انسانی فکر و روحانیت کی تاریخ میں اگر کسی کتاب نے تہذیبوں کا رخ موڑا ، اندھیروں کو اجالے میں تبدیل کیا ، اور انسانیت کو خدائے واحد کی بندگی کا شعور عطا کیا، تو وہ کتاب صرف قرآنِ کریم ہے۔
یہ وہ آفاقی اور جاوداں کلام ہے جس نے انسان کو حقیقی علم ، بصیرت اور ہدایت کی وسعتوں سے روشناس کرایا۔
قرآنِ کریم درحقیقت کتابِ ایمان ، مصدرِ نور و علم اور سرچشمۂ رشد و ہدایت ہے۔ اس پر ایمان ، اللہ تعالیٰ پر ایمان کا لازمی جزو ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے صفتِ کلام کا مظہر ہے۔ اور ایمان کے تين بنیادی ارکان : توحید ، رسالت ، آخرت میں سے ایمان بالرسالة کا اہم ترین حصہ ہے۔
ایمان بالقرآن سے مراد ، اس بات پر مکمل یقین رکھنا ہے کہ
قرآنِ کریم ، اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ کلام ہے۔
یہ مکمل ، جامع اور آخری آسمانی کتاب ہے۔
قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لئے ہدایت ہے۔
اس کے اندر حق و باطل کی تمیز ، اور حیاتِ انسانی کے تمام پہلوؤں کے لیے رہنمائی موجود ہے۔
قرآنِ کریم پر ایمان کا تقاضا یہ بھی ہے کہ انسان اپنے عقائد، عبادات، اخلاق، معاملات اور سماجی زندگی کو اسی کتاب کی روشنی میں تشکیل دے۔.
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ (البقرۃ: 2)
یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں، یہ پرہیزگاروں کے لیے ھدایت ہے ۔
سورہ بقرہ کی یہ ابتدائی آیت محض قرآن کریم کا تعارف نہیں، بلکہ اس اعلان پر ایمان کی اساس ہے۔
شک و گمان کا خاتمہ اور یقین کی روشنی ہی ایمان کا پہلا زینہ ہوتا ہے۔
قرآنِ کریم میں مذکور تمام حقائق کا اقرار ایمان ، اور ان سے انکار یا اختلاف موجبِ کفر ہے۔ اسی لیے یہ کتاب بار بار اپنے ماننے والوں سے ایمان بالقرآن کا تقاضا کرتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
فَآمِنُوا بِاللّٰهِ وَرَسُولِهِ وَالنُّورِ الَّذِي أَنْزَلْنَا (التغابن: 8)
ایمان لاؤ اللہ پر، اس کے رسول پر، اور اس نور پر جو ہم نے نازل فرمایا ہے۔
یہاں “نور” سے مراد قرآنِ کریم ہے، کیونکہ یہ دلوں کو منور کرنے اور روحوں کو پاک کرنے کا ذریعہ ہے۔
اسی طرح فرمایا گیا
قُولُوا آمَنَّا بِاللّٰهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْنَا… (البقرۃ: 136)
کہو! ہم ایمان لائے اللہ تعالیٰ پر، اور اس کتاب پر جو ہمارے لئے نازل کی گئی
ایمان بالقرآن کا مطلب صرف یہ نہیں کہ قرآن کریم کو محض اجمالی طور پر اللہ تعالیٰ کی کتاب تسلیم کر لیا جائے ، بلکہ اس پر ایمان کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ بندہ اس کے ربانی ارشادات کی تصدیق ، ان میں غور و تدبر اور اس پر عمل کر کے اپنی زندگی سنوارے۔
یہ ایمان ، صرف زبانی اعتراف نہیں بلکہ ایک عہدِ عمل اور ایک مکمل طرزِ حیات کو قبول کرنے کا پیمان ہے ـ
قرآنِ کریم پر ایمان کے کچھ بنیادی تقاضے ہیں
مثلاً : یہ یقین رکھنا کہ قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، جس میں کسی باطل کی آمیزش ممکن نہیں
لَا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ (فصلت: 42)
باطل اس میں کسی طرف سے بھی دراندازی نہیں کر سکتا ۔
اور چونکہ قرآن کریم اور اسلام ایک ہی حقیقت کے دو نام ہیں۔ تو ایمان کی تکمیل کے لیے ضروری ہے کہ زندگی قرآن کریم کے اصولوں کے مطابق بسر کی جائے۔
چنانچہ ارشاد ہے
اتَّبِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ
(الاعراف: 3)
پیروی کرو ان تمام آیات کی جو تمھارے رب کی طرف سے تمھارے لئے نازل کی گئیں ہیں ۔
اسی طرح عزت و سربلندی نیز ذلت و انحطاط کا مدار ، قرآن کریم کے ساتھ وابستگی یا عدم وابستگی پر ہے ۔
رسول اللہ ﷺ ارشاد فرماتے ہیں
إنَّ اللهَ يرفعُ بهذا الكتابِ أقوامًا ويضعُ به آخَرين (صحیح مسلم)
اللہ تعالیٰ اپنی اس کتاب کے ذریعے بعض قوموں کو بلندی عطا فرماتے ہیں اور بعض کو پست کر دیتے ہیں ۔
حاصلِ گفتگو یہ ہے کہ قرآنِ کریم محض ایک مذہبی صحیفہ نہیں بلکہ دین اور مکمل نظامِ حیات ہے۔
یہ عقائد و افکار کی اصلاح کرتا ہے، عبادت کا طریقہ سکھاتا ہے، اخلاق کا معیار طے کرتا ہے اور عدل و مساوات کا دستور عطا کرتا ہے۔
إِنَّ هَٰذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ۔ (الإسراء: 9)
اسی وجہ سے قرآن کریم پر ایمان رکھنے والا اس کی ھدایات کا مظہر بن جاتا ہے۔
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں
كان خُلُقُه القرآن۔ (مسند احمد)
رسول اللہ ﷺ کا اخلاق قرآن کریم تھا۔
یعنی قرآن کریم پر ایمان کا کمال یہ ہے کہ انسان کا کردار خود قرآن بن جائے۔
حاملِ قرآن صداقت ، عدل، رحم، صبر، حلم اور تقویٰ کی زندہ تصویر ہو
اور اپنی روح، فکر، عقل اور عمل کو اللہ تعالیٰ کی کتاب کے سپرد کر دے۔
آپ اسے آئینہ بھی کہ سکتے ہیں جس میں انسان اپنی اصلیت کا مشاھدہ کر سکتا ہے، یا یہ وہ چراغ ہے جس کی روشنی میں راہِ حق صاف دکھائی دیتا ہے ۔
فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقَىٰ (طٰہٰ: 123)
جو میری ہدایت کی پیروی کریگا، وہ نہ گمراہ ہوگا اور نہ بدبخت۔
ایمان بالقرآن دراصل زندگی کو مقصد، انسان کو اس کی شناخت، اور بندگی کو حقیقت کا شعور عطا کرتا ہے۔
اور یہ ایمان، دل کو یقین، فکر کو روشنی، اور زندگی کو صحیح سمت دیتا ہے۔
قرآن کریم پر ایمان رکھنے والا دراصل ربّ العالمین کے کلام سے جڑ کر ابدی کامیابی کے سفر پر روانہ ہوتا ہے۔
لہٰذا ہر انسان کے لیے لازم ہے کہ وہ قرآن کریم کو پڑھے،سمجھے، اور اس کی ہدایات پر عمل کرے۔
تلاوت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ قرآن کریم کو پڑھا ، سمجھا ، اور اسے اپنی زندگی میں نافذ کیا جائے ۔
تلاوت : عربی زبان کا لفظ ہے، اس کا مطلب ہے
پیچھے چلنا ، اتباع کرنا۔
قرآن کریم کے معانی پر مشتمل معروف کتاب
مفردات القرآن میں تلاوت کے معنی اسی طرح ہیں
التِّلَاوَةُ تَخْتَصُّ بِاتِّبَاعِ كُتُبِ اللَّهِ الْمُنَزَّلَةِ
اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ کتابوں کی اتباع کو تلاوت کہا جاتا ہے۔
(مفردات القرآن، للاصفهانی،)
عربی زبان میں قراءت اور تلاوت میں تھوڑا سا فرق ہے۔
قراءت يعني پڑھنا اور پڑھنے کا مطلب، سمجھکر پڑھنا ہی ہوتا ہے ۔
جب کہ
تلاوت ، قرآن کریم کو پڑھنے ، سمجھنے ،غور و تدبر کرنے اور اس کے احکامات و منہیات پر عمل کرنے کو کہتے ہیں ۔
اللہ سبحانہ و تعالی قرآن کریم میں چاند کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں
وَالْقَمَرِ إِذَا تَلَاهَا
اور چاند جب سورج کے پیچھے آئے( الشمس)
اس آیت میں چاند کی حرکت کے لئے “تلا” کا لفظ استعمال ہوا ، جو تلاوت کے ہی قبیل سے ہے ۔
دوسری جگہ ارشاد ہے ۔
الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلَاوَتِهِ أُولَـٰئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِ
(البقرہ)
جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے ، وہ اس کی اسی طرح تلاوت کرتے ہیں ،جس طرح تلاوت کرنے کا حق ہے
یہ لوگ اس( کتاب ) پر ایمان رکھتے ہیں
مفسرین کرام اس آیت کے ذیل میں لکھتے ہیں ۔
أي: يَتَّبِعُونَهُ حَقَّ اتِّبَاعِهِ، وَالتِّلَاوَةُ: الِاتِّبَاعُ فَيُحِلُّونَ حَلَالَهُ، وَيُحَرِّمُونَ حَرَامَهُ، وَيَعْمَلُونَ بِمُحْكَمِهِ، وَيُؤْمِنُونَ بِمُتَشَابِهِهِ
(تفسیر السعدی )
تلاوت کا حق ادا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ قرآن کریم کا اتباع کرتے ہیں، جیساکہ اتباع کرنے کا حق ہے ۔ تلاوت در اصل اتباع ہے ، وہ قرآن کریم کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھتے ہیں ، اس کے محکم پر عمل کرتے ہیں اور متشابہ پر ایمان رکھتے ہیں ۔
سورہ ص میں اللہ تعالیٰ ، قرآن کریم کا مقصد نزول بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں
كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ ۔
( ص ۲۹)
(یہ قرآن کریم ) ایک مبارک کتاب ہے ، جو ہم نے (اے نبی) تمہاری طرف نازل کی ہے، تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں غور وفکر کریں اور عقلمند نصیحت حاصل کریں ۔
اس قدر واضح ارشاد کے بعد کہ قرآن کریم نازل ہی ہوا ہے ، سمجھنے ،غور و تدبر کرنے اور نصیحت حاصل کرنے کے لئے ، اس سوال کی گنجائش ہی باقی نہیں رہتی کہ قرآن کریم سمجھنا ضروری ہے یا نہیں ؟
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تلاوت کرنے والوں کی جزا بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں
مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ وَعَمِلَ بِمَا فِيهِ أُلْبِسَ وَالِدَاهُ تَاجًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ضَوْءُهُ أَحْسَنُ مِنْ ضَوْءِ الشَّمْسِ فِي بُيُوتِ الدُّنْيَا لَوْ كَانَتْ فِيكُمْ، فَمَا ظَنُّكُمْ بِالَّذِي عَمِلَ بِهَذَا؟
(رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ)
جس نے قرآن کریم پڑھا اور جو کچھ اس میں ہے اس پر عمل کیا ، قیامت کے دن اس کے والدین کو سورج کی روشنی سے زیادہ خوبصورت تاج پہنایا جائیگا-
اسی طرح، حفظ قرآن کریم کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں
مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ وَاسْتَظْهَرَهُ فَأَحَلَّ حَلَالَهُ وَحَرَّمَ حَرَامَهُ أَدْخَلَهُ اللَّهُ بِهِ الْجَنَّةَ وَشَفَّعَهُ فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ كُلِّهِمْ وَجَبَتْ لَهُمُ النَّارُ. (ترمذي )
جس نے قرآن کریم پڑھا اور اسے حفظ کیا پھر اس کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام جانا اللہ تعالیٰ اس بنیاد پر اسے جنت میں داخل فرمائیں گے اور وہ اپنے گھر والوں میں سے دس ایسے لوگوں کے حق میں سفارش کریگا جن پر (ایمان کے باوجود) جہنم لازم ہو چکی ہوگی ۔
ذرا غور کیجئے
جن احادیث میں بھی قرآن کریم پڑھنے اور حفظ کرنے کی فضیلتیں وارد ہوئیں ہیں ، ان میں قرآن کریم کے احکامات پر عمل کرنے اور اس کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام جاننے کا بھی ذکر ہے ۔
کیا قرآن کریم کے احکامات پر عمل کرنا اور اس کے بیان کردہ حلال و حرام کو سمجھنا ، بنا قرآن کریم کو سمجھے ہوئے ممکن ہے ؟؟؟
امام بخاری رحمة الله عليه نے ایک حدیث کا ترجمة الباب اس طرح باندھا ہے ۔
باب قِرَاءَةِ الْفَاجِرِ وَالْمُنَافِقِ، وَأَصْوَاتُهُمْ وَتِلاَوَتُهُمْ لاَ تُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ (بخاری)
فاسق و فاجر اور منافق کی قراءت کا بیان جن کی تلاوت ان کی حلق کے نیچے نہیں اترتی ہے ۔
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ” يَخْرُجُ نَاسٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ وَيَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لاَ يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، ثُمَّ لاَ يَعُودُونَ فِيهِ حَتَّى يَعُودَ السَّهْمُ إِلَى فُوقِهِ ”. قِيلَ مَا سِيمَاهُمْ. قَالَ ” سِيمَاهُمُ التَّحْلِيقُ ”. أَوْ قَالَ ” التَّسْبِيدُ ”.
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
مشرق کی سمت سے کچھ لوگ نکلیں گے، جو قرآن کریم تو پڑھیں گے مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار کو چیر کر پار نکل جاتا ہے، اور پھر وہ دین میں واپس نہیں آئیں گے، جیسے تیر کمان میں واپس نہیں لوٹتا۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے سوال کیا : یا رسول اللّٰہ ( ﷺ) ان کی پہچان کیا ہوگی ؟
آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا
سر منڈانا ۔
وجہ ظاہر ہے جس دین کی اصل کتاب ، قرآن کریم ہے، اسی کو پڑھنے اور سمجھنے سے اگر دوری ہو ، تو دین میں باقی رہنے کا کیا سوال پیدا ہوتا ہے ؟
ایک دفعہ کا واقعہ ہے
عن أبي سعيدٍ الخُدْرِيِّ رضي الله عنه قال
بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَهُوَ يَقْسِمُ قِسْمًا أَتَاهُ ذُو الْخُوَيْصِرَةِ، وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اعْدِلْ!
فَقَالَ: وَيْلَكَ، وَمَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ أَعْدِلْ؟ قَدْ خِبْتَ وَخَسِرْتَ إِنْ لَمْ أَكُنْ أَعْدِلُ
فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ائْذَنْ لِي فِيهِ، أَضْرِبْ عُنُقَهُ؟
قَالَ: دَعْهُ، فَإِنَّ لَهُ أَصْحَابًا، يُحْقِرُ أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ مَعَ صَلَاتِهِمْ، وَصِيَامَهُ مَعَ صِيَامِهِمْ، يَقْرَؤُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ
(بخاري)
حضرت رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مالِ غنیمت تقسیم فرما رہے تھے
ذُوالخُوَیْصِرَہ نامی ایک شخص بولا
یا رسولَ اللہ، عدل کیجئے
اللہ کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نے فرمایا
تجھے خرابی ہو ، میں عدل نہ کروں گا تو کون کرے گا ؟
حضرت عمر رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے عرض کیا : یا رسول اللہ مجھے اجازت دیں ،اس کی گردن مار دوں۔
حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نے فرمایا
نہیں، اسے چھوڑ دو
اس کے اور بھی بہت سے ساتھی ،( ہم خیال ) ہیں
تم ان کی نمازوں کے سامنے اپنی نمازوں کو اور ان کے روزوں کے سامنے اپنے روزوں کو حقیر دیکھوگے
وہ قرآن کریم پڑھیں گے مگر وہ ان کے حلق کے نیچے نہ اترے گا، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے ، جیسے تیر شکار سے
(بخاری ، مسلم )
اور اس سے زیادہ تشویشناک بات کیا ہو سکتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قیامت میں اپنی امت کے تارکین قرآن کے خلاف اللہ تعالیٰ کی عدالت سے رجوع ہونگے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
وَقَالَ ٱلرَّسُولُ يَٰرَبِّ إِنَّ قَوْمِى ٱتَّخَذُواْ هَٰذَا ٱلْقُرْءَانَ مَهْجُورًا
(الفرقان 30)
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہیں گے کہ اے میرے رب میری قوم نے قرآن کریم کو چھوڑے رکھا تھا ۔
مفسرین کرام لکھتے ہیں کہ
قَالَ الرَّسُولُ شَاكِيًا مَا صَنَعَ قَوْمُهُ: يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي تَرَكُوا هَذَا الْقُرْآنَ وَهَجَرُوهُ، مُتَمَادِينَ فِي إِعْرَاضِهِمْ عَنْهُ وَتَرْكِ تَدَبُّرِهِ وَالْعَمَلِ بِهِ وَتَبْلِيغِهِ
وَفِي الْآيَةِ تَخْوِيفٌ عَظِيمٌ لِمَنْ هَجَرَ الْقُرْآنَ فَلَمْ يَعْمَلْ بِهِ
(التفسیر المیسر)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم, (قیامت میں اللہ پاک کے حضور) اپنی قوم کی شکایت کرتے ہوئے کہیں گے
اے میرے رب، میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ دیا تھا ، اس سے اعراض کرنے اور اس پر غور و فکر اور عمل نہ کرنے ، نیز اس کی تبلیغ کو ترک کرنے پر اڑے ہوئے تھے ۔
آیت کریمہ میں ان لوگوں کے لیے سخت وارننگ ہے ، جو قرآن کریم کو ، محض پڑھنا کافی سمجھتے ہیں۔
بھلا اللہ تعالیٰ کی عدالت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کے لوگوں کے خلاف مقدمہ دائر کریں اور اس پر شنوائی نہ ہو کیسے ہو سکتا ہے ؟
سنن نسائی کی ایک حدیث میں
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے لوگوں کو جو قرآن کریم ، پڑھنے پر اکتفاء کرتے ہیں ، بد ترین انسان قرار دیا ہے ۔
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ تَبُوكَ يَخْطُبُ النَّاسَ وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى رَاحِلَتِهِ
فَقَالَ “ أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ وَشَرِّالنَّاسِ
إِنَّ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ رَجُلاً عَمِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَلَى ظَهْرِ فَرَسِهِ أَوْ عَلَى ظَهْرِ بَعِيرِهِ أَوْ عَلَى قَدَمِهِ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمَوْتُ
وَإِنَّ مِنْ شَرِّ النَّاسِ رَجُلاً فَاجِرًا يَقْرَأُ كِتَابَ اللَّهِ لاَ يَرْعَوِي إِلَى شَىْءٍ مِنْهُ ”
( رواہ أحمد والنسائي والحاكم وصححه)
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبوک کے سال لوگوں سے خطاب کیا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری سے ٹیک لگا رکھا تھا۔
ارشاد فرمایا: ”کیا میں تمہیں سب سے بہتر انسان اور بدتر انسان کے بارے میں نہ بتاؤں؟
لوگوں میں سے سب سے بہتر شخص وہ ہےجو اللہ تعالیٰ کی راہ میں سواری پر یا پیدل۔۔۔۔۔۔ جہاد کرتا رہتا ہے ، یہاں تک کہ اس کی موت آجائے۔
اور لوگوں میں ، بدتر وہ فاجر آدمی ہے ، جو اللہ تعالیٰ کی کتاب تو پڑھتا ہے لیکن اس کی باتوں کی طرف توجہ نہیں دیتا ۔” یعنی اس پر عمل نہیں کرتا ۔ ( سنن نسائی )
شارحین حدیث لکھتے ہیں
خَيْرُ النَّاسِ المُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يَسْتَمِرُّونَ فِي ذَلِكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَهُمُ ٱلْمَوْتُ، وَشَرُّ النَّاسِ ٱلْفَاجِرُ ٱلَّذِي يَقْرَأُ ٱلْقُرْآنَ وَلَا يَعْمَلُ بِشَيْءٍ مِّنْهُ
سب سے بہتر مجاہدین ہیں جو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہوتے ہیں اور سب سے بدتر وہ فاجر ہے جو قرآن کریم پڑھتا ہے مگر اس پر عمل نہیں کرتا ۔
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا
يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ (سورۃ ابراہیم: 27)
اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو دنیا اور آخرت کی زندگی میں سچی بات پر ثابت قدم رکھتے ہیں اور ظالموں کو گمراہ رہنے دیتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ جو چاہتے ہیں کرتے ہیں۔
پھر آپ ﷺ نے فرمایا
إِذَا أُقْعِدَ الْمُؤْمِنُ فِي قَبْرِهِ أُتِيَ فَيُشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَذَاكَ قَوْلُهُ: يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ، وَيَأْتِيهِ الْمَلَكَانِ فَيَقُولَانِ لَهُ: مَنْ رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: رَبِّيَ اللَّهُ، فَيَقُولَانِ: مَا دِينُكَ؟ فَيَقُولُ: دِينِيَ الْإِسْلَامُ، فَيَقُولَانِ: مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ؟ فَيَقُولُ: هُوَ رَسُولُ اللَّهِ، فَيَقُولَانِ: وَمَا يُدْرِيكَ؟ فَيَقُولُ: قَرَأْتُ كِتَابَ اللَّهِ فَآمَنْتُ بِهِ وَصَدَّقْتُ
جب مومن کو قبر میں بٹھایا جاتا ہے، تو اس کے پاس فرشتے آتے ہیں اور اس سے سوال کرتے ہیں
مَنْ رَبُّكَ؟
(تیرا رب کون ہے؟)
وہ کہتا ہے: رَبِّيَ اللَّهُ
(میرا رب اللہ ہے)
پھر پوچھتے ہیں
مَا دِينُكَ؟
تیرا دین کیا ہے؟
وہ کہتا ہے
دِينِيَ الْإِسْلَامُ
میرا دین اسلام ہے
اور پھر سوال کرتے ہیں
مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ؟
یہ شخص کون ہے جو تم میں بھیجا گیا تھا؟
وہ کہتا ہے: هُوَ رَسُولُ اللَّهِ یہ اللہ کے رسول ﷺ ہیں
پھر فرشتے پوچھتے ہیں: وَمَا يُدْرِيكَ؟ تمہیں کیسے معلوم ہوا؟
پھر وہ جواب دیتا ہے
قَرَأْتُ كِتَابَ اللَّهِ فَآمَنْتُ بِهِ وَصَدَّقْتُ۔
میں نے اللہ تعالی کی کتاب قرآن کریم پڑھی، اس پر ایمان لایا اور اس کی تصدیق کی
لیکن جو کافر اور منافق ہوگا، وہ کہے گا: “هَاهْ هَاهْ! لَا أَدْرِي! سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا فَقُلْتُهُ!” ہا ہا! مجھے کچھ معلوم نہیں، میں نے لوگوں کو کچھ کہتے سنا اور میں نے بھی کہہ دیا۔
(مسند أحمد، سنن ابن ماجه، سنن أبي داود)
اس حدیث میں منکر ،نکیر علیھما السلام کے چوتھے سوال کا جواب دیتے ہوئے قبر والا بول رہا ہے کہ میرے یہ جوابات قرآن کریم پڑھنے سمجھنے اور اس پر ایمان کی بنیاد پر ہیں ۔
قرآن کریم و احادیث شریفہ میں اس قدر واضح بیانات کے باوجود قرآن کریم کو سمجھنے سے دوری اور اس کے فیوض سے محرومی، انتہائی افسوسناک ہے ۔
قرآن فہمی
ہر مسلمان کی ذمہ داری
اللہ تعالیٰ نے انسان کو راہِ ہدایت پر چلانے کے لیے قرآنِ کریم نازل فرمایا، جو قیامت تک آنے والی نسلوں کے لیے نور، رحمت اور فلاح کا ضامن ہے۔
یہ کتاب کسی خاص طبقے کے لیے نہیں، بلکہ تمام انسانوں کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہے۔
تاہم ، ایک سوال جو اکثر کیا جاتا ہے کہ کیا عام مسلمان قرآن کریم کو سمجھ سکتا ہے؟
کیونکہ ہر شخص عالم نہیں ہوتا اور نہ ہی سب کی عقل و فہم یکساں ہوتی ہے۔
پھر اس سے عام لوگ کیسے فیض یاب ہو سکتے ہیں؟
اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ
اللہ تعالیٰ نے ہر انسان پر اتنی ہی ذمہ داری عائد کی ہے جتنی اس میں استطاعت ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے
لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا (البقرۃ: 286)
اللہ تعالیٰ کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے۔
یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ ہر مسلمان اللہ تعالیٰ کے احکامات کا اتنا ہی مکلف ہے جتنی اس میں استطاعت ہے ۔
اور دور حاضر میں اتنی استطاعت تو ہر شخص کے پاس ہے کہ وہ قرآن کریم کو سیکھنے اور سمجھنے کے لئے اپنا وقت فارغ کرے اور علماء کرام سے رجوع ہو۔
الحمد للّٰہ آج تو ہر علاقے ، محلہ میں علماء کرام موجود ہیں اور بعض تو باقاعدہ قرآن کریم کے دروس کا بھی اہتمام کرتے ہیں ۔
اور ایک عام غلط فہمی جو لوگوں میں ہے کہ قرآن کریم سمجھنے کا کام صرف علماء کرام کی ذمہ داری ہے اور عام لوگ صرف اس کے الفاظ پڑھیں، اس کا ترجمہ پڑھنے اور اسے سمجھنے کی کوشش نہ کریں ۔
اگر یہ بات سچ ہوتی تو اللہ تعالیٰ کیوں فرماتے
“هُدًى لِلنَّاسِ” (البقرۃ: 185)
یہ انسانوں کے لیے ہدایت ہے۔
اور کیوں ارشاد ہوتا
“هُدًى لِلْمُتَّقِينَ” (البقرۃ: 2)
“یہ متقیوں کے لیے ہدایت ہے۔”
ان آیات سے واضح ہے کہ قرآن کریم کسی خاص طبقے کے لیے نہیں، بلکہ ہر شخص کے لیے ہے چاہے وہ عام مسلمان ہو یا عالم۔
اور یاد رہے کہ قرآن کریم کا پڑھنا بلاشبہ باعثِ اجر ہے، جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے
مَن قَرَأَ حَرْفًا مِن كِتَابِ اللَّهِ فَلَهُ بِهِ حَسَنَةٌ وَالحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، لَا أَقُولُ: (الم) حَرْفٌ وَلَكِنْ: أَلِفٌ حَرْفٌ، وَلَامٌ حَرْفٌ، وَمِيمٌ حَرْفٌ (سنن ترمذي)
جو شخص اللہ تعالیٰ کی کتاب کا ایک حرف پڑھے، اس کے لیے ایک نیکی ہے، اور ہر نیکی کا بدلہ دس گنا ملتا ہے۔
لیکن کیا اس سے مراد صرف قرآن کریم کے الفاظ پڑھنا ہے اس حدیث میں سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی ممانعت ہے ؟
نعوذ باللہ ۔۔۔۔
اگر ایسا ہوتا تو قرآن کریم بار بار غور و فکر اور تدبر کی دعوت کیوں دیتا؟
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا (محمد: 24)
تو کیا یہ لوگ قرآن کریم میں غور و فکر نہیں کرتے، یا ان کے دلوں پر قفل (تالے) لگے ہوئے ہیں؟
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے شخص کو بدتر انسان کیوں قرار دیتے جو قرآن کریم پڑھنے پر اکتفاء کرتا ہے ؟
آپ ﷺ ارشاد فرماتے ہیں
وَإِنَّ مِنْ شَرِّ النَّاسِ رَجُلًا فَاجِرًا يَقْرَأُ كِتَابَ اللَّهِ لَا يَرْعَوِي إِلَىٰ شَيْءٍ مِنْهُ.
(أحمد، نسَائي)
بے شک سب سے بدتر وہ فاجر آدمی ہے جو قرآن کریم پڑھے مگر اس میں جو ہے اس کی طرف توجہ نہ دے ۔
قرآن کریم عمل کی کتاب ہے، اس کے نازل ہونے کا مقصد اسے سمجھنا اور اس کی ھدایات کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالنا ہے ۔
اگر مریض معالج ڈاکٹر کا لکھا ہوا نسخہ صرف پڑھتا رہے ، اس میں درج دوائیں استعمال نہ کرے ، تو کیا وہ صحت یاب ہو سکتا ہے؟
یقیناً نہیں!
اسی طرح اگر کوئی شخص قرآن کریم کو محض پڑھنے پر اکتفاء کرے ، سمجھنے اور عمل کرنے سے اسے کوئی دلچسپی نہ ہو تو کیا وہ ہدایت پا سکتا ہے؟
ہرگز نہیں
اسی لئے ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ قرآن کریم کو پڑھے، سمجھے اور اس کے مطابق اپنی زندگی گزارنے کی کوشش کرے۔
کیونکہ قیامت کے دن یہی کتاب حجت بنے گی۔
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا
وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ لَكَ أَوْ عَلَيْكَ (مسلم)
قرآن کریم تمہارے حق میں حجت بنے گا یا تمہارے خلاف۔
لہٰذا
قرآن کریم کو محض برکت کے لیے نہیں ہدایت حاصل کرنے کے لیے پڑھیں۔
اسے سمجھیں کہ رب العالمین نے اپنے بندوں کی رہنمائی کے لئے کیا پیغامات بھیجے ہیں۔
اور اگر سمجھنے میں دشواری ہو تو علماء کرام سے استفادہ کریں۔
قرآن کریم کے احکامات و منھیات کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں۔
واللہ الموفق ۔