جائے۔

▪️بدعت کے نقصانات▪️

بدعت سے دین کی اصل شکل بگڑ جاتی ہے اور حقیقی تعلیمات دھندلی پڑ جاتی ہیں۔

بدعت کا دوسرا بڑا نقصان یہ ہے کہ جب بدعت رائج ہوتی ہے تو سنت چھپ جاتی ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
: فرماتے ہیں
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ
لَا يَزَالُ النَّاسُ يَبْتَدِعُونَ بِدَعًا حَتَّىٰ تَكُونَ الْبِدْعَةُ سُنَّةً
(سنن الدارمی)

لوگ بدعتیں ایجاد کرتے رہیں گے یہاں تک کہ بدعت ہی (لوگوں کے نزدیک) سنت بن جائے گی۔

▪️بدعت جہنم کا راستہ ہے▪️

: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
«كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ، وَكُلُّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ»
(صحيح مسلم)
ہر نئی چیز بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے، اور ہر گمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے۔

بدعتی ، بدعت پر دین سمجھ کر عمل کرتا ہے اس لیے اسے اپنی غلطی کا احساس نہیں ہوتا اور نہ ہی اس سے وہ کبھی توبہ کر پاتا ہے ۔

▪️بدعت سے بچنے کے طریقے▪️

: قرآن و سنت کو مضبوطی سے پکڑنا

: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
وَمَا آتَىٰكُمُ ٱلرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَىٰكُمۡ عَنۡهُ فَٱنتَهُوا۟ۚ
(الحشر: 7)
اور رسول جو کچھ تمہیں دے، وہ لے لو، اور جس چیز سے منع کریں، اس سے باز رہو۔

نبی کریم ﷺ کی سنت پر عمل کرنا
: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ، تَمَسَّكُوا بِهَا، وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ
تم پر لازم ہے کہ میری اور میرے خلفاءِ راشدین کی سنت کو مضبوطی سے پکڑو۔

صحابہ کرامؓ کے طریقے پر عمل کرنا

: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنتُمْ بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوْا (البقرة: 137)

پس اگر وہ (دوسرے لوگ) بھی اسی طرح ایمان لے آئیں جیسے تم ایمان لائے ہو، تو وہ ہدایت پا جائیں گے۔

أصحابی کالنجوم بأيهم إقتديتم إهتديتم
( مشكل الأثار للطحاوي )
میرے صحابہ ستاروں کے مانند ہیں تم ان میں جس کی بھی پیروی کروگے ہدایت پاؤگے ۔

دین میں نئی چیزوں سے احتیاط برتنا

: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
إِنَّ أَصْدَقَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ، وَخَيْرَ الْهُدَى هُدَى مُحَمَّدٍ، وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا
(صحيح مسلم)
بے شک سب سے سچی بات اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے، اور سب سے بہترین ہدایت حضرت محمد ﷺ کی ہدایت ہے، اور سب سے بدترین امر دین میں نئی چیزیں ایجاد کرنا ہے ۔

ہر بدعت گمراہی ہے

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ:
أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ خَيْرَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ، وَخَيْرَ الْهُدَىٰ هُدَىٰ مُحَمَّدٍ، وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ

بے شک سب سے بہترین بات اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے، اور سب سے بہترین ہدایت حضرت محمد (ﷺ) کی ہدایت ہے، اور بدترین امور وہ ہیں جو (دین میں) نئے ایجاد کیے گئے ہوں، اور ہر بدعت گمراہی ہے۔

بدعت کا انجام جہنم ہے

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ
“كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ، وَكُلُّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ”

ہر بدعت گمراہی ہے، اور ہر گمراہی , جہنم میں پہوچنے کا ذریعہ ہے ۔

خلفاء راشدین رضي الله عنهم کا عمل بھی سنت ہے

عَنْ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ قَالَ: وَعَظَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مَوْعِظَةًن بَلِيغَةً وَقَالَ
فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي، وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ، تَمَسَّكُوا بِهَا وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ، فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ (سنن أبي داود، سنن الترمذي)

تم پر لازم ہے کہ میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلفاءِ راشدین کی سنت کو مضبوطی سے پکڑو، اور اسے اپنے دانتوں سے تھام لو، اور دین میں نئے امور سے بچو، کیونکہ ہر نیا کام بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے۔

دین میں ہر اضافہ بدعت ہے

عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ
لَا تَحْدُثُوا فِي دِينِ اللَّهِ مَا لَيْسَ فِيهِ، فَإِنَّ كُلَّ إِحْدَاثٍ بِدْعَةٌ (مسند أحمد)

اللہ تعالیٰ کے دین میں کوئی ایسی چیز مت داخل کرو جو اس میں نہ ہو، کیونکہ دین میں ہر نئی ایجاد بدعت ہے۔

بدعتی کے اعمال مردود ہیں

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ
مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ
(صحیح مسلم)

جس نے ایسا عمل کیا جو ہمارے طریقے پر نہیں ہے، تو وہ مردود ہے (قبول نہیں کیا جائے گا)۔

قیامت کے دن بدعتی کو حوضِ کوثر سے دور کر دیا جائے گا

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ
إِنِّي فَرَطُكُمْ عَلَى ٱلْحَوْضِ، فَلَا يُؤْتَيَنَّ أَحَدٌ بِكُمْ فَيُذَبُّ عَنِّي، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ إِنَّهُ مِنِّي، فَيُقَالُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَ بَعْدَكَ
(صحیح البخاری، صحیح مسلم)

میں تم سے پہلے حوض (کوثر) پر پہنچ جاؤں گا لیکن کچھ لوگ وہاں آئیں گے جنہیں میرے پاس آنے سے روک دیا جائے گا، میں کہوں گا: اے میرے رب! یہ تو میری امت کے لوگ ہیں، تو کہا جائے گا: آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کچھ نیا ایجاد کیا تھا۔

خلاصہ

بدعت دین میں بغیر کسی دلیل کے شامل کی گئی نئی چیز ہے جو سنت کو ختم کر دیتی ہے اور دین میں بگاڑ پیدا کرتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم قرآن کریم اور احادیث مبارکہ پر عمل کریں اور بدعات سے بچیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں بدعات سے محفوظ رکھیں اور خالص سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔

آمین

Tashreeh Updates 👋

Get new articles in your inbox.

We don’t spam! Read our privacy policy for more info.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *