aasmani-kitabain-rushd-o-hidayat-ke-sarchashmay

اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل کردہ آسمانی کتابیں انسانیت کے لیے رشد و ہدایت کے سرچشمے ہیں۔
یہ وہ الہی دستاویز ہیں جنہوں نے تاریکی میں بھٹکتی انسانیت کو روشنی عطا کی، حق و باطل کے درمیان امتیاز واضح کیا اور لوگوں کو ان کی حقیقت و مقصدِ حیات سے روشناس کرایا۔

اللہ تعالیٰ نے مختلف ادوار میں اپنے برگزیدہ نبیوں (عليهم السلام ) کے ذریعے انسانوں کی رہنمائی کے لیے مقدس کتابیں : تورات ، زبور اور انجیل نازل کیں۔
اور آخر میں قرآن کریم نازل فرمایا ، جو اول الذکر سبھی کتابوں کا خلاصہ اور تکمیلی نسخہ ہے۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ (الحدید: 25)
ہم نے اپنے رسولوں کو واضح نشانیوں کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب نازل کی۔

لیکن سابقہ کتابوں میں وقت کے ساتھ تحریف ہو گئی، اور قوموں نے اپنی خواہشات کے مطابق ، ان میں تبدیلیاں کر دیں ۔
بالآخر اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید نازل فرماکر سابقہ آسمانی کتابوں کو منسوخ کرنے کا اعلان کردیا ۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ الْكِتَابِ وَمُهَيْمِنًا عَلَيْهِ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ
(المائدہ: 48)

اور ہم نے آپ پر سچی کتاب (قرآن کریم) نازل کی ہے، جو اس سے پہلے کی کتابوں کی تصدیق کرنے والی اور ان کی محافظ و نگہبان ہے، پس آپ ان کے درمیان اسی کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ نے نازل فرمایا ہے۔

اس آیت میں “مُهَيْمِنًا عَلَيْهِ” کا مطلب ہے کہ قرآن کریم ، سابقہ کتابوں پر غالب اور حاکم ہے، یعنی وہ ان کی تصدیق بھی کرتا ہے اور ان میں جو تحریف ہوئی ہے، اس کی اصلاح بھی ۔
اور اب سابقہ سبھی شریعتوں کی منسوخی کے بعد ان کا نیا ایڈیشن قرآن کریم ہے اور وہی واجب الاتباع ہے ۔

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا
وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَا يَسْمَعُ بِي أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ يَهُودِيٌّ وَلَا نَصْرَانِيٌّ، ثُمَّ يَمُوتُ وَلَمْ يُؤْمِنْ بِالَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ، إِلَّا كَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ
( مسلم)

قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد (ﷺ) کی جان ہے ، اس امت میں سے کوئی بھی، خواہ وہ یہودی ہو یا نصرانی، اگر میری بعثت کے بارے میں سن لے اور پھر بھی وہ اس ( قرآن کریم)پر ایمان نہ لائے جسے دے کر مجھے بھیجا گیا ہے، اور اسی حالت میں مر جائے، تو وہ جہنم میں جائے گا۔

ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اہلِ کتاب کی ایک تحریر نبی ﷺ کے سامنے پیش کی، تو آپ ناراض ہوئے اور فرمایا

أَمُتَهَوِّكُونَ فِيهَا يَا ابْنَ الْخَطَّابِ؟ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ أَنَّ مُوسَى كَانَ حَيًّا، مَا وَسِعَهُ إِلَّا أَنْ يَتَّبِعَنِي۔
اے ابنِ خطاب! کیا تم (دین کے معاملے میں) تذبذب کا شکار ہو؟ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر موسیٰ (علیہ السلام) زندہ ہوتے، تو ان کے لیے بھی میرے پیچھے چلنے کے سوا کوئی راستہ نہ ہوتا۔ (مسند أحمد، بیھقی)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت مبارکہ کے بعد ساری کتب سماویہ منسوخ ہو چکی ہیں ، پوری انسانیت کے لازم ہے کہ وہ صرف قرآن کریم کو اپنا دین اور دستور العمل سمجھیں جو مکمل محفوظ اور ہر طرح کی تحریف سے پاک ہے

ارشاد ہے
إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ” (الحجر: 9)
بے شک ہم نے ہی یہ ذکر (قرآن کریم ) نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔

اب قرآن کریم ہی کتاب ایمان ہے اور دستور العمل بھی ۔اور ہدایت اور کامیابی کا واحد راستہ یہی ہے۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ ۚ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ ۚ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ۖ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ
(البقرة: 285)
رسول اس (قرآن کریم ) پر ایمان لے آئے جو ان کے رب کی طرف سے ان پر نازل کیا گیا، اور (اسی طرح) مؤمن بھی (ایمان لائے)، سب کے سب اللہ تعالیٰ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے (اور انہوں نے کہا کہ) ہم اس کے رسولوں میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے، اور انہوں نے کہا: ہم نے سنا اور اطاعت کی۔
اے ہمارے رب! ہم آپ کی مغفرت چاہتے ہیں اور آپ ہی طرف ہمیں لوٹ کر جانا ہے۔

اللہ تعالیٰ کی رضا اور کامیابی کا واحد راستہ قرآن کریم ہے ۔
جو شخص اس کو اپنا رہنما بنائے گا، وہ دنیا و آخرت میں سرخرو ہوگا۔

اللہ تعالیٰ ارشادِ فرماتے ہیں
ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ

(البقرہ: 2)
یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں، یہ پرہیزگاروں کے لیے ہدایت ہے۔

اگر کوئی انسان صراطِ مستقیم کا متلاشی ہے تو اسے قرآنِ حکیم کا دامن تھامنا ہوگا، کیونکہ اب یہ واحد سرچشمہ ہدایت ہے جس سے ایمان و معرفت کی روشنی حاصل ہو سکتی ہے۔

اللہ تعالیٰ کی کتابوں پر ایمان

ایمان کے بنیادی ارکان میں سے ایک رکن ، اللہ تعالیٰ کی کتابوں پر ایمان ہے۔
یعنی ہم پورے یقین اور اعتقاد کے ساتھ مانیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے مختلف زمانوں میں آسمانی کتابیں اور صحیفے نازل فرمائے ہیں ۔
ان کتابوں نے انسانیت کو روشنی بخشی اور فلاح کا راستہ دکھایا۔
نیز یہ کہ بندہ اس حقیقت پر یقین رکھے کہ یہ تمام آسمانی کتابیں براہِ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کی گئی ہیں۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
إِنَّا أَنْزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ… وَقَفَّيْنَا عَلَىٰ آثَارِهِم بِعِيسَى ٱبْنِ مَرْيَمَ مُصَدِّقًۭا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ ٱلتَّوْرَىٰةِ ۖ وَءَاتَيْنَـٰهُ ٱلْإِنجِيلَ فِيهِ هُدًۭى وَنُورٌۭ… وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ ٱلْكِتَـٰبَ بِٱلْحَقِّ مُصَدِّقًۭا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ ٱلْكِتَـٰبِ وَمُهَيْمِنًا عَلَيْهِ
(المائدہ: 44-48)

بے شک ہم نے تورات نازل کی، جس میں ہدایت اور روشنی تھی، جو انسانوں کو حق کی راہ دکھاتی تھی۔ پھر ہم نے مریم کے بیٹے عیسیٰ کو بھیجا، جو تورات کی تصدیق کرنے والے تھے۔
ہم نے انہیں انجیل عطا کی، جو ہدایت اور روشنی کا مینار تھی، لوگوں کے لیے حق اور سچائی کی راہ متعین کرنے والی۔
اور پھر، اے نبی! ہم نے آپ پر یہ عظیم برحق کتاب، قرآن کریم نازل کی، جو پچھلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی اور ان کی محافظ ہے

یعنی ، ان کتابوں میں جو الہی ہدایات تھیں وہ سبھی قرآن کریم میں جمع کر دی گئیں ہیں اب سبھی کے لئے محض قرآن کریم رہنما ہے ۔

وہ کتابیں آفاقی اصولوں پر مبنی تھیں، جن کی روشنی میں زندگی کو استوار کیا جا سکتا تھا۔
ان میں حق کی تعلیم دی گئی تھی اور وہ بنی نوع انسان کے لیے مشعلِ راہ تھیں ۔
مگر قوموں نے اپنے سرمایہ ہدایت کے ساتھ مجرمانہ تحریف کا ارتکاب کیا۔
ان کے قوانین بالخصوص آخری نبی کی بشارت ، حلال و حرام ، حدود و تعزیرات ، مساوات اور حقوق انسانی کے قوانین میں تبدیلی کی تاکہ مذھب کے سہارے من مانی کر سکیں ۔
خود کو سپیریئر اور دوسروں کو غلام بنانے میں کامیاب ہو سکیں اور ان کی بے راہروی میں کسی طرح کی اڑچن نہ آئے ۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
يُحَرِّفُونَ ٱلْكَلِمَ عَن مَّوَاضِعِهِ وَنَسُوا۟ حَظًّۭا مِّمَّا ذُكِّرُوا۟ بِهِ (المائدة 13)
وہ لوگ (اللہ تعالیٰ کے) کلام کو اس کی جگہ سے بدل دیتے ہیں اور نصیحت کا ایک بڑا حصہ بھول جاتے ہیں جو انہیں دی گئی تھی۔

مفسرین کرام فرماتے ہیں
حَرَّفُوا وَبَدَّلُوا وَغَيَّرُوا وَكُتِبَتْ التَّوْرَاةُ بِأَيْدِيهِمْ فَقَالُوا: هَذَا مِنْ عِندِ اللَّهِ

یہود نے (اللہ تعالیٰ کے کلام میں) تحریف کیا اسے بدل دیا اور اپنی خواہشات کے مطابق تبدیلی کی، اور پھر خود اپنے ہاتھ سے تورات کو لکھ کر کہا: یہ اللہ کی طرف سے ہے۔

آسمانی کتابوں کا نزول

اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی رہنمائی کے لیے چار بڑی کتابیں اور بعض صحیفے نازل فرمائے

تورات

یہ کتاب حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل کی گئی، جو بنی اسرائیل کے لیے ہدایت کا ذریعہ بنی۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
“إِنَّا أَنْزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ”
(المائدہ: 44)
بے شک ہم نے تورات نازل کی، جس میں ہدایت اور روشنی ہے۔

زبور

یہ کتاب حضرت داؤد علیہ السلام پر نازل کی گئی، جو اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور نصیحتوں پر مشتمل تھی۔
“وَآتَيْنَا دَاوُودَ زَبُورًا”
(النساء: 163)
“اور ہم نے داؤد کو زبور عطا کی۔”

انجیل

انجيل حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل کی گئی، جو تورات کی تصدیق کرنے والی تھی۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
وَقَفَّيْنَا عَلَىٰ آثَارِهِم بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ وَآتَيْنَاهُ الْإِنجِيلَ فِيهِ هُدًى وَنُورٌ
(المائدہ: 46)

اور ہم نے ان (نبیوں) کے پیچھے عیسیٰ ابن مریم کو بھیجا، جو تورات کی تصدیق کرنے والے تھے، اور ہم نے انہیں انجیل عطا کی، جس میں ہدایت اور روشنی ہے۔

قرآن کریم

قرآن کریم ، حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوئی، جو سابقہ تمام کتب کی تصدیق کرنے والی اور قیامت تک کے لیے مکمل ہدایت ہے۔
: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
“إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ”
(القدر: 1)
“بے شک ہم نے اسے شبِ قدر میں نازل کیا۔”

قرآن کریم پر ایمان

قرآن کریم ، اللہ تعالیٰ کا کلام ہے
“وَإِنَّهُ لَتَنزِيلُ رَبِّ الْعَالَمِينَ”
(الشعراء: 192)
اور بے شک یہ (قرآن كريم ) رب العالمین کی طرف سے نازل کردہ کتاب ہے۔

قرآن كریم ہر قسم کی تحریف سے محفوظ ہے

إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ” (الحجر: 9)

قرآن کریم تمام انسانیت کے لیے رہنما ہے

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ (البقرہ: 185)

نزول قرآن كريم کےمقاصد

قرآن کریم کو سمجھنا ، اس کی آیات میں غور و تدبر کرنا اور نصیحت حاصل کرنا ۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ
( ص: 29)
یہ ایک بابرکت کتاب ہے جو ہم نے آپ پر نازل کی ہے تاکہ لوگ اس کی آیات میں غور و فکر کریں اور تاکہ عقل والے نصیحت حاصل کریں۔

انسانیت کی ہدایت
قرآن کا بنیادی مقصد انسانوں کی راہنمائی کرنا ہے تاکہ وہ صحیح اور غلط میں تمیز کر سکیں اور صراطِ مستقیم پر چل سکیں۔
شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيَ أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَىٰ وَالْفُرْقَانِ
(البقرہ: 185)
رمضان کے مہینہ میں قرآن کریم نازل کیا گیا جو تمام انسانوں کے لیے ہدایت ہے، اور اس میں ہدایت و فرقان ( حق و باطل کی تمیز ) کے واضح دلائل ہیں۔

تشریعی و قانونی رہنمائی

قرآنِ کریم سماجی اور معاشرتی عدل و انصاف کا ایک کامل اور جامع منشور پیش کرتا ہے، جہاں اسلامی شریعت اور قوانین کے ذریعے فرد اور معاشرہ کے جملہ حقوق کا نہ صرف تعین کیا گیا ہے بلکہ ان کے عملی نفاذ کی راہ بھی واضح کی گئی ہے۔
یہ الہامی دستور ، انسانی زندگی کے ہر پہلو کا احاطہ کرتا ہے، عدل و مساوات کے اصولوں کو مضبوطی سے قائم کرتا ہے، اور ایک ایسا متوازن معاشرہ تشکیل دیتا ہے جہاں ہر فرد اپنے حقوق اور فرائض سے بخوبی واقف ہو، اور اجتماعی بھلائی کا نظام استوار ہو۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
وَنَزَّلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَا أَرَاكَ اللَّهُ
(النساء: 105)
اور ہم نے تم پر حق کے ساتھ یہ کتاب نازل کی ہے تاکہ تم لوگوں کے درمیان اس کے مطابق فیصلہ کرو جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں دکھایا ہے

قرآن کریم ، بہترین دستور العمل

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں

إِنَّ هَٰذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ
(الإسراء: 9)
بے شک یہ قرآن کریم سب سے سیدھی راہ کی رہنمائی کرتا ہے ۔

آخری پیغام

قرآن کریم ، ایمان کی فکری ذہن سازی کے ساتھ آخرت کی دائمی زندگی کے لیے عملی طور پر بھی تیار کرتا ہے، تاکہ انسان اپنے رب کی مرضیات کے مطابق زندگی گزارکر حقیقی زندگی کی کامیابیاں حاصل کر سکے ۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
هَٰذَا بَلَاغٌ لِّلنَّاسِ وَلِيُنذَرُوا بِهِ وَلِيَعْلَمُوا أَنَّمَا هُوَ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ وَلِيَذَّكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ
(إبراهيم: 52)
یہ (قرآن کریم ) لوگوں کے لیے ایک پیغام ہے تاکہ انہیں اس کے ذریعہ ، خبردار کیا جائے ، اور وہ جان لیں کہ وہی ایک معبود ہے، اور تاکہ عقل والے نصیحت حاصل کریں۔

اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتابوں پر ایمان رکھنا دینِ اسلام کا ایک بنیادی رکن ہے۔

قرآن کریم ، آخری اور حتمی محفوظ کتاب ہے جو تمام انسانیت کے لیے ہدایت کا ذریعہ ہے۔
سابقہ آسمانی کتابوں کی منسوخی کے بعد، فکر و عمل اور ہدایت کا واحد ذریعہ قرآن کریم ہے، جو شخص اس کی رہنمائی میں زندگی گزاریگا، وہی دنیا و آخرت میں کامیاب ہوگا۔

اللھم وفقنا لما تحب و ترضی

Tashreeh Updates 👋

Get new articles in your inbox.

We don’t spam! Read our privacy policy for more info.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *