tashreeh universe

یہ کائنات اپنی وسعتوں میں پھیلی ہوئی ایک عظیم کتاب کی مانند ہے، جس کا ہر صفحہ اللہ تعالیٰ کے وجود کی گواہی دیتا ہے ۔
چمکتے ہوئے ستارے، بہتے ہوئے دریا، سر سبز وادیاں، چہچہاتے پرندے ، یہ سب ہمیں پکار پکار کر بتاتے ہیں کہ ان سب کا ایک خالق و مالک اور پالنہار موجود ہے، جو ان کی تدبیر اور نگہبانی کر رہا ہے۔

کائنات کا ذرہ ذرہ ، اللہ تعالیٰ کے وجود کا گواہ ہے

ہم جب کسی خوبصورت محل کو دیکھتے ہیں، تو فوراً سمجھ جاتے ہیں کہ اسے کسی ماہر معمار نے بنایا ہوگا۔
اسی طرح، یہ پھیلی ہوئی کہکشائیں، زمین و آسمان، سمندر و پہاڑ ، یہ سب خود بخود کیسے وجود میں آسکتے ہیں؟
ان سب کا ایک بنانے والا ضرور ہے، اور وہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہیں!

: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
“أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ”
(الطور: 35)
کیا وہ بغیر کسی (خالق) کے خود پیدا ہو گئے یا خود ہی وہ اپنے خالق ہیں؟

کائنات کا نظم و ضبط
کیا کبھی ایسا ہوا کہ سورج مشرق کے بجائے مغرب سے طلوع ہوا ہو یا چاند اپنی جگہ چھوڑ کر کہیں اور چلا گیا ہو؟
! نہیں
ہر چیز ایک مقررہ نظام کے مطابق چل رہی ہے۔
یہ نظم و ضبط خود بخود نہیں آسکتا۔۔۔۔
! یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا مظہر ہے

: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ
(آل عمران: 190)
بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور رات دن کے بدلنے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔

انسانی ضمیر کی گواہی
جب کوئی شخص سچ بولتا ہے تو دل میں ایک سکون محسوس کرتا ہے
اور جب جھوٹ بولتا ہے تو اپنے اندر ایک طرح کی خلش محسوس کرتا ہے۔
یہ شعور، ہمارے دل میں کس نے پیدا کیا ؟
احساس کا یہ نور اللہ تعالی نے ہر انسان کے دل میں رکھا ہوا ہے، تاکہ وہ اچھائی اور برائی میں تمیز کر سکے۔

: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
“وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا، فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا”
(الشمس: 7-8)
اور نفس کی قسم اور اسے (اللہ تعالیٰ نے) درست کیا، پھر اس میں بدکاری اور پرہیزگاری کی پہچان ڈال دی۔

توحید

کائنات کا طے شدہ نظم وضبط، زمین و آسمان کی ہم آہنگی، اور فطرت کی بےمثال ترتیب ایک حقیقت کی گواہ ہے، اور وہ یہ کہ سب کچھ ایک ہی خالق کے دستِ قدرت کا شاہکار ہے۔
اگر کئی معبود ہوتے تو نظام بگڑ جاتا، توازن ٹوٹ جاتا، اور کائنات انتشار کا شکار ہو جاتی۔

: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا ۚ
( الأنبياء: 22)
اگر زمین و آسمان میں اللہ تعالیٰ کے سوا اور معبود ہوتے تو ان کا نظام بگڑ جاتا۔

جس طرح کوئی شاہکار کسی ایک مصور کا ہوتا ہے، ویسے ہی یہ عظیم کائنات بھی ایک ہی خالق کی تخلیق ہے۔

دل کی گہرائیوں سے نکلتی ہر دعا، بے قرار روح کی ہر سسکی، اور ہر سجدہ گواہ ہے کہ معبود صرف ایک ہے، اور وہی سب پر حکمرانی کرتا ہے

توحید کی تعریف

توحید عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے “کسی کو ایک ماننا یا یکتا قرار دینا۔

اصطلاحی تعریف
شریعت میں توحید سے مراد اللہ تعالیٰ کو ان کی ذات، صفات اور افعال میں ایک اور یکتا ماننا اور کسی کو بھی ان کا شریک نہ ٹھہرانا ہے۔

توحید کے تین بنیادی ارکان ہیں

توحید فی الذات۔

یہ ماننا کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات میں ایک یکتا اور بے مثال ہیں۔ نہ ان کی کوئی ابتداء ہے نہ انتہاء، اور نہ ہی ان جیسا کوئی دوسرا ہے

لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ” (الشوریٰ: 11)
اللہ تعالیٰ کے مثل کچھ بھی نہیں ہے ۔

توحید فی الصفات ۔

صفات میں توحید کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات و افعال میں کوئی ، ان کا شریک نہیں۔
اللہ تعالی کے بہت سے صفاتی نام ہیں جنہیں اسماء حسنی کہا جاتا ہے ۔

: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
“وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ فَادْعُوهُ بِهَا”
(الأعراف: 180)
اور سب سے اچھے نام اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہیں، لہذا اللہ تعالیٰ کو ان (ناموں) سے پکارو۔

اللہ تعالیٰ کی صفات پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ اسمائے حسنیٰ میں اللہ تعالیٰ کی جو صفات مذکور ہیں ان سب پر ایمان لانا۔
جیسے کہ: اللہ تعالیٰ ہی خالق، مالک اور رازق ہیں ۔ وہی زندگی اور موت دیتے ہیں ، وہی بارش برساتے ہیں ، اور وہی زمین سے اناج اگاتے ہیں۔

:اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں

“اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ”
(الزمر: 62)
“اللہ تعالیٰ ہر چیز کے خالق ہیں۔”

وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا
(ہود: 6)
اور زمین پر کوئی بھی جاندار ایسا نہیں جس کا رزق اللہ تعالیٰ کے ذمے نہ ہو۔

أَفَرَأَيْتُمُ الْمَاءَ الَّذِي تَشْرَبُونَ أَأَنتُمْ أَنزَلْتُمُوهُ مِنَ الْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ الْمُنزِلُونَ
(الواقعہ: 68-69)
“کیا تم نے اس پانی پر غور کیا جو تم پیتے ہو؟ کیا تم نے اسے بادل سے برسایا ہے یا ہم برسانے والے ہیں؟”

ابراہیم علیہ السلام نے توحید کی دعوت دیتے ہوئے اپنی قوم سے کہا تھا

الَّذِي خَلَقَنِي فَهُوَ يَهْدِينِ
وَالَّذِي هُوَ يُطْعِمُنِي وَيَسْقِينِ
وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ
وَالَّذِي يُمِيتُنِي ثُمَّ يُحْيِينِ
(الشعراء: 78-81)
( میرا رب) وہی ہے جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی میری رہنمائی فرماتا ہے۔
اور وہی ہے جو مجھے کھلاتا ، پلاتا ہے۔
اور جب میں بیمار ہوتا ہوں، تو وہی مجھے شفا دیتا ہے۔
اور وہی مجھے موت دے گا، پھر وہی مجھے زندہ کرے گا۔

الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا
(الملک: 2)
(اللہ تعالیٰ) وہی ہیں جنہوں نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائیں کہ تم میں سے کون اچھے عمل کرتا ہے۔

توحید فی العبادة۔

عبادت صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔
دعا، سجدہ، خوف، امید، سب اللہ تعالیٰ سے ہونی چاہئے ۔

: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
فَمَن كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا
(الکہف: 110)
پس جو کوئی اپنے رب سے ملاقات کی امید رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے۔

: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
“وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا”
(النساء: 36)
تم ، اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور ان کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔

إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ” (الفاتحہ: 5)
(اے اللہ تعالی ) ہم آپ ہی کی عبادت کرتے ہیں اور آپ ہی سے مدد مانگتے ہیں

توحید پر یقین کے تحفے

سکون و اطمینان

اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے والا کبھی پریشان نہیں ہوتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔

“أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ”
(الرعد: 28)
خبردار! اللہ تعالیٰ کے یاد سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔

اللہ تعالی پر بھروسہ

: نبی کریم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں
“لَوْ أَنَّكُمْ تَوَكَّلْتُمْ عَلَى اللَّهِ حَقَّ تَوَكُّلِهِ لَرَزَقَكُمْ كَمَا يَرْزُقُ الطَّيْرَ”
(جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ)
اگر تم اللہ تعالیٰ پر اس طرح بھروسہ کرو جیسا بھروسہ کرنے کا حق ہے تو وہ تمہیں اسی طرح رزق دے گا جیسے پرندوں کو دیتا ہے۔

آخرت کی کامیابی

یہ دنیا فانی ہے، لیکن جنت ہمیشہ باقی رہے گی۔ جو اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہے، وہی جنت کا حق دار ہوگا۔

توحید کا نور، آزادی کا شعور

جب انسان اپنے رب کو ایک مان لیتا ہے اور اس کی ذات پر مکمل بھروسہ کر لیتا ہے، تو اس کے دل میں سکون اور اطاعت کا چراغ روشن ہو جاتا ہے۔ وہ اللہ کے ہر فیصلے پر راضی رہتا ہے، کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ ہر تقدیر اسی حکمت والے رب کے ہاتھ میں ہے۔

یہی یقین اسے باطل کے خلاف ڈٹ جانے کی جرأت عطا کرتا ہے۔ اب وہ کسی ظالم قوت سے نہیں گھبراتا، کیونکہ وہ جان چکا ہوتا ہے کہ حقیقی طاقت صرف اس کے رب کے پاس ہے۔ وہ مخلوق کی غلامی کے طوق کو توڑ کر حقیقی آزادی کی فضا میں سانس لینے لگتا ہے۔

یہی توکل تھا جس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بے خوف ہو کر آگ میں قدم رکھنے کا حوصلہ دیا، یہی یقین تھا جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کے جبر کے خلاف کھڑا کر دیا، اور یہی ایمان تھا جس نے نبی کریم ﷺ کو باطل کے ایوانوں میں زلزلہ برپا کرنے کا حوصلہ بخشا۔

حقیقی آزادی دراصل اسی میں ہے کہ بندہ ہر خوف اور مصلحت سے بے نیاز ہو کر صرف اپنے رب پر بھروسہ کرے اور حق کے راستے پر بے دھڑک بڑھتا چلا جائے۔

👉 हिंदी में पढ़ने के लिए यहाँ दबाएँ

👉Click here to read in English

👉 تازہ ترین مضمون پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں

Tashreeh Updates 👋

Get new articles in your inbox.

We don’t spam! Read our privacy policy for more info.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *