فکر انسانی کی تاریخ میں تین سوالات ایسے ہیں جو ہر دور میں ذہن کو جھنجھوڑتے رہے ہیں۔
انسان کی حقیقت کیا ہے ؟
انسان زمین پر کہاں سے اور کیوں آیا ؟
اور آخر میں اسے کہاں جانا ہے؟
ان سوالات کاسب سے واضح اور فیصلہ کن جواب تصورِ آخرت میں پوشیدہ ہے۔
اگرچہ آخرت کا تصور بنیادی طور پر الہامی ادیان سے وابستہ ہے، مگر عقلِ انسانی بھی اس تصور کو نہ صرف معقول بلکہ ناگزیر قرار دیتی ہے۔
یہ دنیا، اپنی تمام تر وسعتوں ، رنگینیوں اور جلوہ سامانیوں کے باوجود، ایک عارضی مسکن ہے۔ یہاں نہ کوئی خوشی دائمی ہے اور نہ کوئی غم ہمیشہ باقی رہتا ہے ، اگر زندگی کا اختتام محض موت پر ہو جائے تو پھر یہ پوری کائنات ایک بے مقصد تماشا بن کر رہ جاتی ہے ۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ظلم و انصاف اور صبر و قربانی اور نیکی و بدی کا کوئی حتمی انجام نہیں ہے؟
ہم آئے دن مشاہدہ کرتے ہیں کہ کئی ظالم دنیا میں سزا سے بچ جاتے ہیں اور بے شمار مظلوم انصاف پائے بغیر رخصت ہو جاتے ہیں۔
دنیا کی عدالتیں محدود ہیں ، دنیا کا انصاف ناقص ہے ۔
دنیا میں نہ ہر قاتل کو اس کے جرم کی مکمل سزا دی جا سکتی ہے اور نہ ہر نیکوکار کو اس کی نیکی کا پورا صلہ مل سکتا ہے ۔
لہذا عقل اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ ایک ایسی عدالت ضرور ہونی چاہئے جہاں مکمل عدل قائم ہو ۔
یہی تصور آخرت کی عقلی بنیاد ہے ۔
عقل اس بات کو بھی تسلیم کرتی ہے کہ اخلاقیات محض سماجی معاہدہ نہیں ہو سکتیں ۔ اگر نیکی اور بدی کا کوئی حتمی انجام نہ ہو تو اخلاقی اقدار کمزور پڑ جاتی ہیں۔
تصورِ آخرت انسان کو یہ شعور دیتا ہے کہ ہر عمل، چاہے کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو، ایک دن اس کے سامنے آئے گا۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں۔
وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ” ( الزلزال: 7-8)
جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی، وہ اسے دیکھ لے گا، اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہوگی، وہ اسے بھی دیکھ لے گا۔
عقل انسانی ، مقصد کے بغیر کسی بھی عمل کو عبث سمجھتی ہے۔ اگر انسان کی صلاحیتیں، جذبات اور اخلاقی شعور صرف چند روزہ دنیا کے لیے ہوں تو یہ غیر مناسب معلوم ہوتا ہے ۔
اسی طرح ، انسانی شخصیت اور شعور محض دنیاوی جسم تک محدود نہیں لگتے ۔ جو چیز مادے سے بالاتر محسوس ہو ، وہ مادے کے خاتمے پر مکمل طور پر فنا کیسے ہو سکتی ہے؟
یہی وہ نکتہ ہے جو روح کی بقا اور آخرت کے امکان کو معقول بناتی ہے۔
یعنی تصورِ آخرت کوئی غیر منطقی یا خیالی عقیدہ نہیں، بلکہ زندگی کے سوالات کا ایک مربوط، متوازن اور اطمینان بخش جواب ہے۔
عقیدہ آخرت ، ایمان کا پانچواں رکن ہے ۔ ہمیں اس بات پر یقین رکھنا چاہیے کہ ایک دن قیامت برپا ہوگی ، تمام انسان دوبارہ زندہ کئےجائیں گے اور ان کے اعمال کا حساب ہوگا
دنیا میں عدل ادھورا رہ جاتا ہے ، مگر آخرت میں ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا بدلہ ملیگا ۔
یہ انسانی فطرت کا تقاضا بھی ہے ۔ کیونکہ ہر انسان کے دل میں یہ احساس موجود ہے کہ اچھے کام پر جزا اور برے کام پر سزا ہونی چاہئے ۔
حقیقی انصاف
دنیا میں بے شمار ظالموں کو ان کے ظلم کی مکمل سزا نہیں مل پاتی اور دنیا میں مکمل سزا ، ممکن بھی نہیں ہے۔۔۔
کیونکہ کئی لوگوں کے قاتل کو متعدد بار قتل نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی ایک بار کے قصاص میں کئی مقتولوں کی تکلیفیں جمع ہو سکتی ہیں ۔
اسی طرح ہر نیکوکار کو اس کی نیکی کا مکمل بدلہ ملنا بھی یہاں مشکل ہے ۔
اگر مرنے کے بعد کوئی زندگی نہ ہو تو عدل و انصاف کا تقاضا ادھورا رہ جائے گا۔
لہٰذا، آخرت پر ایمان اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا بدلہ ملے گا۔
اور فطرت انسانی کا تقاضا بھی یہی ہے ۔ کیوں کہ ہر انسان کے دل میں ایک فطری احساس موجود ہے کہ اچھے کاموں پر جزا اور برے کاموں پر سزا ہونی چاہیے۔
اگر یہ جزا و سزا صرف دنیا تک محدود رہے گی تو انصاف مکمل نہیں ہو سکے گا ، لہٰذا، آخرت کا تصور انسانی فطرت کے اس بنیادی احساس کی تکمیل کرتا ہے۔
اگر موت کے بعد کوئی زندگی نہ ہو تو یہ دنیا ایک بے مقصد کھیل معلوم ہوتی ہے۔
لیکن آخرت پر ایمان ہمیں ایک اعلیٰ مقصد عطا کرتا ہے، جہاں ہر عمل کی قدر و قیمت ہے اور ہر اچھے عمل کا صلہ ملنے والا ہے ۔
دنیا میں انصاف کی تلاش میں کئی دل ٹوٹتے ہیں، کئی آنکھیں اشک بار ہوتی ہیں، اور کئی حق دار اپنے حقوق سے محروم رہ جاتے ہیں۔ مگر ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب عدل اپنی کامل صورت میں جلوہ گر ہوگا نہ کسی پر کوئی ظلم ہوگا، نہ کسی کی فریاد دبائی جائے گی، نہ کسی بے گناہ پر الزام لگے گا۔
وہ قیامت کا دن ہوگا، جب ہر انسان اپنے اعمال کے ساتھ عدالت میں پیش ہوگا۔
وہاں کوئی جاہ و منصب، مال و دولت، اور کوئی دنیاوی سفارش کام نہ آئے گی۔ صرف سچ کا پلڑا جھکے گا اور ہر انسان کو اس کے عمل کے مطابق پورا بدلہ ملے گا۔
مظلوم کی فریاد سنی جائے گی اور ظالم اپنے انجام کو پہنچے گا ، اور سب سے بڑھ کر، عدل وہی ہوگا جو اللہ تعالیٰ کی میزان میں ہوگا۔
ایسا عدل جس میں کوئی کمی یا زیادتی نہیں۔
یہی وہ دن ہے جس کے بارے میں دنیا کے منصفین کو بھی خبر دار کیا جاتا رہا ہے، اور جس کا یقین ہر مومن کے دل میں زندہ رہنا چاہیے۔
کیونکہ دنیا کے فیصلے کچھ بھی ہوں، اصل فیصلہ تو اس دن ہوگا، جب عدل کا میزان حقیقی معنوں میں قائم ہوگا
پ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا (الأنبیاء: 47)
اور قیامت کے دن ہم عدل کے ترازو رکھیں گے پس کسی پر ذرہ برابر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
یہ عقیدہ انسان کو اس دنیا میں عدل و انصاف پر قائم رہنے کی ترغیب دیتا ہے کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی انصاف اللہ تعالیٰ کی عدالت میں ہونا ہے ۔
اسی لئے آخرت پر ایمان رکھنے والا انسان بہتر اخلاق کا حامل ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اگر دنیا میں اس کے برے اعمال پوشیدہ بھی رہ گئے تو آخرت میں وہ ضرور سامنے آئیں گے۔
یہی سوچ اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا خوف اسے معاشرتی انصاف، دیانت داری اور نیکی کی فضا کو فروغ دینے پر مجبور کرتا ہے جس سے ایک منصفانہ اور پرامن معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔
عالم برزخ
زندگی کے ہنگاموں میں کھوئے انسان کو شاید ہی کبھی یہ احساس ہوتا ہے کہ ہر قدم، ہر لمحہ اسے ایک ایسی دنیا کی طرف لیے جا رہا ہے جس کا پہلا دروازہ قبر ہے۔
یہ نرم مٹی کی وہ آغوش ہے جہاں ہر شان و شوکت ماند پڑ جاتی ہے
ہر آواز خاموش ہو جاتی ہے، اور ہر تعلق ٹوٹ جاتا ہے۔
یہ وہ دروازہ ہے جس کے اس پار نہ دنیا کا شور ہے، نہ رشتوں کی ہمدردی، نہ کوئی چمکتا سکہ، نہ کوئی سونے کا تاج ۔ بس اعمال کی روشنی یا گناہوں کی تاریکی ساتھ جاتی ہے۔
یہاں سوال ہوں گے، جواب طلب کیے جائیں گے اور پھر یا تو ایک نرم بستر نصیب ہوگا جہاں سے جنت کی کھڑکیاں کھلیں گی، یا پھر ایسا گڑھا جہاں خوف کے سائے دائمی ساتھی ہوں گے۔
یہ پہلا زینہ ہے، مگر فیصلہ کن!
اگر یہاں روشنی ملی تو آگے روشنی ہی روشنی، اور اگر اندھیرا چھا گیا تو آگے بھی فقط اندھیرا۔
آج وقت ہے خود کو سنوارنے کا، کل صرف حساب ہوگا
نبی کریم ﷺ نے فرمایا
إِنَّ الْقَبْرَ أَوَّلُ مَنَازِلِ الْآخِرَةِ، فَإِنْ نَجَا مِنْهُ فَمَا بَعْدَهُ أَيْسَرُ مِنْهُ، وَإِنْ لَمْ يَنْجُ مِنْهُ فَمَا بَعْدَهُ أَشَدُّ مِنْهُ (ترمذی، ابن ماجہ)
قبر آخرت کی پہلی منزل ہے، اگر کوئی اس میں کامیاب ہو گیا تو اس کے بعد کے مراحل آسان ہوں گے، اور اگر وہ اس میں ناکام ہوا تو آگے کے مراحل اور زیادہ سخت ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
حَتَّىٰ إِذَا جَاءَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُونِ۔ لَعَلِّي أَعْمَلُ صَالِحًا فِيمَا تَرَكْتُ ۚكَلَّا ۚ إِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَائِلُهَا ۖ وَمِن وَرَائِهِم بَرْزَخٌ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ۔ (مؤمنون)
جب کسی کو موت آنے لگتی ہے تو کہتا ہے اے میرے پروردگار! مجھے (دنیا میں) واپس لوٹا دیجئے تاکہ اپنی چھوڑی ہوئی دنیا میں جا کر نیک اعمال کر لوں، (جب کہ اب انہیں ہرگز موقع نہیں ملیگا ) یہ تو محض ان کی ایک بات ہے ، ان کے پس پشت تو ایک برزخ (حجاب) ہے، انہیں دوبارہ اٹھائے جانے کے دن تک
اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں
إِنَّ الْقَبْرَ إِمَّا رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ، أَوْ حُفْرَةٌ مِنْ حُفَرِ النَّارِ (سنن ترمذی، مسند احمد)
بے شک قبر یا تو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے۔
اللہ رب العزت عذاب قبر کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں
النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ (غافر: 46)
آگ ہے جس پر وہ ( فرعون و آل فرعون ) صبح و شام پیش کیے جاتے ہیں، اور جس دن قیامت قائم ہوگی (حکم دیا جائے گا کہ) فرعون والوں کو سخت ترین عذاب میں داخل کر دو۔
اسی مضمون کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں بیان فرمایا
إِذَا مَاتَ أَحَدُكُمْ فَإِنَّهُ يُعْرَضُ عَلَيْهِ مَقْعَدُهُ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ فَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَمِنْ أَهْلِ النَّارِ
( بخاري ومسلم )
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جب تم میں سے کوئی فوت ہو جاتا ہے تو صبح و شام اس کے سامنے اس کا ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے، اگر وہ جنتی ہے تو جنت میں اس کا مقام، اور اگر وہ جہنمی ہے تو جہنم میں اس کا مقام (دکھایا جاتا ہے)۔” (بخاری، مسلم)
قبر کے سوالات
رات کی تاریکی جیسی تنہائی، مٹی کی چادر اوڑھے ایک انجانی دنیا، جہاں نہ کوئی ہمراز ہوگا، نہ کوئی دل جوئی کرنے والا۔ دنیا کے سارے رشتے پیچھے رہ جائیں گے، صرف اعمال ہمسفر ہوں گے۔ اور پھر، اچانک خاموشی کو چیرتے ہوئے سوالات کی گونج سنائی دے گی:
تیرا رب کون ہے؟
وہی رب، جس نے ہر لمحہ رزق دیا، جس نے گناہوں کے باوجود پردہ ڈالے رکھا، جس کی رحمت ہر خطا پر حاوی رہی۔
کیا زبان اس کا نام لے سکے گی؟
“تیرا دین کیا ہے؟”
وہ دین جو صرف کاغذوں میں درج تھا، یا وہ دین جو دل کی روشنی اور عمل کی صورتمیں میں زندگی کا حصہ بنا؟
تیرے نبی کون ہیں؟
وہ نبی ﷺ، جن کا نام لبوں پر تھا مگر ان کی سنتوں کو فراموش کر دیا ؟
یا وہ نبی ﷺ، جن کی محبت دل میں اتری اور عمل میں ڈھل گئی؟
جواب مناسب رہا تو ایک سوال اور ہوگا کہ
نصاب تعلیم کیا تھا ؟
ایمان کہاں سے سیکھا ؟
یہ سوالات نہ صرف لبوں، بلکہ اعمال سے بھی جواب مانگیں گے۔
اگر زندگی میں ایمان دل کی گہرائیوں میں اترا ہو، تو قبر بھی جنت کی کھڑکی بن جائے گی۔ لیکن اگر جواب رک گئے، تو قبر ایک تنگ و تاریک گڑھا بن جائے گی۔
یہ سوال ہر ایک سے ہونے ہیں اور ان کے جوابات کی تیاری آج ہی کر لینی ہے، اس سے پہلے کہ وقت کی مہر لگ جائے اور زبان خاموش ہو جائے
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی
يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ (سورۃ ابراہیم: 27)
اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو دنیا اور آخرت کی زندگی میں سچی بات پر ثابت قدم رکھتے ہیں اور ظالموں کو گمراہ رہنے دیتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ جو چاہتے ہیں کرتے ہیں۔
پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا
إِذَا أُقْعِدَ الْمُؤْمِنُ فِي قَبْرِهِ أُتِيَ فَيُشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَذَاكَ قَوْلُهُ يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ، وَيَأْتِيهِ الْمَلَكَانِ فَيَقُولَانِ لَهُ: مَنْ رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: رَبِّيَ اللَّهُ، فَيَقُولَانِ: مَا دِينُكَ؟ فَيَقُولُ: دِينِيَ الْإِسْلَامُ فَيَقُولَانِ: مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ؟ فَيَقُولُ: هُوَ رَسُولُ اللَّهِ، فَيَقُولَانِ: وَمَا يُدْرِيكَ؟ فَيَقُولُ: قَرَأْتُ كِتَابَ اللَّهِ فَآمَنْتُ بِهِ وَصَدَّقْتُ.
جب مومن کو قبر میں بٹھایا جاتا ہے، تو اس کے پاس فرشتے آتے ہیں اور اس سے سوال کرتے ہیں
مَنْ رَبُّكَ؟
(تیرا رب کون ہے؟)
وہ کہتا ہے:رَبِّيَ اللَّهُ
(میرا رب اللہ ہے)
دوسرا سوال کرتے ہیں
مَا دِينُكَ؟
(تیرا دین کیا ہے؟)
وہ کہتا ہے: دِينِيَ الْإِسْلَامُ
(میرا دین اسلام ہے)
پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں پوچھتے ہیں ۔
مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ؟
وہ شخص کون ہیں جو تم میں بھیجے گئے تھے؟
وہ کہتا ہے: هُوَ رَسُولُ اللَّهِ
(وہ اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ ہیں)
پھر فرشتے پوچھتے ہیں
وَمَا يُدْرِيكَ ؟
“تمہیں کیسے معلوم ہوا؟”
وہ کہتا ہے
قَرَأْتُ كِتَابَ اللَّهِ فَآمَنْتُ بِهِ وَصَدَّقْت
میں نے اللہ تعالی کی کتاب (قرآن کریم) پڑھی، اس پر ایمان لایا اور اس کی تصدیق کی
لیکن جو کافر یا منافق ہوگا، وہ کہے گا
هَاهْ هَاهْ! لَا أَدْرِي! سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا فَقُلْتُهُ
ہا ئے! مجھے کچھ معلوم نہیں، میں نے لوگوں کو کچھ کہتے سنا میں نے بھی وہی کہہ دیا۔
(مسند أحمد ، سنن ابن ماجه، سنن أبي داود)
نبی کریم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں ۔
إِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ تُبْتَلَى فِي قُبُورِهَا، فَلَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا لَدَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُسْمِعَكُمْ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ الَّذِي أَسْمَعُ مِنْهُ (مسلم)
یہ امت اپنی قبروں میں آزمائی جاتی ہے اگر یہ نہ ہوتا کہ تم ایک دوسرے کو دفن کرنا چھوڑ دو گے، تو میں دعا کرتا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں وہ عذاب قبر سنوا دیں جو میں سنتا ہوں ۔
پہلا صور
دنیا اپنی رونق میں مگن ہے، انسان اپنے خوابوں میں کھویا ہوا ہے، مگر ایک دن ایسا آئے گا جب اچانک سب کچھ رک جائے گا۔ وہ دن جب اللہ تعالٰی کے حکم سے اسرافیل علیہ السلام صور پھونکیں گے۔
اور کائنات کی ہر شے فنا ہو جائے گی۔ پہاڑ دھنی ہوئی روئی کی مانند اڑیں گے، سمندر بھڑک اٹھیں گے، اور زمین اپنے راز اُگل دے گی۔ یہ پہلا صور ہوگا، جس کے ساتھ ہر جاندار موت کی آغوش میں چلا جائے گا۔ پھر وقت کی گھڑیاں تھم جائیں گی، یہاں تک کہ دوسرا صور پھونکا جائے گا، اور تمام انسان دوبارہ زندہ کر دیے جائیں گے
حساب کے لیے
جزا و سزا کے فیصلے کے لیے۔
یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ صور کی آواز جب بلند ہوگی، تو کوئی پناہ نہیں ملے گی، سوائے ان کے جو دنیا میں آخرت کے لیے تیاری کر چکے ہوں گے۔
آج کا دن تیاری کا ہے، کل صرف حساب ہوگا
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرَى فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ (الزمر: 68)
اور صور میں پھونکا جائے گا تو جو بھی آسمانوں اور زمین میں ہیں وہ بے ہوش ہو جائیں گے، سوائے ان کے جنہیں اللہ تعالیٰ چاہیں۔ پھر اس میں دوبارہ پھونکا جائے گا تو وہ فوراً کھڑے ہو کر دیکھنے لگیں گے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا
كَيْفَ أَنْعَمُ وَقَدِ الْتَقَمَ صَاحِبُ الْقَرْنِ الْقَرْنَ، وَحَنَى جَبْهَتَهُ، يَسْتَمِعُ مَتَى يُؤْمَرُ بِالنَّفْخِ فَيَنْفُخُ (مسند احمد)
میں کیسے خوش رہ سکتا ہوں جبکہ صور پھونکنے والا فرشتہ صور کو منہ لگا چکا ہے اور اپنی پیشانی جھکائے ہوئے حکم کا منتظر ہے کہ کب اسے پھونکنے کا حکم دیا جائے۔
موت، جسے انسان ہمیشہ انجام سمجھتا ہے درحقیقت ایک نئے سفر کا آغاز ہے۔ یہ وہ دروازہ ہے جس کے پار ایک ایسی زندگی منتظر ہے، جو نہ ختم ہوگی، نہ ماند پڑے گی۔ دنیا کی نیند ختم ہوگی، اور ابدی بیداری کا دن شروع ۔
دوسرے صور سے زمین اپنے راز واپس لوٹا دیگی، قبریں کھلیں گی، اور ہر نفس دوبارہ زندہ کر دیا جائے گا۔ کچھ چہرے نور میں دمک رہے ہوں گے، اور کچھ شرمندگی اور خوف کے سائے میں لرز رہے ہوں گے۔ اعمال کا دفتر کھلے گا، میزان نصب ہوگا، ذرے ذرے کا حساب ہوگا۔ وہ جو دنیا میں آخرت کو فراموش کر بیٹھے ہیں، حسرت سے ہاتھ ملیں گے، اور وہ جو ایمان اور عملِ صالح کے چراغ جلائے رہے، رحمت کی چھاؤں میں داخل ہوں گے۔
بعث بعد الموت ایک نا قابل انکار حقیقت ہے جو ہر انسان کے انتظار میں ہے۔ یہ زندگی ایک پل کی مانند ہے، اور موت صرف ایک دروازہ۔
اصل قیام تو اس جہاں میں ہے، جہاں ہر چیز ہمیشہ کے لیے باقی رہے گی
اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں
وَأَنَّ اللَّـهَ يَبْعَثُ مَن فِي الْقُبُورِ ۔ (الحج)
اور بے شک اللہ تعالیٰ ان لوگوں کوجو قبروں میں ہیں (قیامت کے دن)اٹھائیں گے
سورہ بقرہ میں ہے ۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ وَكُنتُمْ أَمْوَاتًا فَأَحْيَاكُمْ، ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ثُمَّ إِلَيْهِ.تُرْجَعُونَ
(البقرہ: 28)
تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیسے کفر کرسکتے ہو؟ حالانکہ تم بے جان تھے، تمہیں زندگی عطا کی ، پھر وہ تمہیں موت دیں گے ، اور پھر تمہیں دوبارہ زندہ کریں گے ، پھر تم اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔
میزان پر پیشی
وقت کی سوئی جب اپنی آخری گردش پوری کر لیگی اور انسان حیران و پریشان
پسینے میں ڈوبا ہوا اپنے ابدی فیصلہ کا منتظر ہوگا، وہ لمحہ آئے گا، جس سے کوئی نہ بچ سکے گا
یعنی میزان پر پیشی
یہاں کوئی سکہ نہیں چلے گا، کوئی حیلہ کام نہیں آئے گا، کوئی زبان صفائی نہ دے سکے گی ۔۔۔۔۔
بس اعمال ہوں گے اور ترازو!۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک پلڑے میں نیکیوں کا نور ہوگا
اور دوسرے میں گناہوں کا بوجھ۔
یہاں وہ سجدے گواہی دیں گے جو رات کی تنہائی میں کیے گئے
وہ قطرے چمکیں گے جو توبہ کے آنسو بن کر بہے،
وہ صدقہ جھلملائے گا جو کسی ضرورت مند کے ہاتھ میں دیا گیا۔
لیکن وہ بھی آئیں گے جن کے ہاتھ خالی ہوں گے جن کی گٹھری میں دنیا کی محبت تو تھی، مگر نیکیاں نہ تھیں، جنہوں نے وقت کو ضائع کیا اور گناہوں کے بوجھ کو ہلکا جانا۔
ترازو جھکے گا، اور فیصلہ سنایا جائے گا۔
“یہ کامیاب ہوا یا پھر، “یہ خسارے میں پڑ گیا
یہ وہ دن ہے جس کی تیاری آج ممکن ہے کل سوائے افسوس کے کچھ بھی ہاتھ نہ آئیگا ۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
يَوْمَ نَحْشُرُهُم جَمِيعًا ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشْرَكُوا مَكَانَكُمْ أَنتُمْ وَشُرَكَاؤُكُمْ” (یونس: 28)
جس دن ہم سب کو اکٹھا کریں گے، پھر مشرکوں سے کہیں گے: اپنی جگہ کھڑے ہو جاؤ، تم اور تمہارے شریک۔
مگر وہ لوگ جن کا اعمال نامہ ان کے داہنے ہاتھ میں دیا جائیگا ان سے آسان حساب لیا جائیگا اور وہ کامیاب ہونگے ۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ، فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا (الانشقاق: 7-8)
جس کو اس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، تو اس سے آسان حساب لیا جائے گا۔
نبی کریم ﷺ: فرماتے ہیں
لَا تَزُولُ قَدَمَا عَبْدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُسْأَلَ عَنْ أَرْبَعٍ: عَنْ عُمْرِهِ فِيمَا أَفْنَاهُ، وَعَنْ عِلْمِهِ مَاذَا عَمِلَ فِيهِ، وَعَنْ مَالِهِ مِنْ أَيْنَ اكْتَسَبَهُ وَفِيمَا أَنْفَقَهُ وَعَنْ جِسْمِهِ فِيمَا أَبْلَاهُ.” (سنن ترمذي)
قیامت کے دن کسی بندے کے قدم اس وقت تک نہیں ہٹیں گے جب تک اس سے چار چیزوں کے بارے میں سوال نہ کر لیا جائے
عمر کہاں گزاری؟
علم پر کتناعمل کیا؟
مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا؟
جسم کہاں برباد کیا؟
اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ
إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ عَمَلِهِ صَلَاتُهُ (سنن ترمذی)
قیامت کے دن سب سے پہلے بندے کے اعمال میں سے نماز کا حساب لیا جائے گا۔
ابدی فیصلہ
دنیا فریب ہے، مگر انجام حقیقت
ایک دن عدالت لگے گی، اعمال کے دفتر کھلیں گے، اور ہر انسان اپنے کیے کا بدلہ پائے گا، پھر یا تو جنت کا دروازہ کھلے گا، یا جہنم کی آگ لپک اٹھے گی۔
جنت : جہاں نہ کوئی غم، نہ ملال، بس سکون راحت اور دائمی مسکراہٹیں۔
اور جہنم ، جہاں چیخ و پکار بے اثر ہوگی آنکھیں حسرت سے نم ہوں گی، مگر کوئی بچانے والا نہ ہوگا۔
وہ لمحہ قریب ہے جب مہلت ختم ہوجائیگی اور فیصلہ ہمیشہ کے لیے ثبت ہو جائے گا۔
آج راستہ چن لو، کیونکہ کل صرف انجام باقی رہے گا
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
فَرِيقٌ فِي الْجَنَّةِ وَفَرِيقٌ فِي السَّعِيرِ (الشوریٰ: 7)
ایک گروہ جنت میں ہوگا اور ایک گروہ جہنم میں۔
نبی کریم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں
يُقَالُ لِأَهْلِ الْجَنَّةِ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ، خُلُودٌ لَا مَوْتَ وَلِأَهْلِ النَّارِ: يَا أَهْلَ النَّارِ، خُلُودٌ لَا مَوْتَ (مسلم)
جنت والوں سے کہا جائے گا: اے جنت والو! تمہیں ہمیشہ رہنا ہے، کوئی موت نہیں۔ اور جہنم والوں سے کہا جائے گا: اے جہنم والو! تم ہمیشہ رہو گے، اب موت نہیں آئے گی
اللَّهُمَّ اجْعَلْنَا مِنْ عِبَادِكَ الصَّالِحِينَ، وَأَدْخِلْنَا جَنَّاتِكَ بِرَحْمَتِكَ، وَنَجِّنَا مِنْ عَذَابِكَ يَا رَحْمَٰنُ يَا رَحِيمُ۔
آمین