ایمان کے بنیادی ارکان میں سے ایک اہم رکن اللہ تعالیٰ کے نبیوں پر ایمان لانا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم یقین رکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر قوم کی ہدایت کے لیے نبی بھیجے، جو انسانوں کو رشد و ہدایت کی راہ دکھاتے اور حق و باطل کے درمیان امتیاز قائم کرتے تھے ۔
انبیاء کرام علیہم السلام ، اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندے اور ان کے سچے نمائندے تھے جن میں سب سے پہلے انسان اور نبی حضرت آدم علیہ السلام ہیں اور آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ۔
انبیاء کرام علیھم السلام پر ایمان، تسلیم حق کی علامت
نبیوں پر ایمان لانے کا مطلب صرف ان کے وجود کو تسلیم کرنا نہیں، بلکہ ان کی سچائی، ان کی معصومیت، ان کی تعلیمات، اور ان کے مشن کو دل کی گہرائیوں سے ماننا ہے ۔
اللہ تعالیٰ نے ہر امت میں ہدایت کے لیے اپنے پیغمبر بھیجے، تاکہ لوگ راہِ حق سے نہ بھٹکیں۔
وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا (النحل: 36)
“اور یقیناً ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا۔”
انبیاء کرام علیهم السلام ، اللہ تعالیٰ کے منتخب اور برگزیدہ بندے اور ہر قسم کی لغزشوں سے پاک اور حق و صداقت کا پیکر ہوتے ہیں۔
اور وہ جو کچھ کہتے یا کرتے ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ کا حکم ہوتا ہے ۔
وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ (النجم: 3-4)
وہ اپنی خواہش سے نہیں بولتے، وہ تو صرف وحی ہوتی ہے، جو ان پر نازل کی جاتی ہے۔
تمام انبیاء کرام علیھم السلام کا یکساں احترام
تمام انبیاء کرام علیہم السلام یکساں طور پر قابل احترام ہیں اساسیات نبوت میں کسی کو کسی پر کوئی فوقیت نہیں ہے ۔
سبھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہوئے ہیں ۔
سبھی معصوم ہیں ۔
سبھی سچے ہیں۔
سبھی کا پیغام ایک ہے ۔
لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ (البقرة: 136)
ہم نبیوں میں کسی طرح کا کوئی فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ تعالیٰ کے فرماں بردار ہیں۔
البتہ ذمہ داریوں اور حلقہ کار کی بنیاد پر کسی کو کسی پر کچھ فضیلت حاصل ہو ، یہ الگ بات ہے ۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں۔
تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ ۘ( بقرہ 243)
رسولوں میں ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت بخشی ہے ۔
رسالت کے آخری تاجدار : خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ
اسلام کا بنیادی عقیدہ یہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں، اور آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔
: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَٰكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ (الاحزاب: 40)
محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں، لیکن وہ اللہ تعالیٰ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔
تصدیقِ رسالت کے بغیر ، ایمان ناقص
:اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُوْلَٰئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ وَالشُّهَدَاءُ عِندَ رَبِّهِمْ (الحدید: 19)
اور جو لوگ اللہ تعالیٰ اور ان کے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں، وہی اپنے رب کے نزدیک صدیق اور شہداء ہیں۔
اسلام ہمیں حکم دیتا ہے کہ ہم تمام انبیاء کرام علیھم السلام پر اور ان کی طرف نازل شدہ کتابوں ہر بلا تفریق ایمان رکھیں ۔
: ارشاد ہے
قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنزِلَ إِلَىٰ إِبْرَاهِيمَ کے وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ وَمَا أُوتِيَ مُوسَىٰ وَعِيسَىٰ وَمَا أُوتِيَ النَّبِيُّونَ مِنْ رَبِّهِمْ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ (البقرہ: 136)
کہو کہ ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور اس پر جو ہم پر نازل کیا گیا، اور اس پر بھی جو ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب، اور ان کی اولاد پر نازل کیا گیا، اور جو موسیٰ و عیسیٰ کو دیا گیا، اور جو دوسرے نبیوں کو ان کے رب کی طرف سے دیا گیا۔ ہم ان میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے۔
یہ عقیدہ ایمان کے چھ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں
أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ (صحیح مسلم)
ایمان یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ پر، ان کے فرشتوں پر، ان کی کتابوں پر، ان کے رسولوں پر، قیامت کے دن پر، اور اچھی ، بری تقدیر پر ایمان رکھو۔
تمام انبیاء کی تعلیمات یکساں ہیں
انبیاء علیهم السلام کا بنیادی پیغام ہمیشہ یکساں رہا بالخصوص توحید باری تعالیٰ معروف کا حکم اور برائی پر روک ۔
نبی اکرم ﷺ نے بھی اس حقیقت کو واضح کیا
الْأَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ لِعَلَّاتٍ، دِينُهُمْ وَاحِدٌ، وَأُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى ( بخاری ، مسلم )
تمام انبیاء ایک دوسرے کے سوتیلے بھائی ہیں ان کا دین ایک ہی ہے، اگرچہ ان کی مائیں الگ الگ ہیں۔
مائیں الگ الگ ہیں کا مطلب یہ ہے کہ : شریعتیں قوموں کے حالات اور صلاحیتوں کے لحاظ سے قدرے مختلف رہی ہیں ۔
کسی ایک نبی کا انکار، تمام نبیوں کا انکار ہے
اگر کوئی شخص کسی ایک نبی کا بھی انکار کرے تو گویا وہ تمام نبیوں کا انکار کر رہا ہے، اور ایسے شخص کا انجام جہنم ہے۔
نبی کریم ارشاد فرماتے ہیں
وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَا يَسْمَعُ بِي أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ يَهُودِيٌّ وَلَا نَصْرَانِيٌّ، ثُمَّ يَمُوتُ وَلَمْ يُؤْمِنْ بِالَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ، إِلَّا كَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ (صحیح مسلم: 153)
قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد (ﷺ) کی جان ہے! اس امت میں سے جو بھی (میری بعثت کے بارے میں) سنے، خواہ وہ یہودی ہو یا نصرانی، پھر وہ مر جائے اور اس چیز پر ایمان نہ لائے جس کے ساتھ میں بھیجا گیا ہوں، تو وہ جہنم میں جائے گا۔
رسولوں پر ایمان لانا ایک ایسا بنیادی عقیدہ ہے جس کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہو سکتا۔ ہمیں یقین رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر قوم کی ہدایت کے لیے انبیاء مبعوث فرمائے، اور حضرت محمد ﷺ کو آخری نبی بنایا۔
جو اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہے، وہی کامیاب ہے، اور جو اس سے انکار کرتا ہے، وہ خسارے میں ہے۔
ختم نبوت: ہدایت کی تکمیل
اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانیت کی رہنمائی کا سلسلہ ہمیشہ سے جاری رہا۔ مختلف ادوار میں، مختلف اقوام کو اللہ تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ بندوں کے ذریعے حق کا راستہ دکھایا۔
یہ سلسلہ حضرت آدمؑ سے شروع ہوا اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر آ کر ہمیشہ کے لیے مکمل ہوگیا۔
ختمِ نبوت محض ایک مذہبی عقیدہ نہیں، بلکہ ایک عقلی، نقلی اور تاریخی حقیقت بھی ہے، جو دین کی تکمیل اور نبوت کے فلسفے کی آخری کڑی ہے۔
نبوت کا مقصد اور اس کی تکمیل
نبوت کا مقصد انسانوں کو اللہ تعالیٰ کی بندگی کا شعور دینا، بھٹکی ہوئی انسانیت کو صراطِ مستقیم پر لانا اور زندگی کے ہر شعبے میں ہدایت فراہم کرنا تھا۔ ہر نبی اپنے وقت اور قوم کے لحاظ سے مبعوث ہوتے رہے، لیکن چونکہ دین مکمل نہیں ہوا تھا، اس لیے نبوت کا سلسلہ جاری رہا۔
آخرکار، جب دین اپنے عروج کو پہنچا اور شریعت کی تکمیل ہوگئی، تو اللہ تعالیٰ نے نبوت کے دروازے کو ہمیشہ کے لیے بند کر دیا۔
قرآن کریم اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کرتا ہے
مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَٰكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ
محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں، لیکن وہ اللہ تعالیٰ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔ (الأحزاب: 40)
یہ آیت واضح اعلان ہے کہ نبی کریم ﷺ آخری نبی ہیں اور آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔
نبوت اور رسالت میں فرق
رسالت ( رسول ہونا ) اسپیشل درجہ ہے جو کسی نبی کو ہی حاصل ہو سکتا ہے یعنی ہر رسول کا نبی ہونا ضروری ہے ، مگر ہر نبی ، رسول نہیں ہو سکتا ۔
اس لئے یہ مغالطہ نہ رہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین قرار دیا ہے ، خاتم الرسل نہیں ، تو نعوذ باللہ نبوت ختم ہوئی ہے نہ کہ رسالت ۔۔۔۔۔۔۔۔
خاتم النبیین کہکر ہر طرح کے اندیشے ختم کر دئے گئے کہ جس کسی کے پاس نبوت ہی نہ ہوگی وہ رسول نہیں ہو سکتا۔
کیونکہ نبوت، رسالت کا زینہ ہے اور اس کے بغیر رسالت امکان ہی نہیں ہے ۔
ختم نبوت کیوں ضروری ہے؟
:دین کی تکمیل
:اگر نبوت کا دروازہ کھلا رہتا، تو یہ دین کے نا مکمل ہونے کی دلیل ہوتی، حالانکہ اللہ تعالیٰ خود اعلان فرماتے ہیں
“الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ”
آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا (المائدہ: 3)
جب دین مکمل ہوگیا، تو مزید کسی نبی کی ضرورت باقی نہیں رہ گئی ہے۔
:قرآن کریم ، مکمل ہدایت
سابقہ شریعتیں محدود وقت اور مخصوص اقوام کے لیے تھیں، لیکن قرآن مجید قیامت تک باقی رہنے والی جامع اور محفوظ کتاب ہے، جس میں ہر دور کے انسانوں کے لیے ہدایت موجود ہے۔ جب ہدایت کا ذریعہ مکمل ہوچکا ہے ، تو نبیوں کی ضرورت ختم ہوگئی۔
:عالمگیر پیغام
سابقہ انبیاء ، مخصوص قوموں کے لیے مبعوث کیے جاتے تھے، لیکن نبی اکرم ﷺ تمام انسانوں کے لیے ہادی بنا کر بھیجے گئے:
“وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا كَافَّةً لِّلنَّاسِ”
اور ہم نے آپ کو تمام انسانوں کے لیے بھیجا ہے
(سبأ: 28)
نبی کریم ﷺ نے اپنی نبوت کے آخری ہونے کی وضاحت کئی مواقع پر فرمائی ہے
:ارشاد ہے
إِنَّ الرِّسَالَةَ وَالنُّبُوَّةَ قَدِ انْقَطَعَتْ، فَلَا رَسُولَ بَعْدِي وَلَا نَبِيَّ (ترمذی: 2272)
یقیناً رسالت اور نبوت کا سلسلہ ختم ہوچکا، اب میرے بعد نہ کوئی رسول آئے گا اور نہ کوئی نبی۔
مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى دَارًا (صحیح بخاری: 3535)
میری اور انبیاء کی مثال ایک ایسی عمارت کی طرح ہے، جس کی تکمیل ہوچکی مگر ایک اینٹ کی جگہ خالی تھی، میں وہ آخری اینٹ ہوں
اور آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا
لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُبْعَثَ دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ قَرِيبًا مِنْ ثَلَاثِينَ، كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ
(صحيح البخاري: 3609، صحيح مسلم: 157)
قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تیس کے قریب دجال (جھوٹے نبی) نہ پیدا ہونگے ہر ایک یہی دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے۔
امت کی ذمہ داری
ختم نبوت کا عقیدہ ایمان کی اساس ہے، اور نبی کریم ﷺ کی سنت کی روشنی میں اس کا دفاع ہر مسلمان پر فرض ہے۔ تاریخ میں کئی فتنے اٹھے، لیکن امتِ مسلمہ نے ہر دور میں جھوٹے مدعیانِ نبوت کے خلاف حق کا عَلَم بلند کیا۔
آج بھی، اگر کوئی نبوت کا دعویٰ کرے، تو وہ قرآن کریم احادیث اور عقل تینوں کی رو سے جھوٹا ہے۔
مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس فتنے سے خود کو اور اپنی نسلوں کو محفوظ رکھیں اور اس عقیدے کی تعلیم کو عام کریں۔
اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی ہدایت کے لیے ایک مکمل نظام دے دیا، ایک کامل کتاب نازل کردی، اور ایک ایسا نبی مبعوث فرمایا جو قیامت تک تمام انسانوں کے لیے نمونہ ہے۔ اب کسی نئے نبی کی نہ ضرورت ہے اور نہ گنجائش ۔
خاتم النبیین محض ایک لقب نہیں، بلکہ نبوت کی تکمیل کا اعلان اور امتِ مسلمہ کے ایمان کی اساس ہے۔ اس عقیدے کی حفاظت کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے، کیونکہ یہی عقیدہ دین کی تکمیل اور رسالتِ محمدی کی ابدیت کی ضمانت ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں انبیاء کرام علیھم السلام کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔