اللہ تعالیٰ کی ذاتِ گرامی، اپنی خوبیوں و کمالات میں یکتا اور بے مثال ہے ، جس نے عدم کے پردوں کو چاک کر کے وجود کی خوبصورت کہانی رقم کی۔ خلاؤں کو وسعت عطا کی ، خاموشی کو نغمگی بخشی ۔
صرف ایک کلمۂ “کُن”سےکائنات کو تخلیق کا جامہ پہنایا۔
وہ بے مثال مصور ہے جس نے نیلگوں آسمانوں کو، کہکشاؤں کے نگینوں سے، آراستہ کیا۔
ستاروں کو نور کے زیور پہنائے ، چاند کو رات کا جھومر بنایا ، گل و لالہ کی مخملی چادر بچھا کر زمین کا حسن دوبالا کیا ۔
سمندر کی گہرائی کو آبی عجائب اور موتیوں سے سجایا ، ہواؤں میں سانسوں کی مٹھاس گھولی۔
اور یہ سب کچھ انسانوں کے لئے مسخر کر دیا ۔
وَسَخَّرَ لَكُم مَّا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِّنْهُ (الجاثیة)
اور اللہ تعالیٰ نے آسمانوں ، زمین میں جو کچھ بھی ہے تمھارے لئے مسخر فرمایا ۔
3خاک سے بنے انسان کو اپنی تخلیق کا شاہکار بنایا، وجود بخشا، عقل و شعور کی روشنی عطا کی، اور اس کے دل کے نہاں خانوں میں اپنی معرفت کا چراغ روشن کیا۔
انسان ، جس کی حیثیت ، کائنات کے بحر بیکراں میں ایک ذرہ سے زیادہ کچھ بھی نہیں، اسے اشرف المخلوقات اور اپنی نعمتوں کا امین بنا دیا
وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِیْۤ اٰدَمَ وَ حَمَلْنٰهُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلٰى كَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلًا
(الإسراء )
اور بیشک ہم نے اولادِ آدم کو عزت بخشی اور انہیں خشکی اور تری میں سوار کیا اور ان کو صاف ، ستھری چیزوں سے رزق دیا اور انہیں اپنی بہت سی مخلوق پر برتری عطا کی ۔
وہ ربّ رحمن ہے، جس کی رحمت انسان چرند پرند، پیڑ، پودے حتیٰ کہ بے جان پتھروں پر بھی سایہ فگن ہے۔
وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ (الأعراف )
اور میری رحمت ہر چیز پر وسیع ہے ۔
وہ غفور و رحیم ہے، جو گناہوں کے انبار پر مغفرت کی بارش برساتا ہے، خطاؤں پر نظر کرم ڈالتا اور عذر کو شرف قبولیت بخشتا ہے۔
نَبِّئْ عِبَادِي أَنِّي أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيم (الحجر)
میرے بندوں کو بتا دو کہ میں بہت معاف کرنے والا ، رحم کرنے والا ہوں ۔
وہ علیم و خبیر ہے، جو دلوں کی دھڑکنوں نیتوں کے راز، اور آنکھوں کی نمی سے بھی واقف ہے۔
وَأَنَّ اللَّـهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ ( المائدة)
اور بے شک اللہ تعالي ہر چیز کو جاننے والے ہیں۔
وہ سمیع و بصیر ہے، جو رات کی تنہائیوں میں ٹپکتے آنسوؤں کو دیکھتا ، اور دل کی بے زبان آہوں کو سنتا ہے۔
إِنَّ اللَّـهَ لاَ يَخْفَىٰ عَلَيْهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ۔ ( آل عمران)
بے شک اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز بھی چھپی ہوئی نہیں ہے ، نہ زمین میں نہ آسمان میں۔
إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ بَصِيرٌ( الملک)
بے شک وہ ہر چیز کو دیکھنے والا ہے۔
! ذرا سوچئے
ایک ماں کی ممتا، جب اپنے ننھے منے بچے کي معمولی صدا پر تڑپ جاتی ہے۔ تو وہ پالنہار جو بے شمار ماؤں سے زیادہ مہربان ہے ، جس کے خزانے میں کوئی کمی نہیں آتی، جو غنی اور مغنی ہے ۔
کیا وہ اپنے بندے کی فریاد سے غافل رہ سکتا ہے؟
کیا وہ اپنے بندے کی آہ و زاری کو نظر انداز کریگا ؟
! ہرگز نہیں
: وہ خود فرماتا ہے
أدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ. ( الغافر )
مجھے پکارو میں تمہاری پکار سنوں گا ۔
اس ربّ کریم نے قرآنِ حکیم میں بار بار اپنا تعارف کرایا ہے ، تاکہ بندوں کو اپنے مالک کی عظمت و کبریائی کا ادراک ہو ۔
اور وہ اپنی حاجتیں ، ضرورتیں ، درد و دکھ اور پریشانیاں اپنے مشکل کشا ، حاجت روا پالنہار کے سامنے رکھ سکیں۔
چنانچہ ارشاد ہے
قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ٭ اللَّهُ الصَّمَدُ ٭ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ ٭ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ۔ (الإخلاص)
کہ دو: وہ اللہ یکتا ہے۔ اللہ بے نیاز ہے۔
نہ اس کی کوئی اولاد ہے ، نہ وہ کسی کی اولاد ہے ۔
اور نہ ہی کوئی اس کے برابر ہے۔
اللَّـهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ (الزمر)
الله تعالي ہر چیز کے خالق اور ہر چیز پر نگہ بان ہیں۔
أن اللّٰهُ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَن يَشَاءُ وَيَقْدِرُ (الزمر)
اللہ تعالیٰ جس کے لیے چاہتے ہیں رزق کو کشادہ کرتے ہیں اور تنگ کرتے ہیں ۔
يُدَبِّرُ الْأَمْرَ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ (السجدۃ)
وہ آسمان سے زمین تک تمام کاموں کی تدبیر فرماتے ہیں۔
وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّـهِ رِزْقُهَا (هود)
روئے زمین پر جو بھی مخلوقات ہیں سب کا رزق اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے ۔
عِندَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ( الأنعام)
غیب کی کنجیاں اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں ان کے سوا انہیں کوئی نہیں جانتا۔
وَكَفَىٰ بِرَبِّكَ هَادِيًا وَنَصِيرًا (الفرقان)
اور اے نبی، رہنما اور مدد گار ہونے کے اعتبار سے آپ کا رب کافی ہے ۔
لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ يُحْيِي وَيُمِيتُ ۚ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ۔ (الحدید)
آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے ، زندگی اور موت وہی دیتے ہیں اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والے ہیں۔
لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ ۖ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ۔ (الشورى)
اللہ تعالیٰ جیسا کوئی نہیں، اور وہ خوب سننے والے، خوب دیکھنے والے ہیں۔
وَرَبُّكَ الْغَنِيُّ ذُو الرَّحْمَةِ ۚ إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَسْتَخْلِفْ مِن بَعْدِكُم مَّا يَشَاءُ۔ (الأنعام)
اور آپ کا رب بے نیاز ہے، رحمت والا ہے، اگر چاہے تو تمہیں ہلاک کر دے اور تمہاری جگہ جسے چاہے لے آئے ۔
أَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ (النمل)
بھلا وہ کون ہے جو بےقرار و مجبور کی دعا سنتا ہے اور تکلیف کو دور کرتا ہے؟
قُل لَّا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّـهُ (الأعراف)
اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجیے کہ میں اپنی ذات کے لیے بھی نفع یا نقصان کا مالک نہیں سوائے اس کے جو اللہ تعالیٰ چاہیں۔
حضرت عبداللہ بن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا
وَإِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ ٱللَّهَ، وَإِذَا ٱسْتَعَنْتَ فَٱسْتَعِنۢ بِٱللَّهِ، وَٱعْلَمْ أَنَّ ٱلْأُمَّةَ لَوِ ٱجْتَمَعَتْ عَلَىٰٓ أَن يَنفَعُوكَ بِشَىْءٍۢ لَمْ يَنفَعُوكَ إِلَّا بِشَىْءٍۢ قَدْ كَتَبَهُ ٱللَّهُ لَكَ، وَإِنِ ٱجْتَمَعُوا۟ عَلَىٰٓ أَن يَضُرُّوكَ بِشَىْءٍۢ لَمْ يَضُرُّوكَ إِلَّا بِشَىْءٍۢ قَدْ كَتَبَهُ ٱللَّهُ عَلَيْكَ، رُفِعَتِ ٱلْأَقْلَٰمُ وَجَفَّتِ ٱلصُّحُفُ. ( ترمذي)
جب تم سوال کرو تو صرف اللہ تعالیٰ سے کرو
اور جب مدد مانگو تو صرف اللہ تعالیٰ سے مانگو۔
اور جان لو! اگر ساری اُمت (دنیا کے سارے لوگ) تمہیں کوئی فائدہ پہنچانے پر جمع ہو جائیں، تو بھی وہ تمہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے
مگر وہی جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے۔
اور اگر وہ سب تمہیں نقصان پہنچانے پر متحد ہو جائیں
تو وہ تمہیں کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے
مگر وہی جو اللہ تعالیٰ نے تم پر لکھ دیا ہے۔ قلم اُٹھا دیے گئے ہیں اور صحیفے خشک ہو چکے ہیں (یعنی تقدیر لکھ دی گئی ہے)۔
ایسے بے مثال، بے نظیر پروردگار کی صفات و کمالات سمجھنا ان پر غور و فکر کرنا ، اس کی نعمتوں و احسانات کا تذکرہ ، اس سے دعاواستغفار، اور زندگی کے تمام لمحات میں اس کی رضامندی کا خیال رکھنا ہی ذکر اللہ ہے۔
ذکر ، در اصل دل کے جھکاؤ، روح کی لرزش آنکھوں کی نمی، اور بندگی کے جذبات سے لبریز ایک مکمل کیفیت کا نام ہے۔
ذکر ، انسان کو بندگی کا شعور دیتا ہے زندگی کو اس کا حقیقی مقصد عطا کرتا ہے۔
ذکر ، دل کو سکون بخشتا اور روح کو بلندی کی طرف لے جاتا ہے۔
ذکر ، اللہ تعالیٰ کی عظمت و کبریائی کے احساس کے ساتھ ، خوف و خشیت سے لرزہ دل کی گہرائیوں سے اُٹھنے والی صدا ہے، جو بندے کو اس کے خالق سے جوڑ دیتی ہے۔
: ذکر کا لغوی معنی
یاد کرنا، تذکرہ کرنا، بیان کرنا ہے۔
الذِّكْرُ نقيضُ النسيانِ، وهو الحِفْظُ للشيء. (لسان العرب)
ذکر، بھول کے ضد ہے اور کسی چیز کو یاد کرنا یا یاد رکھنا ، ذکر کہلاتا ہے۔
اصطلاح میں “ذکر اللہ” سے مراد اللہ تعالیٰ کو دل سے یاد کرنا، زبان سے ان کی بڑائی بیان کرنا اور ان کی اطاعت و فرمانبرداری کرنا ہے۔
قرآن کریم میں ذکر متعدد معنوں میں استعمال ہوا ہے.
یاد کرنا ، پکارنا
وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ فِیْ نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَّ خِیْفَةً وَّ دُوْنَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ وَ لَا تَكُنْ مِّنَ الْغٰفِلِیْنَ(الأعراف)
اور اپنے رب کو دل ہی دل میں عاجزی اور خوف کے ساتھ صبح و شام پکارو مگر اونچی آواز میں نہیں اور غافلوں میں سے نہ ہوجانا۔
: حدیث قدسی ہے
وأنا معه إذا ذكرني
میں اپنے بندے کے ساتھ ہوتا ہوں جب وہ مجھے یاد کرتا / پکارتا ہے ۔ (صحیح بخاری )
فَاذۡكُرُوۡنِىۡٓ اَذۡكُرۡكُمۡ وَاشۡکُرُوۡا لِىۡ وَلَا تَكۡفُرُوۡنِ (البقرہ )
تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کروں گا اور میرا شکر ادا کرتے رہو اور میری ناشکری نہ کرو۔
یعنی کسی عمل کے وقت تم میرے حکم کو یاد رکھو، میں تم کو اس عمل کی جزا سے یاد کروں گا ۔
تم مجھے عبادت اور اطاعت سے یاد کرو میں تم کو اجر و ثواب سے یاد کروں گا ۔
تم مجھے دعا و التجا کی درد بھری آواز سے پکارو گے ، تو میں تم پر اپنی عطاؤں اور رحمتوں کی بارش برسا دوں گا۔
یاد رکھئے ذکر محض تسبیح کے دانوں کو شمار کرنے کا نام نہیں، بلکہ دل کے اخلاص ، عمل کی سچائی اور نیت کی صفائی کا نام ہے۔
اسی طرح شکر گزاری صرف زبان کی مدح سرائی نہیں، بلکہ دل کے جھکاؤ، عمل کی وفاداری اور نعمتوں کا اعتراف ہے۔
نصیحت ، قرآن کریم ۔
اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّكۡرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰـفِظُوۡنَ
بیشک ہم نے ہی نصیحت( قرآن کریم) نازل کیا ہے اور بیشک ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔
وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِى فَإِنَّ لَهُۥ مَعِيشَةًۭ ضَنكًۭا (طٰہٰ)
اور جو میرے ذکر ( میرے نازل کردہ قرآن ) سے منہ موڑےگا اس کی زندگی تنگ ہو جائیگی ۔
ومن أعرض عن ذكري، أي خالف أمري وما أنزلته على رسولي (ابن کثیر )
تذکرہ کرنا ، بیان کرنا ۔
ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهٗ زَكَرِیَّا ( مريم)
یہ بيان ہے تیرے رب کی اس رحمت کا جو اس نے اپنے بندہ زکریا پر کی.
ہمارے آئڈیل ، حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی اللہ تعالیٰ کے ذکر ( یاد ) سے لبریز تھی ۔
اور کیوں نہ ہو ؟
جب سب سے بڑی چیز، اللہ تعالیٰ کا ذکر ( یاد ) ہی ہے ۔
: ارشاد ہے
ولذكر الله أكبر ( العنكبوت)
اور اللہ تعالیٰ کی یاد سب سے بڑی چیز ہے ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں
أَلَا أُنَبِّئُكم بِخَيْرِ أعمالِكُم ، وأَزْكاها عِندَ مَلِيكِكُم وأَرفعِها في دَرَجاتِكُم ۔۔۔۔۔۔ قال : ذِكْرُ اللهِ۔ (ترمذی ، ابن ماجہ)
کیا میں تمہیں تمہارے سب سے بہترین عمل کے بارے میں نہ بتاؤں؟… وہ اللہ کی یاد ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ذکر ، زندگی کو راہ راست پر لانے کا سب سے بہتر ذریعہ ہے
اگر انسان کو اللہ تعالیٰ کی صفات و کمالات کا علم اور اپنے حقیقی محسن کی معرفت ہو تو لازمی طور، اس کا دل و دماغ اسے بار بار متنبہ کریگا کہ
خبردار ! ایسا کوئی عمل نہ کرنا جو تمھارے پالنہار کی ناراضگی کا موجب بنے ۔
کیونکہ ۔۔۔۔
تمہارا رب ہر وقت تمہیں دیکھ رہا ہے ۔
تمھارا ہر عمل اس کے دفتر میں ریکارڈ ہو رہا ہے ۔
اور تمھیں آخرت میں اس کے سامنے کھڑا ہونا اور اپنے ہر عمل کا جواب دینا ہے ۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں ۔
وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَى ( النازعات )
اور جو اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہی کے لئے کھڑا ہونے سے ڈرا اور اس ڈر کی بنیاد پر خود کو خواہشات نفس کی پیروی سے روک لیا اس کا ٹھکانہ جنت ہے ۔
حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر یہ ہے کہ انسان گناہ کا ارادہ بنائے اور اسے خیال آجائے کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دینا ہے اور پھر اس سے باز آ جائے ۔
هو الرجل يُهمّ بالذنب، ثم يذكر مقام الله عليه فيتركه ( ابن کثیر )
ایک شخص ، کسی گناہ کا ارادہ کرے، پھر اسے اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہونے کا خیال آئے اور وہ اللہ تعالیٰ سے ڈر کر اپنے ارادے سے باز آ جائے ۔
اللہ تعالیٰ نے نماز کا مقصد بھی ذکر الہی قرار دیا ہے ۔
ارشاد فرمایا۔
إِنَّنِي أَنَا اللَّـهُ لَا إِلَـهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدْنِي وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي (طه)
بے شک میں ہی اللہ ہوں میرے سوا کوئی معبود نہیں لہذا میری ہی عبادت کرو اور نماز میری یاد کے لئے قائم کرو ۔
اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تعلیم دی کہ
ہر عمل کی ابتداء اللہ تعالیٰ کے نام (بسم اللہ)سے ہو
اور ہر نعمت پر ، الحمدللہ کہکر ، اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جائے۔
آپ ﷺ ہر لمحہ اپنے رب کی یاد میں محو رہتے تھے ۔
: گھر سے نکلتے ہوئے کہتے
بسم اللّٰه توکلت علی الله
اللہ تعالیٰ کے نام سے میں نکل رہا ہوں اور میں نے اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ کیا ۔
: گھر میں داخل ہوتے ہوئے فرماتے
اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَسْئَلُكَ خَیْرَ الْمَوْلَجِ وَخَیْرَ الْمَخْرَجِ بِسْمِ اللّٰهِ وَلَجْنَا، وَعَلَی اللّٰهِ رَبِّنَا تَوَکَّلْنَا۔
اے اللہ! میں آپ سے سوال کرتا ہوں کہ میرے اپنے گھر میں آنے ، جانے کو بہتر بنادیں ۔
ہم اللہ تعالیٰ کا نام لے کر داخل ہوئے، اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیا۔
: کھانے سے پہلے فرماتے
بِسْمِ اللّٰه وَعَلٰی بَرَكَةِ اللّٰه
اللہ تعالیٰ کے نام سے اور اسی کی برکت پر کھاتا ہوں
کھانے کے بعد اللہ تعالٰی کا شکر بجا لاتے، اور کہتے
الْحَمْدُ لِلّٰه الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ
شکر ہے اس رب کا، جس نے ہمیں کھلایا، پلایا اور ہمیں اسلام کی نعمت سے نوازا
: سونے سے قبل کہتے
اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَمُوتُ وَأَحْيَا
اے اللہ! میں آپ کے نام پر سوتا ہوں اور آپ کے نام پر جاگتا ہوں
: بیدار ہوتے وقت فرماتے
الْحَمْدُ لِلّٰه الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ
شکر ہے اس اللہ تعالیٰ کا جس نے ہمیں نیند کی موت کے بعد زندگی بخشی اور ہم اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے
مسجد میں داخل ہوتے وقت زبان پر ہوتا
اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ
اے اللہ! میرےa لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دیجئے
مسجد سے نکلتے ہوئے یا روزی کی تلاش میں جاتے وقت فرماتے
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ
اے اللہ! میں آپ سے آپ کے فضل کا سوال کرتا ہوں
غرضیکہ آپ ﷺ کی کوئی بھی نشست و برخاست اللہ تعالیٰ کے ذکر سے خالی نہیں تھی
مگر واضح رہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر اللہ کے ان کلمات کے لئے کہنے اور بولنے کا لفظ استعمال کیا ہے، پڑھنے کا نہیں۔
اور کہنے اور بولنے کا تعلق زبان کے ساتھ دل و دماغ اور سمجھ بوجھ سے بھی ہوتا ہے ۔
مطلب صاف ہے کہ ذکر کا درجہ انہیں کلمات کو حاصل ہوگا جو سمجھکر بولے جائیں.
بنا سمجھے بوجھے بچوں کی طرح محض الفاظ کا ورد ، مطلوبہ ذکر کے دائرے میں نہیں آئیگ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو نماز کے اذکار پر بھی اجر و ثواب کے لئے، انہیں سمجھنے کی شرط لگائی ہے۔
: چنانچہ ارشاد ہے
ان العبد ليصلي الصلاة لا يكتب له سدسها ولا عشرها وانما يكتب للعبد من صلاته ما عقل منها
(مسند احمد ، ابو داود ، نسائي ، ابن حبان)
بندہ نماز ادا کرتا ہے، اس کے لیے اس کی نماز کا چھٹا، اور نہ ہی دسواں حصہ لکھا جاتا ہے۔
بلكہ بندے کے لئے اس کی نماز میں سے اتنا ہی لکھا جاتا ہے ( اتنا ہی اجر ملتا ہے ) جتنا اس نے سمجھکر ادا کیا ہے۔
یہ حدیث کئی جگہ ملتے جلتے الفاظ میں مذکور ہے
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ
ليس لك من صلاتك، إلاَّ ما عقلت منها
تمہیں تمہاری نماز میں سے اتنا ہی ملیگا جتنا تم نے سمجھکر ادا کیا ہوگا ۔
امام غزالی رحمة اللہ عليه احیاء العلوم میں لکھتے ہیں
وقال عبد الواحد بن زيد أجمع العلماء على أنه ليس للعبد من صلاته إلا ما عقل منها فجعله إجماعا وما نقل من هذا الجنس عن الفقہاء المتورعین و علماء الأخرة اكثر من أن يحصي
کہ عبدالواحد بن زید کہتے ہیں کہ اس بات پر علماء کا اجماع ہے کہ بندے کو اس کی نماز میں سے اتنا ہی( اجر ) ملیگا ، جتنا اس نے سمجھکر ادا کیا ہوگا
اور مزید کہتے ہیں کہ اس سلسلے میں اصحاب ورع وتقویٰ فقھاء کرام اور آخرت کا علم رکھنے والوں سے اس قدر منقول ہے ،جس کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا ۔
: اور فرماتے ہیں کہ
اگر کوئی شخص نماز کو بنا سمجھے ادا کرے تو اس کی نماز ادا تو ہو جائیگی ، اس کے لئے دہرانا ضروری نہیں ہے ، مگر
فلا تجب عليه الإعادة وإن كان لا أجر له فيها ولا ثواب، فهو بمنزلة الصائم الذي لم يدع قول الزور والعمل به فليس له من صيامه إلا الجوع والعطش، وإلى هذا ذهب أكثر أهل العلم منهم الأئمة الأربعة، وهو الصحيح -إن شاء الله- فإن النصوص والآثار دلت على أن الأجر والثواب مشروط بالحضور، ولا تدل على وجوب الإعادة لا باطنا ولا ظاهراً. والله أعلم
ایسی نماز کا کوئی اجر و ثواب نہیں ملیگا ایسا شخص اس روزہ دار کے مانند ہے جو روزہ کی حالت میں بھی جھوٹ وغیرہ نہیں چھوڑتا۔
جس طرح اس کو بھوک پیاس کے علاوہ کچھ نہیں ملیگا اسی طرح ایسے نمازی کو بھی محنت اور کھڑے رہنے کے علاوہ کچھ نہیں ملیگا۔
اسی طرف اکثر اہل علم گئے ہیں ، ائمہ اربعہ رحمہم اللہ کا بھی یہی موقف ہے کیونکہ نصوص و آثار اسی پر دلالت کرتے ہیں کہ اجر و ثواب حضور قلب کے ساتھ مشروط ہے۔
البتہ نماز دہرانے کی کوئی دلیل نہیں ہے ۔
علامہ ابن قیم رحمه الله کہتے ہیں کہ
ولهذا لا يقبلها الله تعالى منه، وإن أسقطت الفرض في أحكام الدنيا، ولا يثيبه عليها؛ فإنه ليس للعبد من صلاته إلا ما عقل منها .. (الوابل الصيب)
ایسے شخص کی نماز مقبول نہیں ہوگی جو نماز کے اذکار وغیرہ کو نہ سمجھتا ہو اور اس پر اسے کوئی اجر بھی نہیں ملیگا
ہاں دنیاوی اعتبار سے فرض اس سے ساقط ہو جائیگا یعنی دنیا میں اس پر بے نمازی ہونے کا حکم نہیں لگے گا ، کیونکہ
لیس للعبد من صلوته الا ما عقل منھا
کسی کو بھی اس کی نماز میں سے اتنا ہی ( اجر )ملیگا جتنا اس نے سمجھ کر ادا کیا ہوگا.
(الوابل الصیب )
: بخاری اور مسلم میں ہے کہ
المصلي يناجي ربه
نماز ادا کرنے والا اپنے رب سے راز و نیاز کی بات کرتا ہے ۔
اور کیا کوئی شخص بات چیت کے لئے ایسے الفاظ و کلمات استعمال کرتا ہے جن کا مطلب خود اسے ہی نہ معلوم ہو ؟؟؟
: نبی کریم صلی اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں
كَمْ مِنْ قَائِمٍ حَظُّهُ مِنْ قِيَامِهِ التَّعَبُ وَالنَّصَبُ ( نسائی عن ابی ھریرہ)
کتنے نمازی ایسے ہیں کہ ان کی نماز سے صرف تھکن اور مشقت ہی ان کے حصے میں آتی ہے۔
ذکر الٰہی کے قرآنی طریقے
تخلیق کائنات میں غور و خوض ۔
إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ ( آل عمران)
بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات و دن کے بدلنے میں عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں ۔
لَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّـهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَـذَا بَاطِلًا (آل عمران)
جو لوگ ، کھڑے، بیٹھے اور لیٹے ہر حال میں اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے ہیں ، اور آسمان و زمین کی تخلیق پر غور کرتے ہیں۔ اور کہتے ہیں : اے ہمارے رب آپ نے انہیں بے کار نہیں پیدا کیا ہے
اللہ تعالیٰ کی صفات و کمالات اور اس کے احسانات کا تذکرہ کرنا اور لوگوں کے سامنے انہیں بیان کرنا۔
فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَذِكْرِكُمْ آبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا (البقرہ)
اللہ کو اس طرح یاد کرو جیسے تم اپنے آباء و اجداد کو یاد کرتے ہو، بلکہ اس سے بھی زیادہ۔
آباء و اجداد کو یاد کرنے کا طریقہ : عام طور پر ان کے احسانات یاد کرنا یا خوبیاں بیان کرنا ہوا کرتا ہے ۔
تنہائی میں ، اپنی بے بسی کے اظہار اور ناراضگی کے خوف کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو یاد کرنا اور اپنے کئے پر معافی مانگنا ۔
وَاذْكُر رَّبَّكَ فِي نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَخِيفَةً(الاعراف)
اپنے رب کو دل ہی دل میں عاجزی اور خوف کے ساتھ یاد کرو۔
ایسی مجلسوں میں شرکت کرنا جن میں اللہ تعالیٰ کا ذکر ہو رہا ہو مثلا قرآن کریم و احادیث مبارکہ کی تفہیم و تشریح کی پروگرام وغیرہ۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
وَذَكِّرْ بِالْقُرْآنِ مَن يَخَافُ وَعِيدِ
اور قرآن کریم کے ذریعہ اسے نصیحت کرو جو میری وعید سے ڈرتا ہے۔( ق)
حدیث قدسی ہے
يَذْكُرُنِي فِي مَلَإٍ، أَذْكُرْهُ فِي مَلَإٍ خَيْرٍ مِنْهُمْ بخاري
جب میرا بندہ مجھے مجلس میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے اس سے بہتر ( فرشتوں کی) مجلس میں یاد کرتا ہوں۔
: کسی نے کیا خوب کہا ہے
رشک کرتے ہیں ملک ایسی زمین پر اسعد
جس پہ دو چار گھڑی ذکر خدا ہوتا ہے
صحابہ کرامؓ کا طریقۂ ذکر
عَنْ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ
خَرَجَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ عَلَى حَلْقَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ
مَا أَجْلَسَكُمْ؟
قَالُوا: جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللّٰهَ وَنَحْمَدُهُ عَلَى مَا هَدَانَا لِلْإِسْلَامِ، وَمَنَّ بِهِ عَلَيْنَا
قَالَ: آللّٰهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلَّا ذَاكَ؟
قَالُوا: وَاللّٰهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذَاكَ قَالَ
أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ تُهْمَةً لَكُمْ، وَلٰكِنَّهُ أَتَانِي جِبْرِيلُ فَأَخْبَرَنِي أَنَّ اللّٰهَ يُبَاهِي بِكُمُ الْمَلَائِكَةَ. (مسلم ، ترمذی ، نسائی)
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں
رسول اللہ ﷺ صحابہ کرامؓ کے ایک حلقے کے پاس تشریف لائے اور فرمایا
“تم کس لیے یہاں بیٹھے ہو؟”
انہوں نے عرض کیا
ہم اللہ تعالیٰ کا ذکر کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے احسانات و انعامات پر ان کا شکر ادا کر رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اسلام کی ہدایت عطا فرمائی اور ہم پر احسان کیا۔
آپ ﷺ نے فرمایا
اللہ کی قسم! کیا تم واقعی اسی لیے بیٹھے ہو؟
انہوں نے عرض کیا
اللہ کی قسم! ہم صرف اسی نیت سے بیٹھے ہیں۔
آپ ﷺ نے فرمایا
میں نے تم سے بدگمانی کی وجہ سے قسم نہیں لی ، بلکہ میرے پاس جبرئیل (علیہ السلام) آئے اور انہوں نے مجھے خبر دی کہ اللہ تعالیٰ تم پر فرشتوں کے سامنے فخر کر رہے ہیں۔
دورِ صحابہ میں ذکر اللہ کی شکل آج کے مروجہ اوراد و وظائف سے مختلف تھی۔
صحابہ کرام کے معمولات میں عمل کرنے کے ارادے سے ، قرآن کریم کی تلاوت کرنا ، زندگی کے ہر کام میں اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنا اور تکمیل پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا ، رات کی تنہائیوں میں اللہ تعالیٰ کے سامنے رونا، گڑگڑانا شامل تھا۔
ان کا اصل وظیفہ اللہ تعالیٰ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت اخلاص، اور دین کی سربلندی کے لیے قربانی تھی۔
حضرت ابوبکر صدیقؓ کو جب کسی معاملے میں پریشانی ہوتی تو فوراً سجدے میں گر جاتے، اور کہتے
اے میرے اللہ! مجھے میرے نفس کے حوالے نہ کرنا
ان کا وظیفہ اخلاص، تقویٰ، اور تواضع تھا۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بار بار یہ دعا مانگا کرتے تھے
اے اللہ! آپ میرے ہر عمل کو نیک اور خالص اپنی رضا کے لیے بنادیجئے ۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ
روزانہ قرآن کریم کی تلاوت کرتے، اور رسول اللہ ﷺ کی سکھائی گئی دعائیں اپنی زندگی کا حصہ بنائے ہوئے تھے۔
: ذکر اللہ کے اثرات و فوائد
: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ۔
اصل مومن تو وہی ہیں کہ جب ( ان کے سامنے) اللہ کا ذکر کیا جائے تو اللہ تعالیٰ کی عظمت و کبریائی اور ناراضگی کے احساس سے ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب ان کو اللہ تعالیٰ کی آیتیں سنائی جاتی ہیں تو آیات کی سمجھ اور ان میں غور و تدبر کی بنا پر ان کے ایمان استحضار و توکل میں اضافہ ہو جاتا ہے اور وہ اپنے رب ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں۔
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔
عَن أَبي نَجِيحٍ العربَاضِ بنِ سَاريَةَ رضي الله عنه قَالَ: وَعَظَنا رَسُولُ اللهِ مَوعِظَةً وَجِلَت مِنهَا القُلُوبُ وَذَرَفَت مِنهَا العُيون. أبو داود ، ترمذی
: وہ کہتے ہیں کہ
حضرت رسول اللہ ﷺ نے ہمیں وعظ فرمایا ایسا وعظ کہ جس سے دل خوف کی وجہ سے کانپ اٹھے اور آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے۔
زندگی کی وسعتوں میں اگر کوئی شے انسان کو تھامے رکھتی ہے، تو وہ اللہ تعالیٰ کی یاد ہے دنیا کے ہنگامے، وقت کے طوفان، اور تقدیر کی الٹ پھیر میں وہی شخص ثابت قدم رہتا ہے جس کے دل کا مرکز و محور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہو۔
جو شخص اپنے پروردگار کی یاد کو دل میں بسا لیتا ہے، اُس کا وجود گو کہ زمین پر ہوتا ہے ، مگر اُس کی روح عرش الٰہی سے جُڑی رہتی ہے۔
وہ اپنی راہوں میں اکیلا نہیں ہوتا، کیونکہ اُس کے ساتھ وہ ذات گرامی ہوتی ہے جس کا اعلان ہے
فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ
تم مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد رکھوں گا۔(البقرہ)
یہ وعدہ، یہ نسبت، یہ تعلق، بندے کو بندگی کی معراج تک لے جاتا ہے۔
جس دل کو یہ یقین حاصل ہو جائے کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے، سن رہا ہے، میرے دکھوں کو جانتا ہے، اور میری خاموش دعاؤں کا سامع ہے ، وہ دل کبھی مایوس نہیں ہوتا، کبھی بے چین نہیں ہوتا۔ وہ صبر کو جینے کا ہنر ، شکر کو زندگی کا زیور اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو اپنی فطرت بنا لیتا ہے ۔
ایسا شخص جانتا ہے کہ اگر دنیا اُسے چھوڑ دے، تب بھی اُس کا مالک اُس کے ساتھ ہے۔ اگرسارے دروازے بند ہو جائیں، تو بھی آسمان کا دروازہ اس کے لئے ہمیشہ کھلا ہے۔
اگر زمین تنگ ہو جائے، تو بھی دل کی کھیت میں رب کی یاد پھولوں کی مانند کھِلتی رہتی ہے۔
یادِ الٰہی صرف سجدوں تک محدود نہیں، بلکہ یہ ہر حال، ہر کیفیت، ہر لمحہ، ہر عمل میں رب کی طرف متوجہ رہنے کا نام ہے ۔
یہی وہ ذکرِ دائمی ہے جو انسان کو رب سے جوڑ دیتا ہے۔
اب نہ وہ خوشی میں غافل ہوتا ہے، نہ غم میں شاکی۔
اُس کی کامیابی اُسے مغرور نہیں بناتی اور ناکامی اُسے مایوس نہیں کرتی، کیونکہ وہ جانتا ہے
وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ
اور وہ ( اللہ تعالیٰ ) تمہارے ساتھ ہیں ، جہاں کہیں بھی ، تم ہو۔ (الحدید)
دنیا کی فانی کامیابیاں کچھ لمحوں کی خوشی دے سکتی ہیں، لیکن یادِ الٰہی دل کو دنیا و آخرت کا دائمی سکون عطا کرتی ہے ۔
یہ تعلق وہ خزانہ ہے جو ہر کمی کو دور کر دیتا ہے، اندھیرے میں روشنی بن جاتا ہے اور تھکن میں توانائی۔
ایسا بندہ، چلتا دنیا میں ہے مگر دل آخرت کی طرف رواں دواں ہوتا ہے۔
وہ خلقت سے رشتہ نبھاتا ہے، مگر محبت اپنے خالق سے کرتا ہے۔
وہ مصروف ہوتا ہے، مگر غافل نہیں ہوتا۔
وہ روتا ہے، مگر شکایت نہیں کرتا۔
وہ مسکراتا ہے، مگر فخر نہیں کرتا۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں بندہ عبد بن جاتا ہے، جہاں بندگی محض اطاعت نہیں بلکہ عشق بن جاتی ہے۔
أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ
(الرعد)
خبردار! دلوں کو اطمینان صرف اللہ تعالیٰ کی یاد سے حاصل ہوتا ہے ۔
آیئے ! ہم بھی اپنی زندگیوں کو یادِ الٰہی سے مہکائیں، تاکہ ہماری سانسیں بھی عبادت بن جائیں، اور ہمیں بھی بندگی کی معراج حاصل ہو ۔
👇👇👇
اپنی سمجھ کو پرکھنے کے لیے یہاں کلک کریں اور متعلقہ سوالات حل کریں