انسانی معاشرہ باہمی تعلقات اور ذمہ داریوں کے تانے بانے سے تشکیل پاتا ہے ۔ یہی تعلقات جب انصاف و اخلاق کے دائرے میں قائم ہوتے ہیں تو وہ حقوق کہلاتے ہیں۔
حقوق ، حق کی جمع ہے ، جس کے معنی ہیں ذمہ داری ، سچائی پر مبنی دعویٰ۔
فقہی اعتبار سے “حق” وہ شے ہے جس کا کسی شخص یا فریق کو شرعاً، عرفاً یا اخلاقاً مطالبہ کرنے کا اختیار حاصل ہو۔ اور حقوق جن کے ذمہ ہوتے ہیں ان کے لئے وہ فرائض ہوتے ہیں ۔ حقوق و فرائض دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں کسی دوسرے کے ذمہ ہوں تو حقوق اورخود کے ذمہ ہوں تو فرائض ۔

یہ دونوں ایک متوازن معاشرتی زندگی کی بنیادیں ہیں۔
ہمارا معاشرہ مختلف رشتوں کا حسین مجموعہ ہے اور رشتے احترام اور ایثار و قربانی کی بنیاد پر قائم ہوتے ہیں ۔
رشتوں کی خوبصورتی اسی وقت برقرار رہتی ہے جب ہر فرد اپنے فرائض کو پہچانے اور دوسروں کے حقوق ادا کرے۔
کیونکہ حقوق کے حصول کا واحد راستہ فرائض کی ادائیگی ہے۔
حقوق ، فرد و سماج کے درمیان ایسا مقدس رشتہ ہیں جو انسان کو انسان بناتے ہیں ۔
جہاں حقوق کی پاسداری ہوتی ہے وہاں عدل و انصاف، امن و محبت اور سماجی فلاح کا بول بالا ہوتا ہے اور جہاں ان کی پامالی ہوتی ہے وہاں ظلم فتنہ نفرت اور تباہی ہوتی ہے اور پھر وہ کسی بھی قوم کی زوال پذیری اور معاشرتی تنزل کا سبب بنتی ہے۔
اسلام نے حقوق کو محض قانونی تقاضا نہیں بلکہ عبادت اور نجات کا ذریعہ قرار دیا ہے ۔ قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں حقوق نہایت تفصیل سے بیان ہوئے ہیں ۔
اسلام نے بار بار ان کی ادائیگی کا حکم دیا اور عدم ادائیگی پر وعیدیں اور سزائیں مقرر کیں ۔

: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ (النساء: 58)
اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتے ہیں کہ امانتیں انہیں کے حوالہ کرو جو ان کے حقدار ہیں اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں
فَإِنَّ لِرَبِّكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَلِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، فَأَعْطِ كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ (بخاری)
بے شک تمھارے رب کا تم پر حق ہے، تمھاری جان کا تم پر حق ہے اور تمھارے گھر والوں کا تم پر حق ہے لہذا ہر حقدار کا حق ادا کرتے رہو
کیونکہ قیامت کے دن ہر انسان کو اپنے فرائض و معاملات کا حساب دینا ہے ۔
: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا ۖ وَإِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا ۗ وَكَفَىٰ بِنَا حَاسِبِينَ
ہم قیامت کے دن انصاف کے ترازو قائم کریں گے پھر کسی پر ذرّہ برابر بھی ظلم نہ ہوگا۔
اور کسی کا کوئی عمل رائی کے دانہ برابر بھی ہوگا تو اسے ہم لائیں گے اور ہم حساب لینے کے لئے کافی ہیں ۔۔ ( الأنبیاء 47)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں
لَتُؤَدَّنَّ ٱلْحُقُوقَ إِلَىٰ أَهْلِهَا يَوْمَ ٱلْقِيَامَةِ۔
قیامت کے دن ، حقوق ان کے حقداروں کو لازماً دیے جائیں گے۔ (مسلم)

بدقسمتی سے، آج ہم میں اکثر افراد اپنے حقوق کا تو شور مچاتے ہیں، مگر دوسروں کے حقوق کو جو خود ان کے ذمہ ہوتے ہیں ، نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یہ رویہ معاشرتی بگاڑ کی جڑ ہے۔

اسلام نے حقوق کو دو بڑے دائروں میں تقسیم کیا ہے

حقوق اللہ▪️
(اللہ تعالیٰ کے حقوق)

حقوق العباد▪️
(بندوں کے حقوق)

حقوق اللہ

انسان اس دنیا میں جانوروں کی طرح کوئی غیر مکلف مخلوق نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کا بندہ ہے اور اسے جزء وقتی نوکری کے لئے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی کل وقتی بندگی کے لئے پیدا کیا گیا ہے ۔
دن میں پانچ وقت کی نمازیں ، سال میں ایک مہینہ کا روزہ ، ایک بار زکوٰۃ ادا کر دینا اور زندگی میں ایک بار حج کر لینے سے بندگی کا حق نہیں ادا ہوتا ، بلکہ پانچوں نمازوں کے درمیان خالی اوقات میں بھی اللہ تعالیٰ کی ذاتِ گرامی کا استحضار ، اس کی نگرانی کا خیال اور اطاعت مطلوب ہے۔
رمضان المبارک کے مہینے میں محض کھانے پینے وغیرہ سے رک جانا روزہ کا مقصود نہیں بلکہ شوال سے شعبان تک پورے سال اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں اور اس کے بندوں کی حق تلفیوں سے رکنا بھی فرض ہے ۔

زکوٰۃ جو اسلام کے سماجی ومعاشی نظام کو مستحکم بنانے کے لئے لازمی قرار دی گئی ہے اسے ادا کرنے کے بعد بھی حسب موقع مجبوروں ، تنگ دستوں اور بھوکوں کی مدد کرتے رہنا ضروری ہے۔
: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ فِي ٱلسَّرَّاءِ وَٱلضَّرَّاءِ وَٱلۡكَاظِمِينَ ٱلۡغَيۡظَ وَٱلۡعَافِينَ عَنِ ٱلنَّاسِۗ وَٱللَّهُ يُحِبُّ ٱلۡمُحۡسِنِينَ
میرے محبوب بندے وہ ہیں جو خوشحالی اور تنگی، ہر حال میں ( میری راہ میں ) خرچ کرتے ہیں، اور غصے کو پی جاتے ہیں، اور لوگوں کو معاف کر تے ہیں، اور اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتے ہیں ۔ ( آل عمران 134)

مسلمان کی پوری زندگی دراصل ایک عہدِ عبودیت کا مظہر ہے۔ اور بندگی کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ وہ اپنے خالق و مالک کے حقوق کو جانے ، مانے اور ان کی ادائیگی میں کوئی کوتاہی نہ برتے۔
تمام فرائض و واجبات جو اللہ تعالیٰ نے بندوں پر اپنی ذات کے تعلق سے عائد فرمائے ہیں یعنی اعتقادات ، عبادات اور احکام جنہیں ترک کرنا یا ان میں کوتاہی کرنا گناہ ہے۔
یہ سب حقوق اللہ کے زمرے میں آتے ہیں ۔

: حقوق اللہ کی قسمیں

: توحید کا حق▪️

انسانوں پر سب سے بڑا حق ان کے رب کا ہے اور ان میں بھی پہلا حق یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کو واحد یکتا لاشریک اور خالق و مالک مانے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے ۔
: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
يَا أَيُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّـهِ عَلَيْكُمْ هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَيْرُ اللَّـهِ يَرْزُقُكُم مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ لَا إِلَـهَ إِلَّا هُوَ فَأَنَّى تُؤْفَكُونَ (فاطر)
اے لوگو! اللہ تعالیٰ کا احسان یاد کرو جو تم پر ہے کیا اللہ تعالیٰ کے سوا اور بھی کوئی خالق ہے جو آسمان اور زمین سے تمہیں روزی دیتا ہے ؟
اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ، تو تم کہاں الٹے پھرے جاتے ہو؟

: عبادت کا حق▪️

نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، قربانی ، جہاد ، تلاوتِ قرآن کریم، ذکر، دعا، شکر وغیرہ سبھی عبادتیں، اللہ تعالیٰ کا حق ہیں۔
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ۔ (الذاریات)
اور میں نے جناتوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے ۔
رسول اللہ ﷺ نے ایک مرتبہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا
یَا مُعَاذُ : أَتَدْرِي مَا حَقُّ اللهِ عَلَى الْعِبَادِ؟ … أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ( بخاری و مسلم)
اے معاذ کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ تعالیٰ کے کیا حقوق ہیں ؟
وہ یہ ہیں کہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور ان کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں ۔

: شکر گزاری کا حق▪️

اللہ تعالیٰ کے احسانات اور ان کی نعمتوں پر شکر ادا کرنا بندے پر فرض ہے ، اور ناشکری حق اللہ میں خیانت ۔
: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ (البقرہ: 152)
تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد رکھوں گا اور ( میرے احسانات پر) شکر گزار رہو ، میری ناشکری مت کرنا

: محبت و خشیت کا حق▪️

اپنے محسن و منعم رب سے سچی محبت، اس کی رضا کی تمنا ، اس کی ناراضگی اور غضب سے خوف ، یہ سب اللہ تعالیٰ کے حقوق میں شامل ہیں۔

: چنانچہ ارشاد ہے
قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّـهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّـهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
(آل عمران)

آپ کہ دیجئے کہ اگر تم لوگ اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو اللہ تعالیٰ تم سے محبت کریں گے اور تمھارے گناہوں کو معاف کر دیں گے ۔
اللہ تعالیٰ بڑے معاف کرنے والے ، رحم فرمانے والے ہیں

وَخَافُونِ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ
(آل عمران)
اور مجھ سے ہی ڈرو اگر تم مومن ہو ۔

: اطاعت کا حق▪️

اللہ تعالیٰ کے تمام احکام کو بے چوں و چرا ماننا اور ان پر عمل کرنا ،مومنوں پر فرض ہے
: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ۔(الاحزاب)
اور کسی معاملہ میں اللہ تعالیٰ اور ان کے رسول کا فیصلہ آجانے کے بعد کسی بھی مومن کو خواہ مرد ہو یا عورت، کسی طرح بھی (نظر انداز کرنے) کا کوئی اختیار باقی نہیں رہتا ہے ۔

: حقوق اللہ اور حقوق العباد میں فرق

حقوق اللہ میں معافی ، اللہ تعالیٰ کی مرضی پر موقوف ہے
اللہ تعالیٰ چاہیں تو معاف کر سکتے ہیں ۔
جیسا کہ ایک آیت میں اس کا اشارہ بھی موجود ہے
: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ ۔
(النساء: 48)
اللہ تعالیٰ شرک کو نہیں معاف کریں گے اس کے علاوہ کوئی گناہ بھی معاف کر سکتے ہیں
مگر حقوق العباد اس وقت تک معاف نہیں ہوتے جب تک بندہ خود معاف نہ کرے ، جو آخرت میں بہت مشکل ہے کیونکہ وہاں ہر بندہ خود ضرورتمند ہوگا ۔
اسی لئے حقوق العباد ، حقوق اللہ کے مقابلہ زیادہ سنگین ہیں

قرآن کریم میں کئی بار یہ بات مذکور ہے کہ ہر شخص کو اس کا حق ضرور ملیگا اور کسی کے ساتھ ذرہ برابر بھی ظلم نہ ہوگا ۔
: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا
ہم قیامت کے دن انصاف کے ترازو قائم کریں گے پھر کسی پر ذرّہ برابر ظلم نہ ہوگا۔
(الأنبياء: 47)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں
يُغْفَرُ لِلشَّهِيدِ كُلُّ ذَنْبٍ إِلَّا الدَّيْنَ
( مسلم)
شہید کے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، سوائے قرض کے۔

ایک موقع پر نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ارشاد فرمایا
أَتَدْرُونَ مَنِ الْمُفْلِسُ؟ قَالُوا: الْمُفْلِسُ فِينَا مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ، فَقَالَ: إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاةٍ وَصِيَامٍ وَزَكَاةٍ، وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هَذَا، وَقَذَفَ هَذَا، وَأَكَلَ مَالَ هَذَا وَسَفَكَ دَمَ هَذَا، وَضَرَبَ هَذَا…۔ (صحيح مسلم)
کیا تم لوگ جانتے ہو کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ مفلس کون ہوگا ؟
وہ جو نماز، روزہ، زکوٰۃ لے کر آئے گا، مگر اس نےکسی کو گالی دی ہوگی ، کسی پر تہمت لگائی ہوگی ، کسی کا مال کھایا ہوگا ، کسی کو مارا ہوگا تو نیک اعمال ان سے لے کر ان لوگوں کو دے دیے جائیں گے جو اس طرح کے لوگوں کے عتاب کا شکار رہے ۔ (مسلم)

حقوق العباد کی تعریف
اسلام میں انسانی زندگی کا ایک نہایت اہم اور بنیادی پہلو حقوق العباد ہے۔ اس سے مراد وہ تمام حقوق ہیں جو بندوں کے باہمی تعلقات سے وابستہ ہیں اور جن کی پاسداری کے بغیر نہ سماجی عدل قائم ہو سکتا ہے اور نہ انسانی زندگی کا سکون و اطمینان ممکن ہے۔
یہ وہ حقوق ہیں جو انسانوں کے درمیان ایک دوسرے پر لازم ہیں، خواہ وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم، قریبی ہوں یا اجنبی، دوست ہوں یا دشمن۔

حقوق العباد دراصل انسانیت کی بنیاد اور معاشرت کی روح ہیں۔ اگر حقوق اللہ بندے اور خالق کے درمیان ربط و تعلق کا استعارہ ہیں، تو حقوق العباد بندوں کے درمیان رشتوں اور ذمہ داریوں کا پیمانہ ہیں۔ انسان کا ایمان اور عبادت اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتے جب تک وہ اپنے بھائی بند کے ساتھ عدل، ہمدردی محبت اور دیانت کا برتاؤ نہ کرے۔

حقوق العباد کے کچھ اہم پہلو

دوسرے کی جان و مال کی حفاظت▪️
عزت و آبرو کا احترام▪️
سچائی اور دیانت داری▪️
ظلم و زیادتی سے اجتناب▪️
وعدہ وفائی اور امانت داری▪️
لین دین میں شفافیت▪️
ضرورت مند کی مدد اور یتیم و مسکین کا سہارا

: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
المسلم أخو المسلم، لا يَظلِمُهُ ولا يَخذُلُهُ ولا يَحقِرُه (مسلم)
مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے نہ اسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے اور نہ اس کو حقیر سمجھتا ہے۔

حقوق العباد کی اہمیت
قرآن کریم نے بار بار عدل، احسان، صلہ رحمی خدمت خلق اور معاشرتی انصاف پر زور دیا ہے
: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
إِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَىٰ (النحل: 90)
بے شک اللہ تعالیٰ عدل، احسان، اور قرابت داروں کو دینے کا حکم دیتے ہیں ۔

وَآتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ (بنی اسرائیل: 26)
رشتہ دار، مسکین، اور مسافر کو ان کا حق دو۔

نبی کریم ﷺ نے حقوق العباد کو ایمان کی علامت قرار دیا
: چنانچہ ارشاد ہے
ٱلْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ ٱلنَّاسُ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ وَٱلْمُؤْمِنُ مَنْ أَمِنَهُ ٱلنَّاسُ عَلَىٰ دِمَائِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ
(ترمذي ، نسائي)
مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے لوگ محفوظ رہیں، اور مؤمن وہ ہے جس سے لوگوں کو اپنے جان و مال کے بارے میں امن حاصل ہو۔

لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ
(بخاري ، مسلم)
تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لئے وہی پسند نہ کرنے لگے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے۔

لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا وَلَمْ يُوَقِّرْ كَبِيرَنَا (ترمذی)
جو اپنے سے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور اپنے بڑوں کی عزت نہ کرے وہ میرا امتی نہیں ہے ۔

اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حق تلفی سے حاصل شدہ مال کو حرام قرار دیا ہے ۔
: ارشاد ہے
لَا يَحِلُّ مَالُ ٱمْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِطِيبِ نَفْسٍ مِّنْهُ
(سنن بیھقی، دارقطنی)
کسی مسلمان کا مال اس کی خوش دلی کے بغیر (کسی کے لیے) حلال نہیں۔

مَنْ ظَلَمَ قِيدَ شِبْرٍ مِّنَ ٱلْأَرْضِ طَوَّقَهُ مِن سَبْعِ أَرَاضِينَ
(بُخَارِيّ، مُسْلِم)
جس نے کسی کی ایک بالشت زمین بھی ظلم سے لی ہے ، قیامت کے دن اسے سات زمینوں تک گلے کا طوق بنا دیا جائے گا۔

حدیث قدسی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ
قَالَ ٱللَّهُ تَعَالَىٰ: ثَلَاثَةٌ أَنَا خَصْمُهُمْ يَوْمَ ٱلْقِيَامَةِ… وَرَجُلٌ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا فَٱسْتَوْفَىٰ مِنْهُ وَلَمْ يُعْطِ أَجْرَهُ (بُخَارِي)
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : تین شخص ایسے ہیں کہ قیامت کے دن میں خود ان کے مد مقابل ہونگا ………………… ان میں سے ایک وہ شخص ہے جس نے کسی مزدور کو اجرت پر رکھا، اس سے پورا کام لیا لیکن اس کی مزدوری نہ دی ۔

عام انسانوں کے حقوق

اسلام نے نہ صرف مسلمانوں کے حقوق بلکہ انسانی معاشرے کی بقاء اور امن و امان کے تحفظ کے لئے عام انسانوں کے حقوق بھی نہایت بسط و فصل سے بیان کیا ہے ۔
مثلا

زندہ رہنے کا حق
اسلام نے سب سے پہلے انسان کی جان کی عزت و حرمت کو تسلیم کیا اور اعلان کیا کہ ہر جان قیمتی ہے اور اس کے تحفظ کی ذمہ داری ہر صاحب ایمان پر ہے ، جان چاہے جس کی ہو
: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ (الإسراء: 33)
اور کسی جان کو، جسے اللہ نے حرمت دی ہے ناحق قتل نہ کرو۔

: ایک اور مقام پر ارشاد ہوا
مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ…۔۔۔۔۔۔۔۔ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا ومن احیاھا فکأنما احیا الناس جمیعا (المائدة: 32)
جس نے کسی ایک جان کو ناحق قتل کیا، گویا اس نے پوری انسانیت کا قتل کیا۔
اور جس نے کسی ایک کی جان بچائی اس نے گویا پوری انسانیت کو بچایا ۔
یہ آیت کریمہ جان پر ہونے والے ہر خطرہ اور اس کے تحفظ کی تمام صورتوں پر محیط ہے
یعنی جانوں کے تلف ہونے کا موجب بننا جس طرح انسانیت دشمنی کے مترادف ہے اسی طرح جانوں کے تحفظ کے لئے ممکنہ اقدامات کرنا، پوری انسانیت کو بچانے جیسا ہے ۔
مثلا مظلوم کے تحفظ کے لئے بر موقع اٹھ کھڑا ہونا ایمرجنسی میں دوا ، علاج اور خوراک وغیرہ پہونچانا۔

خوراک کا حق
انسانی زندگی کی بقاء کے لیے خوراک بنیادی شیئ ہے۔
یہ ہر انسان کا بنیادی حق ہے اور جو مسلمان کہیں پر خوراک کی کمی محسوس کرے تو حتی الامکان وہاں خوراک پہونچانا اس کا فرض ہے ۔
قرآن کریم میں مسکین، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلانے کو نیکی قرار دیا گیا
ارشاد ہے
وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا
(الإنسان: 8)
سورہ ماعون میں ایسے لوگوں کو جو یتیموں مسکینوں کا خیال نہیں رکھتے ، یوم آخرت کو جھٹلانے والا قرار دیا گیا ۔

أَرَأَيْتَ الَّذِي يُكَذِّبُ بِالدِّينِ
فَذَٰلِكَ الَّذِي يَدُعُّ الْيَتِيمَ
وَلَا يَحُضُّ عَلَىٰ طَعَامِ الْمِسْكِينِ

(ماعون)
اے نبی کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جو یوم آخرت کو جھٹلاتا ہے ؟
جو یتیموں کو دھکے دیتا اور مسکینوں کے کھانے کا انتظام نہیں کرتا ۔

: نبی کریم ﷺ نے فرمایا
كفى بالمرء إثمًا أن يُضَيِّعَ من يَقُوتُ (ابو داود)
کسی شخص کے لیے گناہگار (مجرم) ہونے کو یہی کافی ہے کہ وہ اپنے زیر کفالت افراد کو خوراک سے محروم رکھے ۔

عزت کا حق
اسلام نے ہر انسان کو برابری کا درجہ دیا ہے اور اعلان کیا کہ ہر شخص بحیثیت انسان معزز و محترم ہے ۔
: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ (الإسراء: 70)
ہم نے بنی آدم ( انسانوں ) کو عزت بخشی۔
اس لئے ہم سب بحیثیت مسلمان ہر انسان کی عزت و تکریم کے پابند ہیں ۔

مذہبی آزادی کا حق
اسلام مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔ ہر شخص کو اپنے پسند کے مذھب پر قائم رہنے کی پوری چھوٹ ہے ۔
اسلام اپنانے کے لئے کسی پر کسی قسم کا پریشر بنانا جائز نہیں ہے ۔
: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ (البقرة: 256)
دین میں کوئی جبر نہیں۔
: ایک اور مقام پر فرمایا
فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْمِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُرْ (الكهف: 29)
جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے۔

رسول اللہ ﷺ نے غیر مسلم شہریوں کے تعلق سے ارشاد فرمایا
من آذى ذميًّا فقد آذاني (طبرانی)
جس نے کسی ذمی (غیر مسلم شہری) کو اذیت دی، اس نے مجھے اذیت دی۔

انصاف کا حق▪️
عدل و انصاف ، مساوات اور احترام انسانیت اسلامی معاشرت کے لئے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں بغیر ان کے کسی صالح معاشرے کا وجود ناممکن ہے ۔ غالبا اسی لیے اسلام نے ان امور کو تاکید کے ساتھ بیان فرمایا ۔
: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ (النحل: 90)▪️
بے شک اللہ تعالیٰ عدل اور احسان کا حکم دیتے ہیں ۔

وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ أَلَّا تَعْدِلُوا۟ ۖ اعْدِلُوا۟ هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ
(مائدة 8)
کسی قوم کی دشمنی تمھیں ناانصافی پر نہ آمادہ کر دے ۔انصاف کرو یہ تقوی سے زیادہ قریب ہے

اچھے کاموں میں تعاون▪️
اسلام انسانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ بھلائی میں تعاون کرنے کا حکم دیتا ہے
: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ (المائدة: 2)
نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی میں تعاون نہ کرو۔

اچھے کام کا سپورٹ اور برے کام کی مخالفت ہونی چاہئے چاہے اسے انجام دینے والا کوئی بھی ہو ۔
: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
واللهُ في عونِ العبدِ ما كان العبدُ في عونِ أخيه(مسلم)
اللہ بندے کی مدد میں رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے۔

اسلام نے انسانوں کو وہ تمام حقوق عطا کئے جو ایک مہذب معاشرے کے قیام کے لیے ضروری ہیں۔
احترام انسانیت ، مساوات ، جان کی حفاظت خوراک و علاج، شخصی آزادی، مذہبی آزادی عدل و انصاف اور نیکی میں تعاون وغیرہ۔
یہ تمامتر تعلیمات ، اسلام کی انسانیت دوستی اور آفاقیت کو ظاہر کرتی ہیں۔ جن سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام حقیقی معنوں میں دینِ رحمت ہے۔

حقوق کی پامالی: گناہ عظیم
حقوق کی پامالی صرف اخلاقی جرم نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے یہاں قابلِ مؤاخذہ گناہ ہے۔
حق تلفی سے نماز، روزہ، حج جیسی اہم عبادتیں بھی بے فائدہ ہو سکتی ہیں ۔
ایسا معاشرہ ، جہاں حقوق پامال ہوں، وہ ظلم، جبر بے چینی، اور انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔
معاشرتی اصلاح کے لیے حقوق کی ادائیگی ضروری ہے۔

: اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ
امن وامان کا گہوارہ ہو ۔▪️
اس میں عدل و انصاف کا بول بالا ہو▪️
محبت و تعاون کی فضا بنے ۔▪️
انسانیت کا وقار بلند ہو▪️

تو اس کا پہلا زینہ حقوق کی شناخت، شعور اور ان کی ادائیگی ہے۔
اسلام نے ادائگی حقوق کو فرض اور عبادت کا درجہ دیا ہے۔ حقوق نہ صرف قانونی تقاضا ہیں ، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا ذریعہ، قیامت کے دن نجات کا وسیلہ، اور معاشرتی فلاح کی بنیاد ہیں۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر فرد اپنے حقوق مانگنے سے پہلے، دوسروں کے حقوق ادا کرے۔ کیونکہ جب لوگ از خود دوسروں کے حقوق ادا کرنے لگیں گے تو مطالبوں کی ضرورت ہی باقی نہیں رہیگی۔

اللھم وفقنا لماتحب وترضی ۔

👇👇👇

اپنی سمجھ کو پرکھنے کے لیے یہاں کلک کریں اور متعلقہ سوالات حل کریں

Tashreeh Updates 👋

Get new articles in your inbox.

We don’t spam! Read our privacy policy for more info.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *