دینِ اسلام ایک مربوط، متوازن اور ہمہ گیر نظامِ حیات ہے۔ اس کی عمارت کسی منتشر تصور پر نہیں بلکہ ایک مضبوط اور منظم بنیاد پر قائم ہے۔ اس بنیاد کا نام عقیدہ ہے۔ عقائد ، فکر کا مرکز اور روح کا محور ہیں۔ انہی سے اعمال کی نہریں پھوٹتی ہیں، کردار کی تعمیر ہوتی ہے، اور زندگی کے تمام شعبوں میں سمت متعین ہوتی ہے۔

جب بنیاد مضبوط ہو تو عمارت پائیدار ہوتی ہے، اور اگر بنیاد میں کمزوری آ جائے تو ظاہری خوبصورتی بے معنی ہو جاتی ہے۔ عبادتوں میں اخلاص، معاملات میں دیانت اور اخلاق میں حسن ، یہ سب صحیح عقیدے کے ثمرات ہوتے ہیں۔
کیونکہ عملی زندگی اصل میں عقائد ہی پر موقوف ہے۔
جس قدر عقائد مضبوط ہونگے عبادات میں للہیت ہوگی ، معاملات میں صفائی رہیگی اور اخلاقیات میں بلندی آئیگی ۔
اسی طرح ، عبادات ، معاملات، معاشرت اور اخلاقیات میں اسلام کے احکام ایک درجے کے نہیں ہیں۔ شریعت نے ان میں واضح درجہ بندی رکھی ہے۔ بعض امور فرض و واجب ہیں، جن کا ترک گناہ ہے، اور بعض سنن و مستحبات کے قبیل سے ہیں جن کا اہتمام باعثِ اجر ہے مگر وہ فرائض کے ہم پلہ نہیں۔
مثلاً زکوٰۃ فرض ہے، جب کہ نفلی صدقات مستحب ہیں۔ دونوں نیکیاں ہیں، دونوں باعثِ اجر ہیں، مگر ان کے لزوم میں برابری نہیں۔
اسی طرح پانچ وقت کی نمازیں فرض ہیں، جب کہ تراویح ، تہجد، عظیم نفل عبادتیں ہونے کے باوجود فرض کے درجے میں نہیں۔ فرض اپنی حیثیت میں لازم ہے، اور نفل اپنی حیثیت میں فضیلت۔

یہی اصول اسلام کے تمام احکام میں کارفرما ہیں۔ یعنی جن امور پر امت کا فکری و عملی اتفاق ہے وہ اصول ہیں۔
امام طحاوی رحمه الله فرماتے ہیں:
أُصُولُ الدِّينِ لَا تَثْبُتُ إِلَّا بِالْيَقِينِ، وَلَا يَدْخُلُهَا الظَّنُّ وَلَا الِاجْتِهَادُ (العقيدة الطحاوية)
یعنی دین کے اصول یقین سے ثابت ہوتے ہیں، ان میں نہ ظن کی گنجائش ہے اور نہ اجتہاد کی۔
اصول دین میں توحید ، رسالت، آخرت، وحی، فرائض و محرمات اور بنیادی اخلاقی اقدار شامل ہیں ۔
یہ قرآن کریم کی واضح آیات اور احادیث مبارکہ کی صریح و مستند نصوص سے ثابت ہوتے ہیں۔
ان میں اختلاف و نزاع ، عقیدہ کی بنیاد کو متزلزل کر دیتا ہے۔
اور جن مسائل میں اہلِ علم کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے، وہ فروعی و اجتہادی مسائل ہیں۔ اجتہادی اختلاف علمی وسعت کی علامت ہے مگر اسے اصولی اختلاف بنا دینا فکری بے ترتیبی ہے۔
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں
اَلِاخْتِلَافُ إِذَا جَاوَزَ حَدَّهُ صَارَ نِقْمَةً بَعْدَ أَنْ كَانَ رَحْمَةً۔
اختلاف جب اپنی حد سے تجاوز کر جائے تو وہ رحمت ہونے کے بعد زحمت بن جاتا ہے۔

جب کوئی قوم متفقہ اصولوں کو پسِ پشت ڈال کر اختلافی مسائل کو اپنی شناخت بنا لے تو اس کا اتحاد پارہ پارہ ہو جاتا ہے۔
اور اختلاف شدت اختیار کر لے تو شیرازۂ ملت بکھر جاتا ہے۔
اتحاد کا راستہ واضح ہے
اصول کو اصول کا مقام دیا جائے، فروع کو فروع کا۔
فرائض کو اولویت دی جائے، اور اختلافی مسائل میں وسعتِ ظرفی اختیار کی جائے۔
دین کی حکمت اسی توازن میں ہے اور امت کی بقا بھی اسی ترتیب کی پاسداری میں مضمر ہے۔
حدیث قدسی ہے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
وَمَا أَقْرَبَ إِلَيَّ عَبْدِي بِشَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ (بخاري)
میرا بندہ جن چیزوں کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا ہے، ان میں سب سے زیادہ محبوب مجھے وہ چیز ہے جو میں نے اس پر فرض کی ہے ۔

مگر افسوس کہ آج ہمارے معاشرے میں اہم و غیر اہم، اصل و فرع سب خلط ملط ہو چکے ہیں۔ ہر شخص اپنے ذاتی مفادات میں الجھا ہوا ہے۔ ملی و قومی مسائل میں دلوں کا اتحاد ناپید ہے۔ اخلاقی اقدار، جو مومن کی شناخت ہیں، پامال کئے جا رہے ہیں، مگر فردوسی ہونے کا بھرم اور تقویٰ کے دعوے عروج پر ہیں۔
اور اس وہم نے لوگوں کو ایسا خود پسند بنا دیا ہے کہ کوئی کسی دوسرے کو مسلمان ماننے کے لئے تیار نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
فَلَا تُزَكُّوا أَنفُسَكُمْ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَى (النجم32)
اپنی پارسائی مت ظاہر کرو اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ كون متقی ہے ؟
مذھبی خود پسندی نے بر صغیر کے مسلمانوں کو بنیادی اخلاقیات سے بھی محروم کر دیا ہے ۔ حالانکہ اسلامی معاشرے کی بنیاد اخلاق، مساوات، احترامِ انسانیت اور باہمی حقوق کے تحفظ پر ہے۔
بڑا چھوٹوں پر شفقت کرے اور چھوٹا بڑوں کے ساتھ عزت و توقیر سے پیش آئے۔ دلوں میں اپنائیت ہو، رویوں میں نرمی ہو، اور تعلقات میں خیر خواہی ہو۔ یہی اسلامی مزاج ہے۔
نبی کریم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں:

مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا وَلَمْ يُوَقِّرْ كَبِيرَنَا فَلَيْسَ مِنَّا (ترمذی)
جو اپنے چھوٹوں پر شفقت اور اپنے بڑوں کی عزت و تکریم کی نعمت سے محروم ہو، اسے میرا امتی کہلانے کا کوئی حق نہیں ۔
آپ ﷺ نے مسلمان کی تعریف یوں بیان فرمائی
اَلْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ النَّاسُ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ (احمد ، نسائي)
مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ (کی ایذاؤوں ) سے دوسرے لوگ محفوظ رہیں۔
اَلْمُؤْمِنُ مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ عَلَىٰ دِمَائِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ۔۔ ( احمد، نسائی)
اور مومن وہ ہے ، جس سے لوگ اپنی جان و مال کے بارے میں خود کو محفوظ سمجھیں۔

یہ مبارک نبوی تعلیمات ، واضح کرتی ہیں کہ اسلام میں احترامِ انسانیت محض اخلاقی نصیحت یا کوئی عام ڈائلاگ نہیں ، بلکہ ایمان کا معیار ہے۔ زبان کی اذیت، ہاتھ کی زیادتی، ظلم، ناانصافی اور حق تلفی ، یہ سب ایک حقیقی مسلمان کی شان کے خلاف ہیں۔
پھر سوال یہ ہے کہ کیا فروعی اختلافات کی بنیاد پر کسی کی عزت و حقوق پامال کیے جا سکتے ہیں؟۔ ہرگز نہیں۔
اسلام ایسا معاشرہ برپا کرنا چاہتا ہے جہاں اختلاف ہو سکتا ہے مگر دلوں میں کینہ نہ ہو۔ رائے جدا ہو سکتی ہے مگر احترام باقی رہے۔ بحث ہو سکتی ہے مگر تحقیر نہ ہو۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے دور میں بھی فروعی اختلافات تھے۔
رفع الیدین، دعاء قنوت ، سفر میں روزہ، ایک مجلس کی تین طلاقیں ، نماز میں ہاتھ باندھنے کا مقام وغیرہ، بے شمار ایسے مسائل ہیں جن کے تعلق سے متعدد و مختلف احادیث ملتی ہیں جن کی بنیاد پر امت میں اختلاف ہونا لازمی ہے ۔
کسی مسئلہ میں احادیث کا مختلف ہونا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی آراء کا اختلاف یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ مسئلے اصولی اور بنیادی نہیں ہیں ان کی اہمیت ویسی نہیں ہے جیسی آج پیش کی جا رہی ہے
اس طرح کے مسائل اہم ترین بناکر پیش کرنا جس سے امت مسلمہ کا اتحاد پارہ پارہ ہو، کم علمی اور جہالت کے سوا کچھ نہیں ہے۔

ایک معتبر عالم دین نے اس طرح کی افراط وتفریط کو اِلْتِزَام مَا لَا يَلْزَم قرار دیا یعنی غیر اہم کو اہم سمجھنا ، غیر فرض کو فرض کا درجہ دینا، یہ بھی ایک طرح کی فکری بدعت ہے ۔
کیونکہ کسی فروعی یا اجتہادی مسئلہ میں اختلاف کی وجہ سے جانب مخالف کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی آ جائے ، تلخی پیدا ہو جائے ، رویہ تبدیل ہو جائے تو یہ اسے فرض سمجھنے جیسا ہی ہے ۔

کسی نے کہا ہے
” گر فرق مراتب نہ کنی زندیقی”

احادیث مبارکہ میں فروعی اختلافات کی کئی مثالیں ملتی ہیں ۔ مثلاً
حضرت جابر بن عبد اللہ
رضی اللہ عنہ رکوع جاتے اور اٹھتے وقت رفع الیدین کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ نبی کریم ﷺ ایسے ہی کیا کرتے تھے۔
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا رَكَعَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَعَلَ مِثْلَ ذٰلِكَ، وَيَقُولُ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَعَلَ مِثْلَ ذٰلِكَ۔ ( ابن ماجہ)
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
وہ جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے، اور جب رکوع کرتے تب بھی، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی اسی طرح کرتے، اور فرماتے: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

مگر حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ صرف تکبیر تحریمہ کے وقت رفع الیدین کرتے اور فرماتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے ۔
أَلَا أُصَلِّي بِكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ؟ فَصَلَّى فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا مَرَّةً ( نسائی)
کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح نماز ادا کرتے تھے ؟
پھر آپ نے نماز ادا کی مگر اس میں رفع الیدین نہیں کیا ۔

تین طلاق ایک مجلس میں۔
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما کہتے ہیں کہ
عہدِ نبوی ( علی صاحبھا الصلوة و السلام ) اور عہد صدیقی (رضی اللہ عن صاحبها ) اور عھد عمری ( رضی اللہ عن صاحبها ) میں بھی کے دو سال تک ، ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک ہی شمار ہوتی تھیں ۔
كَانَتِ الطَّلَاقُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَأَبِي بَكْرٍ وَسَنَتَيْنِ مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ طَلَاقُ الثَّلَاثِ وَاحِدَةً (مسلم)
مگر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کچھ دنوں بعد ایک مجلس کی تین طلاقوں کو تین شمار فرمایا ۔
إِنَّ النَّاسَ قَدِ اسْتَعْجَلُوا… فَلَوْ أَمْضَيْنَاهُ عَلَيْهِمْ (مسلم)

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس فیصلے کو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے قبول بھی فرمایا ۔

دعاء قنوت
حضرت عمر، انس بن مالک رضی اللہ عنھما دعاء قنوت ، فجر کی نماز میں پڑھنے کے قائل تھے اور کہتے تھے
مَا زَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَقْنُتُ فِي الْفَجْرِ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا (دارقطنی مسند احمد)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دعاء قنوت ہمیشہ فجر میں پڑھتے تھے ۔

مگر کئی دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے محض ایک مہینہ فجر میں قنوت نازلہ پڑھی تھی اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ کے لئے ترک فرما دیا ۔
عن انس رضي الله عنه
أنَّ رَسولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلَّمَ قَنَتَ شَهْرًا يَدْعُو علَى أَحْيَاءٍ مِن أَحْيَاءِ العَرَبِ، ثُمَّ تَرَكَهُ. (بخاری ، مسلم)
کمال یہ ہے کہ ان دونوں حدیثوں کے راوی انس رضی اللہ عنہ ہی ہیں ۔

سفر میں روزہ
حضرت حمزہ بن عمرو الاسلمی رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ مسافر کو اختیار حاصل ہے چاہے تو روزہ رکھ لے اور چاہے تو نہ رکھے ۔
إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ (نسائی، بخاری ،مسلم)
لیکن بعض دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سفر میں روزہ رکھنے سے منع کرتے تھے
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يُظَلَّلُ عَلَيْهِ وَالزِّحَامُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ۔ (مسلم، ابن حبان)
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا کہ اس پر سایہ کیا جا رہا تھا اور لوگ اس کے گرد جمع تھے یعنی وہ سخت مشقت میں تھا۔
آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا
(ایسے افراد کے لئے) سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے۔

نماز میں ہاتھ کہاں باندھیں ؟
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے تھے
عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: مِنَ السُّنَّةِ وَضْعُ الْكَفِّ عَلَى الْكَفِّ فِي الصَّلَاةِ تَحْتَ السُّرَّةِ (احمد ، ابوداؤد)
نماز میں ایک ہتھیلی کو دوسری پر ناف کے نیچے رکھنا سنت ہے ۔
مگر حضرت وائل بن حجر
رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ
صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى عَلَى صَدْرِهِ ( أبو داود)
میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، آپ نے اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھ کر اپنے سینے پر باندھا ہوا تھا۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
أَنَّ النَّبِيَّﷺ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ كَانُوا يَفْتَتِحُونَ الصَّلَاةِ بِـ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ( مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
نبی کریم ﷺ ،ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما سبھی نماز کی ابتداء الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سے کرتے تھے۔ (بخاری و مسلم)

حضرت نعیم مجمر رحمہ اللہ کہتے ہیں
عَنْ نُعَيْمٍ الْمُجَمِّرِ رضي اللّٰه عنه قَالَ: صَلَّيْتُ وَرَاء َ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَرَأَ: بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ ثُمَّ قَرَأَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ، (نسائی ، ابن خزیمہ)
کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی امامت میں نماز پڑھی تو انہوں نے پہلے بسم اللہ تلاوت فرمائی، پھر اس کے بعد ام القرآن یعنی سورہ فاتحہ پڑھی۔

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
قالَ النبيُّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ لنا لَمَّا رَجَعَ مِنَ الأحْزابِ: لا يُصَلِّيَنَّ أحَدٌ العَصْرَ إلَّا في بَنِي قُرَيْظَةَ. فأدْرَكَ بَعْضَهُمُ العَصْرُ في الطَّرِيقِ، فقالَ بَعضُهُمْ: لا نُصَلِّي حتَّى نَأْتِيَها، وقالَ بَعْضُهُمْ: بَلْ نُصَلِّي، لمْ يُرَدْ مِنَّا ذلكَ، فَذُكِرَ للنبيِّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ، فَلَمْ يُعَنِّفْ واحِدًا منهمْ. (بخاری)
نبی کریم ﷺ نے غزوۂ احزاب سے واپسی پر ہم سے فرمایا
تم میں سے ہر شخص عصر کی نماز بنی قریظہ میں جا کر ہی پڑھے ۔ راستے میں عصر کا وقت ہو گیا۔ تو کچھ نے کہا
ہم نماز نہیں پڑھیں گے یہاں تک کہ بنی قریظہ پہنچ جائیں۔
اور بعض نے کہا
ہم یہیں نماز پڑھ لیتے ہیں، اس حکم کا مطلب یہ نہیں ہے کہ نماز کو وقت سے مؤخر کر دیں۔
پھر اس بات کا ذکر نبی کریم ﷺ سے کیا گیا تو آپ ﷺ نے ان میں سے کسی ایک پر بھی ملامت نہیں فرمائی۔

ان سب مسائل میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان اختلاف پایا جاتا تھا سب کے پاس دلیل کے طور پر نبی کریم صلی اللہ علیہ کے ارشادات تھے۔
ممکن ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس طرح کے الگ الگ اقوال و اعمال ، بیان جواز کے لئے ہوں کہ رفع الیدین کرنے ، نہ کرنے سینے پر ہاتھ باندھنے ، ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے وغیرہ میں امت مسلمہ کو اختیار دینا مقصود رہا ہو ۔
چنانچہ ایک بار گھٹنوں میں سخت تکلیف کی وجہ سے
آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے کھڑے ہوکر استنجاء کرنا بھی ثابت ہے ۔
أَتَىٰ سُبَاطَةَ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا، فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَىٰ خُفَّيْهِ ( بخاري ، مسلم)
محدثین نے اسے بیان جواز پر محمول کیا ہے تاکہ کبھی کوئی شخص بیٹھنے سے معذور ہو تو ایسا کر سکے اس پر کوئی گناہ نہ ہو ۔
تاریخ شاہد ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مابین کئی فروعی اختلافات کے باوجود ان کے دل متحد تھے۔ وہ انسانیت کی اعلی مثال تھے۔

يُؤْثِرُونَ عَلَى أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ (الحشر 9)
وہ دوسروں کو خود پر ترجیح دیتے تھے چاہے خود وہ خستہ حال ہی کیوں نہ ہوں ۔

قرآن کریم نے کئی مقامات پر ان کی تعریف بیان کی ہے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ۔ ( الفتح 29)
وہ كفار پر سخت اور آپس میں نہایت رحم دل تھے۔
أَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوَىٰ۔ ( الفتح 26)
تقوی ان کی زندگی کی لازمی صفت تھی ۔
رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ ( المائدة 119)
الله تعالي ان سے راضی ہیں اور وہ الله تعالي سے راضی ہیں ۔

در اصل ان کا اختلاف علمی تھا، ان میں نفرت نہیں ، وسعت تھی، تنگ نظری نہیں، کشادہ دلی تھی ۔ وہ سب کے خیر خواہ تھے ۔ وہ خود بھوکا رہ کر دوسروں کو کھلاتے ، خود پیاسے رہ کر دوسروں کو پلاتے تھے ۔

ہم لوگ بھی ایمانیات میں متفق ہیں۔ توحید، رسالت ، ختمِ نبوت، آخرت وغیرہ ، سب پر ہمارا ایمان یکساں ہے۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج کی فرضیت پر سب کا اتفاق ہے۔ ظلم، سود، خیانت، بدعہدی اور ناانصافی کی حرمت پر بھی کسی کا کوئی اختلاف نہیں۔
پھر یہ انتشار کیوں؟
ہمارے دل جدا جدا کیوں ہیں ؟
کیوں آج ہم کسی مسلمان کو اپنا بھائی تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں ؟
ہمارا اصل مسئلہ علمی اختلاف نہیں، بلکہ ترجیحات کی خرابی ہے۔ افراط وتفریط ہے ۔ ہم نے فروع کو اصول بنا لیا ہے، اور اصول کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ ہم نے اختلاف کو نفرت و دشمنی میں تبدیل کرلیا ہے، حالانکہ ہمارے اسلاف نے اسے وسعت سمجھا تھا۔
اگر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اور ائمہ عظام رحمہم اللہ کے اختلافات، ان کے لیے نفرت و نزاع کا سبب نہیں بنے، تو آج ہمارے اختلافات بناء عداوت کیوں ہیں؟
کیا ہم نے فروعی ، اجتہادی اختلافات کے سلسلے میں اپنا نظریہ ان سے الگ کر لیا ہے
اور ہم خود کو ان سے زیادہ عقلمند سمجھنے لگے ہیں؟
اسلام کی وہ ترتیب ، جس میں ایمانیات کی درستگی مقدم ہے اس کے بعد فرائض و محرمات اور پھر سنن و نوافل اور اجتہادی مسائل کا نمبر آتا ہے۔
اور جو ترتیب ، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اسلاف نے سمجھی اور دی ہے ، کیا ہمیں قابل قبول نہیں ؟
جو شخص یہ ترتیب قائم رکھتا ہے ، وہی دین کے توازن پر قائم ہے۔ اور جو امت یہ توازن برقرار رکھتی ہے، وہی متحد رہتی ہے۔
فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے:
ہم اصول کو مرکز بنائیں یا فروع کو؟
ہم وسعت اپنائیں یا تنگ نظری؟
ہم نبى كريم صلي الله عليه وسلم اور صحابہ كرام رضي الله عنهم کے راستے پر چلیں یا اپنے بنائے ہوئے راستے پر؟
اتحاد کا دروازہ آج بھی کھلا ہے۔
بس شرط یہ ہے کہ ہم دین کی وہ ترتیب سمجھیں جس ترتیب پر وہ نازل ہوا ہے، جو ترتیب ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور ہمارے اسلاف سے ملی ہوئی ہے۔۔

حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر خاتم النبیین حضرت محمد رسول اللہ ﷺ تک جتنے بھی انبیاءِ کرام علیھم السلام اس دنیا میں تشریف لائے، سب ایک ہی دین کے علمبردار تھے۔ ان سب کی دعوت کی بنیاد توحید، رسالت، آخرت، اخلاقِ فاضلہ اور اللہ تعالیٰ کی بندگی پر قائم تھی۔
اس حقیقت کو قرآنِ مجید نے نہایت واضح انداز میں یوں بیان فرمایا ہے
إِنَّ هٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُونِ (الأنبیاء: 92)
بے شک یہ سبھی، تمہاری امت (تمہارے دینی بھائی ) ایک ہی امت ہے اور میں تم سب کا رب ہوں، لہذا میری ہی عبادت کرو۔
یعنی تمام انبیاء علیہم السلام دینی اعتبار سے ایک ہی جماعت اور ایک ہی مشن کے داعی تھے۔ ان کا رب ایک، ان کی دعوت ایک اور ان کا بنیادی دین ایک تھا۔
البتہ شریعتوں اور عملی احکام میں زمانے، حالات اور اقوام کے مزاج کے مطابق فرق رکھا گیا۔ اس کی وضاحت قرآنِ کریم میں یوں فرمائی گئی
لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا
( المائدہ: 48)

ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لیے ایک شریعت اور ایک طریقہ مقرر کیا۔
اسی مضمون کو نبی کریم ﷺ نے نہایت بلیغ اور حکیمانہ انداز میں اس طرح بیان فرمایا
الْأَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ لِعَلَّاتٍ، أُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى، وَدِينُهُمْ وَاحِدٌ (بخاري، مسلم)
انبیاء آپس میں (باپ کی طرف سے) بھائی ہیں، ان کی مائیں جدا جدا ہیں، لیکن ان کا دین ایک ہے۔
إِخْوَةٌ لِعَلَّاتٍ کا مطلب ہے وہ بھائی جن کا باپ ایک ہو اور مائیں مختلف ہوں۔
اس مثال کے ذریعے نبی کریم ﷺ نے یہ حقیقت واضح فرمائی کہ: تمام انبیاء علیہم السلام کی اصل دعوت ، توحید، رسالت، آخرت، اخلاق اور بندگیٔ رب ، ایک ہی ہے (یہ باپ کی وحدت ہے)۔
لیکن ان کی شریعتیں، عملی احکام اور بعض فقہی جزئیات زمانے اور حالات کے مطابق مختلف رہی ہیں (یہ ماؤں کا مختلف ہونا ہے)۔
گویا اصولِ دین، عقائد، اخلاقی اقدار اور اللہ تعالیٰ کے اوامر و نواہی کی پابندی سب میں مشترک تھی، جبکہ فروعی احکام میں تنوع پایا جاتا تھا۔ اسی لیے مختلف شریعتوں کے باوجود وہ سب ایک دین اور ایک امت شمار ہوئے۔
جب اممِ سابقہ شریعتوں کے اختلاف کے باوجود ایک دین پر متحد رہیں، تو ہم ، جو ایک اللہ تعالیٰ، ایک قرآنِ کریم اور ایک نبی کریم ﷺ کے ماننے والے ہیں، اور ایمانیات، فرائض اور محرمات میں یکساں فکر کے حامل ہیں ، باہم متحد کیوں نہیں ہو سکتے؟
حقیقت یہ ہے کہ اتحاد کی بنیاد اصولِ دین میں اشتراک ہے، اور یہ بنیاد آج بھی ہمارے درمیان موجود ہے۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہم فروعی اختلافات کو وسعتِ ظرفی کے ساتھ برداشت کریں اور دین کے مشترکہ اصولوں کو اپنی وحدت کا محور بنائیں۔

Tashreeh Updates 👋

Get new articles in your inbox.

We don’t spam! Read our privacy policy for more info.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *