Tashreeh Angle

کائنات کی ہر حرکت ایک پوشیدہ نظم و نسق کی گواہ ہے، جہاں اللہ تعالیٰ کے نورانی بندے خاموشی سے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
یہ فرشتے امرِ الٰہی کے امین، کائناتی توازن کے محافظ اور انسانوں کے ہر قول و عمل کے نگراں ہیں۔
ان پر ایمان لانا، غیب کی حقیقت کو تسلیم کرنا اور بندگی کے شعور کو مضبوط کرنا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے کائنات کے نظام کو چلانے کے لیے بے شمار غیر مرئی قوتیں پیدا فرما رکھی ہیں
اسی طرح فرشتے بھی الٰہی نظام کے خدمتگار ہیں۔ ان میں سے کچھ وحی کے پیامبر ہیں، کچھ روح قبض کرنے والے، کچھ انسانوں کے اعمال کے محافظ، اور کچھ کائناتی نظم و ضبط کے نگران۔۔۔۔
مگر یہ نظر نہیں آتے ہیں۔
ہمیں بنا دیکھے ہی انہیں ماننا ہے ۔
کیونکہ رب کریم اور صادق و امین ﷺ نے ان کے وجود و عمل کی خبر دی ہے۔

فرشتوں پر ایمان

ایمان کے چھ ارکان میں سے ایک اہم رکن فرشتوں پر ایمان ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں مذکور تفصیلات کے مطابق ، فرشتوں کے وجود ، ان کی ذمہ داریوں ، اور ان کی صفات پر مکمل یقین رکھیں۔

فرشتوں پر ایمان کی صورتیں

فرشتوں کے وجود پر ایمان

فرشتے اللہ تعالی کی نورانی مخلوق ہیں، جو اللہ تعالیٰ کے مکمل فرمانبردار ہیں اور ایک لمحہ کے لئے بھی نافرمانی کا ارتکاب نہیں کرتے۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں

لَا يَعْصُونَ اللَّهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ (التحریم: 6)
وہ (فرشتے) اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ جو حکم دیا جاتا ہے، وہی بجا لاتے ہیں۔

فرشتے ہر وقت اللہ تعالی کی عبادت کرتے ہیں

وَلَهُۥ مَن فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ وَمَنۡ عِندَهُۥ لَا يَسۡتَكۡبِرُونَ عَنۡ عِبَادَتِهِۦ وَلَا يَسۡتَحۡسِرُونَ ۝ يُسَبِّحُونَ ٱلَّيۡلَ وَٱلنَّهَارَ لَا يَفۡتُرُونَ ( انبياء 19 )
اور جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی (اللہ تعالیٰ) کا بندہ اور مملوک ہے، اور جو اللہ تعالیٰ کے پاس ( فرشتے) ہیں وہ نہ تو عبادت سے سرکشی کرتے ہیں اور نہ تھکتے ہیں۔ وہ رات و دن (بغیر کسی وقفے کے) تسبیح کرتے رہتے ہیں۔

فرشتوں کی تعداد پر ایمان

فرشتوں کی تعداد اللہ تعالی ہی کو معلوم ہے، لیکن وہ بے شمار ہیں۔

: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
“وَمَا يَعْلَمُ جُنُودَ رَبِّكَ إِلَّا هُوَ”
اور آپ کے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
( المدثر: 31)

نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا

أَطَّتِ السَّماءُ، وحُقَّ لَهَا أَنْ تَئِطَّ، مَا فِيهَا مَوْضِعُ أَرْبَعِ أَصَابِعَ إِلَّا وَمَلَكٌ واضِعٌ جَبْهَتَهُ ساجِدًا لله تَعَالى۔(جامع ترمذي)

آسمان چرچرا رہا ہے، اور اسے چرچرانا بھی چاہیے، کیونکہ اس میں چار انگلیوں کے برابر (تھوڑی سی) بھی کوئی جگہ نہیں ہے جہاں کوئی فرشتہ اللہ تعالیٰ کے لیے سجدہ ریز نہ ہو ۔

فرشتوں کی صفات پر ایمان▪️

فرشتے نور سے پیدا کیے گئے ہیں▪️

:نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرماتے ہیں

“خُلِقَتِ الْمَلَائِكَةُ مِنْ نُورٍ، وَخُلِقَ الْجَانُّ مِنْ مَارِجٍ مِنْ نَارٍ، وَخُلِقَ آدَمُ مِمَّا وُصِفَ لَكُمْ.”
(صحیح مسلم)

فرشتے نور سے پیدا کیے گئے، جن آگ کے شعلے سے پیدا کیے گئے، اور آدم اس سے ، جو تمہیں بتایا گیا ہے ( یعنی مٹی سے) ۔

فرشتے بہت زیادہ طاقتور ہیں

إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ ۝ ذِي قُوَّةٍ عِندَ ذِي الْعَرْشِ مَكِينٍ
(التکویر 81:19-20)
بے شک یہ (قرآن) ایک بزرگ قاصد (فرشتے) کا کہا ہوا ( سنایا ہوا ) ہے، جو بڑی قوت والا ہے، عرش والے کے نزدیک بلند مرتبہ رکھتا ہے۔

یہاں جبرئیل علیہ السلام کے بارے میں بیان کیا گیا ہے کہ وہ بڑی قوت والے ہیں۔

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا

أُذِنَ لِي أَنْ أُحَدِّثَ عَنْ مَلَكٍ مِنْ مَلَائِكَةِ اللَّهِ مِنْ حَمَلَةِ الْعَرْشِ، إِنَّ مَا بَيْنَ شَحْمَةِ أُذُنِهِ إِلَى عَاتِقِهِ مَسِيرَةُ سَبْعِمِائَةِ عَامٍ
(سنن أبي داود)

مجھے اس فرشتے کے بارے میں بات کرنے کی اجازت دی گئی ہے جو اللہ تعالیٰ کے عرش کو اٹھانے والے فرشتوں میں سے ایک ہیں ۔
اس کے کان کی لو سے ، کندھے تک کا فاصلہ 700 سال کی مسافت کا ہے۔

فرشتوں کے پر ہوتے ہیں

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
الْحَمْدُ لِلَّهِ فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ جَاعِلِ الْمَلَائِكَةِ رُسُلًا أُولِي أَجْنِحَةٍ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ ۚ يَزِيدُ فِي الْخَلْقِ مَا يَشَاءُ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
(فاطر: 1)

سب تعریفیں اللہ تعالی کے لیے ہیں جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے، جس نے فرشتوں کو قاصد بنایا، جن کے دو، دو ، تین تین اور چار ،چار پر ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی تخلیق میں جو چاہے اضافہ کرتے ہیں، بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہیں۔

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ
“رَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلَ فِي صُورَتِهِ، وَلَهُ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ، كُلُّ جَنَاحٍ مِنْهَا قَدْ سَدَّ الْأُفُقَ، يَسْقُطُ مِنْ جَنَاحِهِ مِنَ التَّهَاوِيلِ وَالدُّرِّ وَالْيَاقُوتِ مَا اللهُ بِهِ عَلِيم

نبی کریم ﷺ نے حضرت جبرئیل کو ان کی اصل شکل میں دیکھا۔ ان کے 600 پر تھے، اور ہر پر سے موتیوں اور یاقوت کے رنگ برنگے جواہر گر رہے تھے۔
(مسند احمد )

فرشتے کھانے پیتے نہیں ہیں
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آنے والے فرشتوں کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتےہیں

فَرَاغَ إِلَىٰ أَهْلِهِ فَجَاءَ بِعِجْلٍ سَمِينٍ فَقَرَّبَهُ إِلَيْهِمْ قَالَ أَلَا تَأْكُلُونَ
(الذاریات: 26-27)

پس وہ (ابراہیم) چپکے سے اپنے گھر والوں کے پاس گئے اور ایک فربہ بچھڑا ( کا گوشت) لے کر آئے ۔ پھر انہیں پیش کیا اور فرمایا: ‘کیا تم کھاتے نہیں ہو ؟

نبی کریم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں

طعَامُ الْمَلَائِكَةِ التَّسْبِيحُ، وَشَرَابُهُمُ التَّهْلِيلُ وَالتَّقْدِيسُ
(المعجم الأوسط للطبراني)
فرشتوں کی خوراک تسبیح ہے، اور ان کا مشروب تہلیل (لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ) اور تقدیس (اللہ کی پاکی بیان کرنا) ہے۔

فرشتے ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول رہتے ہیں

نبی کریم ﷺ نے فرمایا
“مَا فِي السَّمَاءِ مَوْضِعُ أَرْبَعِ أَصَابِعَ إِلَّا وَفِيهِ مَلَكٌ قَائِمٌ أَوْ رَاكِعٌ أَوْ سَاجِدٌ.”
(مسند أحمد)

آسمان میں چار انگلیوں کے برابر ( تھوڑی سی) بھی کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں کوئی فرشتہ قیام ، رکوع یا سجدے کی حالت میں نہ ہو

فرشتے مرد یا عورت نہیں ہوتے
فرشتے اللہ تعالیٰ کی خاص مخلوق ہیں اور انسانوں کی طرح مرد یا عورت نہیں ہوتے۔گے

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں

وَجَعَلُوا الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبَادُ الرَّحْمَٰنِ إِنَاثًا ۚ أَشَهِدُوا خَلْقَهُمْ ۚ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْأَلُونَ(الزخرف: 19)

اور انہوں نے فرشتوں کو، جو رحمٰن کے بندے ہیں، عورتیں قرار دیا
کیا وہ ان کی تخلیق کے وقت موجود تھے؟ ان کی یہ گواہی لکھی جائے گی اور ان سے (قیامت میں) پوچھا جائے گا۔

فرشتوں کے کاموں پر ایمان

اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے ذمہ کچھ خاص کام سونپے ہیں
ان میں سے چند مشہور فرشتے اور ان کے کام یہ ہیں

حضرت جبریل علیہ السلام

اللہ تعالی کے پیغام نبیوں تک پہنچاتے تھے۔

نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ (الشعراء: 193)
اس (قرآن) کو روح الامین (جبریل) لے کر نازل ہوئے۔

حضرت میکائیل علیہ السلام
بارش اور رزق کی تقسیم کے ذمہ دار ہیں۔

حضرت اسرافیل علیہ السلام
قیامت کے دن صور پھونکنے کے ذمہ دار ہیں۔

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ

“جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ مَوْكَلٌ بِالْوَحْيِ، وَمِيكَائِيلُ مَوْكَلٌ بِالْقَطْرِ وَالنَّبَاتِ، وَإِسْرَافِيلُ مَوْكَلٌ بِالنَّفْخِ فِي الصُّورِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.”
(مستدرك حاکم)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
جبریل علیہ السلام وحی پہنچانے کے ذمہ دار ہیں، میکائیل علیہ السلام بارش اور نباتات (رزق) کے انتظام پر مقرر ہیں، اور اسرافیل علیہ السلام قیامت کے دن صور پھونکنے کے لیے مقرر ہیں۔

حضرت عزرائیل علیہ السلام (ملک الموت)

عزرائیل علیہ السلام، جو کہ ملک الموت (موت کا فرشتہ) کے نام سے جانے جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ کے حکم سے مخلوقات کی روح قبض کرنے کی ذمہ داری انجام دیتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
قُلْ يَتَوَفَّاكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِي وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّكُمْ تُرْجَعُونَ
(السجدة: 11)
کہو: موت کا فرشتہ تمھاری روح قبض کرے گا جو تم پر مقرر کیا گیا ہے، پھر تم اپنے رب کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا

“إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا أَرَادَ قَبْضَ رُوحِ عَبْدٍ بِأَرْضٍ جَعَلَ لَهُ إِلَيْهَا حَاجَةً فَيُصِيرُهُ إِلَيْهَا، فَإِذَا بَلَغَ أَجَلُهُ قَبَضَ رُوحَهُ مَلَكُ الْمَوْتِ.”
(مسند أحمد)

اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کی روح کسی خاص جگہ پر قبض کرنا چاہتے ہیں تو وہاں جانے کا کوئی سبب پیدا کر دیتے ہیں، اور جب اس کا وقت پورا ہو جاتا ہے تو ملک الموت اس کی روح قبض کر لیتے ہیں۔

حضرات کراماً کاتبین عليهم السلام

انسانوں کے اعمال لکھنے والے دو فرشتے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
إِذۡ يَتَلَقَّى ٱلۡمُتَلَقِّيَانِ عَنِ ٱلۡيَمِينِ وَعَنِ ٱلشِّمَالِ قَعِيدٞ ۝ مَّا يَلۡفِظُ مِن قَوۡلٍ إِلَّا لَدَيۡهِ رَقِيبٌ عَتِيدٞ
(ق 50:17-18)
جب دو وصول کرنے والے (فرشتے) ایک دائیں اور ایک بائیں بیٹھے (سب کچھ لکھ رہے ہوتے ہیں) انسان جو بھی بات زبان سے نکالتا ہے، اس کے پاس ایک نگہبان (فرشتہ) موجود ہوتا ہے جو (سب کچھ) لکھنے کے لیے تیار رہتا ہے۔

سورہ انفطار میں ہے

إِنَّ عَلَيْكُمْ لَحَافِظِينَ كِرَامًا كَاتِبِينَ يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ (الانفطار: 10-12)
تم پر نگہبان مقرر ہیں، جو معزز کاتب ہیں اور تمہارے اعمال کو جانتے ہیں۔

حضرت أبو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
يَتَعاقَبُونَ فِيكُمْ مَلائِكَةٌ باللَّيْلِ ومَلائِكَةٌ بالنَّهارِ ويَجْتَمِعُونَ في صَلاةِ الفَجْرِ وصَلاةِ العَصْرِ، ثُمَّ يَعْرُجُ الَّذِينَ باتُوا فِيكُمْ فَيَسْأَلُهُمْ رَبُّهُمْ، وهُوَ أعْلَمُ بهِمْ: كَيْفَ تَرَكْتُمْ عِبَادِي؟ فَيَقُولُونَ: تَرَكْنَاهُمْ وهُمْ يُصَلُّونَ، وأَتَيْنَاهُمْ وهُمْ يُصَلُّونَ.”
( بخاری ،مسلم)

نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا

تمہارے درمیان رات اور دن کے فرشتے باری باری آتے ہیں، اور فجر اور عصر کی نماز میں وہ جمع ہوتے ہیں۔ پھر وہ فرشتے جو رات میں تمہارے پاس رہے، اوپر چلے جاتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتے ہیں ، حالانکہ وہ سب کچھ جانتے ہیں : ‘تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا؟’ وہ جواب دیتے ہیں: ‘ہم نے انہیں نماز ادا کرتے ہوئے چھوڑا، اور جب ہم ان کے پاس آئے تو وہ نماز ادا کر رہے تھے۔

حضرات منکر ، نکیر عليهما السلام

منکر نکیر دو فرشتے ہیں جو قبر میں آنے والے ہر انسان سے سوالات کرتے ہیں۔
ان کا کام میت کے ایمان کی کیفیت جانچنا ہوتی ہے۔

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ
إِذَا قُبِرَ المَيِّتُ أَتَاهُ مَلَكَانِ أَسْوَدَانِ أَزْرَقَانِ، يُقَالُ لأَحَدِهِمَا المُنكَرُ، وَلِلآخَرِ النَّكِيرُ۔
(سنن ترمذي ،سنن أبي داود)

نبی کریم ﷺ نے فرمایا
جب میت کو دفن کر دیا جاتا ہے تو اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، جو کالی اور نیلی آنکھوں والے ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک کو ‘منکر’ اور دوسرے کو ‘نکیر’ کہا جاتا ہے۔

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا

يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ (سورۃ ابراہیم: 27)

اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو دنیا اور آخرت کی زندگی میں سچی بات پر ثابت قدم رکھتے ہیں، اور ظالموں کو گمراہ رہنے دیتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ جو چاہتے ہیں کرتے ہیں۔

پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا

إِذَا أُقْعِدَ الْمُؤْمِنُ فِي قَبْرِهِ أُتِيَ فَيُشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَذَاكَ قَوْلُهُ: يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ، وَيَأْتِيهِ الْمَلَكَانِ فَيَقُولَانِ لَهُ: مَنْ رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: رَبِّيَ اللَّهُ، فَيَقُولَانِ: مَا دِينُكَ؟ فَيَقُولُ: دِينِيَ الْإِسْلَامُ، فَيَقُولَانِ: مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ؟ فَيَقُولُ: هُوَ رَسُولُ اللَّهِ، فَيَقُولَانِ: وَمَا يُدْرِيكَ؟ فَيَقُولُ: قَرَأْتُ كِتَابَ اللَّهِ فَآمَنْتُ بِهِ وَصَدَّقْتُ.

جب مومن کو قبر میں بٹھایا جاتا ہے، تو اس کے پاس فرشتے آتے ہیں پھر وہ اس سے سوال کرتے ہیں

مَنْ رَبُّكَ؟ (تیرا رب کون ہے؟)
وہ کہتا ہے: رَبِّيَ اللَّهُ (میرے رب اللہ تعالیٰ ہیں)

مَا دِينُكَ؟ (تیرا دین کیا ہے؟)

وہ کہتا ہے: دِينِيَ الْإِسْلَامُ (میرا دین اسلام ہے)

مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ؟ (یہ شخص کیا ہے ، جو تم میں بھیجا گیا تھا ؟)
وہ کہتا ہے: هُوَ رَسُولُ اللَّهِ (وہ اللہ کے رسول ﷺ ہیں)

: پھر فرشتے پوچھتے ہیں
وَمَا يُدْرِيكَ؟
تمہیں کیسے معلوم ہوا؟

فَيَقُولُ: قَرَأْتُ كِتَابَ اللَّهِ فَآمَنْتُ بِهِ وَصَدَّقْتُ
وہ کہتا ہے: میں نے اللہ تعالی کی کتاب (قرآن کریم) پڑھی، اس پر ایمان لایا اور اس کی تصدیق کی

لیکن جو کافر اور منافق ہوگا، وہ کہے گا

هَاهْ هَاهْ! لَا أَدْرِي! سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا فَقُلْتُهُ

ہا ہا! مجھے کچھ معلوم نہیں، میں نے لوگوں کو کچھ کہتے سنا میں نے بھی وہی کہہ دیا۔
(مسند أحمد:، سنن ابن ماجه:، سنن أبي داود)

نبی کریم ﷺ نے فرمایا
إِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ تُبْتَلَى فِي قُبُورِهَا، فَلَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا لَدَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُسْمِعَكُمْ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ الَّذِي أَسْمَعُ مِنْهُ
(مسلم)

یہ امت اپنی قبروں میں آزمائی جائے گی، اگر یہ نہ ہوتا کہ تم ایک دوسرے کو دفن کرنا چھوڑ دو گے، تو میں دعا کرتا کہ اللہ تمہیں وہ عذاب قبر سنوا دے جو میں سنتا ہوں۔”

حضرت مالك عليه السلام
جہنم کے داروغہ (نگہبان)۔
وَنَادَوْا يَا مَالِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ (الزخرف: 77)
اور وہ پکاریں گے: اے مالک! ہمارا کام تمام کر دے۔

حضرت رضوان علیه السلام
رضوان علیہ السلام جنت کے دروازے پر مقرر فرشتہ ( داروغہ جنت ہیں) جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے جنتیوں کا استقبال کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں ۔
وَسِيقَ ٱلَّذِينَ ٱتَّقَوْا۟ رَبَّهُمْ إِلَى ٱلْجَنَّةِ زُمَرًۭا حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءُوهَا وَفُتِحَتْ أَبْوَٰبُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلَٰمٌ عَلَيْكُمْ طِبْتُمْ فَٱدْخُلُوهَا خَٰلِدِينَ (الزمر 73-74)

اور جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے رہے، انہیں گروہ در گروہ جنت کی طرف لے جایا جائے گا، یہاں تک کہ جب وہ وہاں پہنچیں گے اور اس کے دروازے کھول دیے جائیں گے، تو اس کے دربان (فرشتے) ان سے کہیں گے: سلام ہو تم پر! تم اچھے رہے، پس جنت میں داخل ہو جاؤ، ہمیشہ کے لیے ہے ۔

جَنَّاتُ عَدْنٍ يَدْخُلُونَهَا وَمَن صَلَحَ مِنْ آبَائِهِمْ وَأَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيَّاتِهِمْ وَالْمَلَائِكَةُ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِم مِّن كُلِّ بَابٍ ۝ سَلَامٌ عَلَيْكُم بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى ٱلدَّارِ
(الرعد 23-24)
(یہ) ہمیشہ رہنے والے باغات ہیں، جن میں وہ داخل ہوں گے اور ان کے ساتھ ان کے آباء، ازواج اور اولاد میں سے جو نیک ہوں گے، اور فرشتے ان پر ہر دروازے سے داخل ہوں گے، (کہتے ہوئے) سلام ہو تم پر، تمہاری صبر و استقامت کے بدلے، تو کیا ہی خوب ہے یہ آخرت کا گھر

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ

آتي بابَ الجنةِ يومَ القيامةِ فأستفتحُ، فيقولُ الخازنُ: من أنتَ؟ فأقولُ: محمدٌ. فيقولُ: بك أُمِرتُ لا أفتحُ لأحدٍ قبلَك
(صحيح مسلم، كتاب الإيمان )
نبی کریم ﷺ نے فرمایا
میں جنت کے دروازے پر آؤں گا اور اس کو کھلوانے کے لیے دستکمیں دوں گا، تو جنت کا دربان (فرشتہ) کہے گا: آپ کون ہیں؟ میں کہوں گا: محمد۔ وہ کہے گا: مجھے یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں آپ کے سوا کسی کے لیے دروازہ نہ کھولوں ۔

خلاصہ

فرشتوں پر ایمان، دل کی دنیا میں یقین کا نور بکھیر دیتا ہے۔
یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی گواہی اور بندگی کی معراج ہے۔
یہ وہ نوری مخلوق ہے جو نہ تھکتی ہے، نہ بھٹکتی، بس حکمِ الٰہی کی تعمیل میں ہمہ وقت سر جھکائے رہتی ہے۔
حضرت جبرئیل علیہ السلام وحی کا پیغام لاتے حضرت میکائیل علیہ السلام رزق بانٹتے، حضرت اسرافیل علیہ السلام صور پھونکنے کے منتظر اور حضرت عزرائیل علیہ السلام روحوں کے سفر کے امین ہیں۔
یہ عقیدہ روح میں پاکیزگی، اعمال میں نکھار اور دل میں احتساب کی لہر دوڑا دیتا ہے۔
کراماً کاتبین کی موجودگی ہر لمحہ راہِ راست پر گامزن رکھتی ہے۔
محافظ فرشتے سکون بخشتے ہیں، اور منکر نکیر کی بازپرس آخرت کی تیاری کا درس دیتی ہے۔
ان کے سجدے بندے کو بندگی کا سلیقہ سکھاتے ہیں، ان کی دعائیں رحمتِ الٰہی کی نوید سناتی ہیں۔
فرشتوں پر ایمان زندگی کو شعور، دل کو سکون، اور روح کو روشنی عطا کرتا ہے۔

گزارش
چونکہ یہ عقیدہ ، ایمان کا دوسرا اہم ترین رکن ہے ، اس لئے اسے اچھی طرح سمجھنا اور سچے دل سے تسلیم کرنا ، ہر مومن کی ذمہ داری ہے ۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی صحیح فہم اور کماحقہ اس پر ایمان کی توفیق بخشیں ۔
آمین

Tashreeh Updates 👋

Get new articles in your inbox.

We don’t spam! Read our privacy policy for more info.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *