اسلام ایک جامع اور آفاقی دین ہے، جو قیامت تک آنے والی انسانیت کی تمام روحانی، اخلاقی اور سماجی ضروریات پر محیط ہے۔
اس دین کی اساس دو عظیم سرچشموں پر استوار ہوتی ہے
قرآن کریم اور احادیث مبارکہ۔

قرآن کریم وحی متلو ہے، جس کے الفاظ و معانی دونوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ ہیں۔
اور احادیث ، وحی غیر متلو ہیں ان کا مضمون اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، مگر الفاظ نبی کریم ﷺ کے ہیں۔
:اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى (النجم 3 )
نبی کریم ﷺ کوئی بات اپنی طبیعت سے نہیں کرتے ، صرف وہ باتیں کرتے ہیں جو ان کی طرف نازل کی جاتی ہیں ۔

اسی لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت در اصل اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے ۔
ارشاد ہے
مَن يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ (النساء: 80)
جس نے رسول کی اطاعت کی، اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی۔
ایک اور آیت سے اس مضمون کی تائید ہوتی ہے
:اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں

وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا (الحشر: 7)
جو کچھ رسول تمہیں دیں اسے لے لو اور جس سے روک دیں اس سے باز آ جاؤ۔
یہ سبھی آیات اس بات کی واضح دلیلیں ہیں کہ قرآن کریم اور سنن مبارکہ دونوں ہی شریعت کے مصادر ہیں ۔
قرآن کریم اصول اور اجمال بیان کرتا ہے جبکہ سنت اس کی تفصیل اور عملی تعبیر فراہم کرتی ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ سلّم نے اس کی مزید وضاحت فرمائی

:آپ ﷺ کا ارشاد ہے
أَلَا إِنِّي أُوتِيتُ الْكِتَابَ وَمِثْلَهُ مَعَهُ، أَلَا يُوشِكُ رَجُلٌ شَبْعَانُ عَلَى أَرِيكَتِهِ يَقُولُ: عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْقُرْآنِ، فَمَا وَجَدْتُمْ فِيهِ مِنْ حَلَالٍ فَأَحِلُّوهُ، وَمَا وَجَدْتُمْ فِيهِ مِنْ حَرَامٍ فَحَرِّمُوهُ، أَلَا وَإِنَّ مَا حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مِثْلُ مَا حَرَّمَ اللَّهُ (ابو داؤد)

خبردار! مجھے قرآن کریم کے ساتھ اس جیسی ایک اور چیز بھی عطا کی گئی ہے یعنی سنت۔
عنقریب ایک شخص شکم سیر اپنی مسند پر بیٹھ کر کہے گا: تم اس قرآن کو لازم پکڑو، جو چیز اس میں حلال پاؤ اسے حلال سمجھو، اور جو چیز اس میں حرام پاؤ اسے حرام سمجھو۔
سن لو! جو چیز رسول اللہ ﷺ نے حرام کی ہے وہ بھی ایسی ہی ہے جیسی اللہ تعالیٰ نے حرام کی ہے۔

:نیز فرمایا
تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا: كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّتِي (موطأ امام مالک)
میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، جب تک ان کو مضبوطی سے تھامے رہو گے، کبھی گمراہ نہ ہوگے

اللہ تعالیٰ کی کتاب اور میری سنت۔
احادیث کی اس قدر واضح اہمیت کے باوجود کیسے ممکن تھا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس کی طرف توجہ نہ دیتے ۔
چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے احادیث کو محفوظ کرنے کے لیے غیر معمولی محنتیں کیں ۔

:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
ما من أصحاب النبي ﷺ أحد أكثر حديثاً عنه مني إلا ما كان من عبد الله بن عمرو، فإنه كان يكتب ولا أكتب. (بخاری)
نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے کوئی مجھ سے زیادہ حدیث روایت کرنے والا نہیں، سوائے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما کے، کیونکہ وہ حدیثیں لکھتے تھے اور میں نہیں لکھتا تھا۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بعد ائمہ محدثین نے لاکھوں حدیثیں جمع کیں اور اسماء الرجال، جرح و تعدیل اور اصولِ حدیث جیسے عظیم علوم کی بنیاد رکھی۔
یہ علوم ہر دور میں احادیث کو قسم قسم کی جعل سازیوں اور تحریف سے محفوظ رکھنے کا ذریعہ بنے۔

لفظ “حدیث” عربی زبان میں “بات ، گفتگو اور خبر” اور نیا کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔
قرآن کریم میں یہ لفظ کئی جگہ آیا ہوا ہے، جیسے

فَلْيَأْتُوا بِحَدِيثٍ مِثْلِهِ إِنْ كَانُوا صَادِقِينَ (الطور: 34)
وہ اس جیسی کوئی ایک بات لے آئیں اگر سچے ہیں ۔

:اصطلاح میں
نبی کریم ﷺ کے اقوال، افعال، تقریرات اور اوصاف کو حدیث کہا جاتا ہے۔

حدیث کی کئی قسمیں ہیں

:قولی حدیث
نبی کریم ﷺ کے وہ الفاظ و کلمات جو آپ نے خود ارشاد فرمائے ہیں۔
مثال: “إِنَّمَا ٱلْأَعْمَالُ بِٱلنِّيَّاتِ” ( بخاری )
اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے

:فعلی حدیث
نبی کریم ﷺ کے وہ اعمال جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بچشم خود دیکھا اور روایت کیا۔
مثال: عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: “رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الدُّعَاءِ” (بخاری)
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ دعا کرتے وقت، اپنے ہاتھ اٹھاتے ہوئے تھے۔

:تقریری حدیث
نبی کریم ﷺ کے سامنے کسی صحابی نے کوئی عمل کیا، یا کسی کے عمل کی خبر ملی اور آپ ﷺ نے اس پر خاموشی اختیار کی یا تائید فرمائی۔

مثال: حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لے گئے اور انہیں کچھ نصیحتیں کیں ۔
قَالَ سَلْمَانُ لَهُ ( لأبي الدرداء ) إِنَّ لِرَبِّكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا فَأَعْطِ كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَ سَلْمَانُ” ( بخاری )

اور کہا: بے شک تم پر تمہارے رب کا بھی حق ہے ۔ تمہاری جان اور تمہاری اہلیہ کا بھی تم پر حق ہے۔ لہذا تمھیں سب کے حقوق ادا کرنے چاہئیں ۔ پھر حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے یہ سارا معاملہ بیان کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: سلمان نے سچ کہا ۔

:صفاتی حدیث
نبی ﷺ کے اخلاق، عادات، اور جسمانی اوصاف سے متعلق روایات۔
مثال: عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا
(بخاری ، مسلم)
حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ سب سے زیادہ اچھے اخلاق والے تھے۔

:نبی کریم ﷺ بحیثیت معلم و شارح
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم نازل فرماکر ، اس کی تعلیم و تشریح اور تبلیغ کی ذمہ داری نبی کریم ﷺ پر عائد فرمائی ہے ۔

:ارشاد فرمایا
وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ
(النحل: 44)
ہم نے آپ (ﷺ) پر ذکر (قرآن کریم) نازل کیا تاکہ آپ ان آیات کی وضاحت کریں جو لوگوں کے لئے نازل کی گئی ہیں اور تاکہ وہ اس میں غور و تدبر کریں ۔

قرآن کریم ایک اصولی کتاب ہے، جو بنیادی قوانین اور کلیات کو بیان کرتی ہے۔ جیسے دنیا میں کسی بھی قانونی کتاب میں بنیادی اصول درج ہوتے ہیں اور پھر ماہرینِ قانون ان کی تشریح کرتے ہیں، ویسے ہی قرآن کریم میں دین کے اساسی احکام مذکور ہیں، ان کی وضاحت نبی کریم ﷺ نے اپنے اقوال و افعال کے ذریعے فرما دی ہے۔

نبی کریم ﷺ کی احادیث اور سنتیں، دراصل ان اصولوں کی عملی تشریح ہیں، جو دین کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کے لیے ناگزیر ہیں۔
اگر کوئی شخص احادیث کو نظر انداز کر کے صرف قرآن کریم پر عمل کرنے کا دعویٰ کرے تو وہ کئی اہم احکام کی درست تفہیم سے قاصر رہے گا، کیونکہ بہت سے قرآنی احکام اجمالی نوعیت کے ہیں، جنہیں ، نبی کریم ﷺ کی بیان کردہ تفصیلات کے بغیر سمجھنا ممکن نہیں ہے۔

مثلاً عبادات کے بنیادی احکام قرآن کریم میں موجود ہیں، لیکن ان کے عملی طریقے ہمیں نبی کریم ﷺ کی احادیث اور سنتوں سے معلوم ہوتے ہیں۔
اسی طرح، تعزیری قوانین کے اصول ، قرآن کریم میں موجود ہیں، لیکن ان کی تفصیلات و شرائط جن کے تحت وہ نافذ العمل ہونگے ، ان کے لئے احادیث سے رجوع ہونا لازمی ہوگا ۔

گویا قرآن کریم کو سمجھنے کے لیے احادیث و سنن کا کردار کلیدی نوعیت کا ہے ۔
نبی کریم ﷺ کا کام صرف قرآن کریم کو لوگوں تک پہنچا دینا نہیں تھا، بلکہ اس کے معانی، احکام، اور ہدایات کی تشریح و بیان بھی تھا۔
دین اسلام کو سمجھنے اور اس پر عمل کے لئے انسانیت کو قرآن کریم کی جتنی وضاحت درکار تھی ، آپ ﷺ نے اسے پورا فرما دیا ہے۔

آپ ﷺ کے بعد اسے بیان کرنے یا اس کی روشنی میں مزید تفسیر و تاویل کی ذمہ داری علماء امت پر عائد ہوتی ہے ۔
:ارشاد نبوی ہے
إن العلماء ورثة الأنبياء ( ابو داؤد )
علماء کرام وارثین انبیاء ہیں ۔

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وراثت جو آخری امت کے علماء کو منتقل ہوئی ہے وہ قرآن و سنت ہے ۔

قرآن کریم میں کئی آیات و احکام مختصر اور تشریح طلب ہیں، جنہیں سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کے لئے احادیث کی مدد ناگزیر ہے بنا احادیث و سنن کے انہیں سمجھ پانا نہ صرف مشکل بلکہ نا ممکن ہے ۔
مثال کے طور پر
عبادات یعنی نماز، زکوة، روزہ اور حج وغیرہ کے احکام ۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں ۔
أَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ
“نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو۔”

نماز و زکوٰۃ کا ذکر ، قرآن کریم میں متعدد بار آیا ہے، مگر اس کی پوری تفصیل اور طریقے قرآن کریم میں مذکور نہیں ہیں۔
اسی لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي
(بخاری) نماز اس طرح ادا کرو جیسے تم لوگ مجھے ادا کرتے ہوئے دیکھتے ہو۔

اسی طرح زکوٰۃ کی اساسیات مثلاً اہمیت فرضیت ، مصارف زکوٰۃ نیز ادا نہ کرنے پر وعید وغیرہ کا تذکرہ قرآن کریم میں ہے مگر عملی تفصیلات وہاں موجود نہیں ہیں ۔
مثلا : اموال زکوٰۃ کا نصاب کیا ہوگا ، کس مال پر کتنی زکوٰۃ نکالنی ہے وغیرہ وغیرہ۔

اسی طرح حج کے متعلق ارشاد ہے۔
وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا
(آل عمران: 97)
اور اللہ تعالیٰ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج فرض ہے، جو وہاں تک پہونچنے کی استطاعت رکھتا ہو۔

حج کے مسائل کا حال بھی کچھ اسی طرح ہے ۔
:نبی کریم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں
“خُذُوا عَنِّي مَنَاسِكَكُمْ”
(مسلم)
مجھ سے تم حج کرنے کے طریقے سیکھو ۔

روزہ کا ذکر سورہ بقرہ میں قدرے تفصیل سے مذکور ہے ۔ مثلاً : روزے کی فرضیت، مسافر و مریض کے لیے رخصتیں، اور روزے کی روحانی و جسمانی فوائد و برکات وغیرہ ۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
(البقرة: 183)
اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔
اس میں آخری امت کی حوصلہ افزائی کے لئے سابقہ امتوں پر روزہ کی فرضیت، رمضان کی راتوں میں کھانے پینے کی اجازت اور دن میں روزہ رکھنے کے احکام کا ذکر ہے ۔

:اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
كُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ (البقرة: 187)

اور کھاؤ پیو یہاں تک کہ صبح کی سفید دھاری (روشنی) سیاہ دھاری (رات) سے واضح ہو جائے، پھر روزہ ( صبح صادق سے ) رات تک پورا کرو۔

اس آیت میں مذکور “سفید دھاری اور سیاہ دھاری” دونوں الفاظ تشریح طلب ہیں۔
حضرت عدی بن حاتم رضی الله عنه فرماتے ہیں کہ
لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: (حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ) عَمَدْتُ إِلَى عِقَالٍ أَبْيَضَ وَعِقَالٍ أَسْوَدَ، فَجَعَلْتُهُمَا تَحْتَ وِسَادَتِي، فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ فِي اللَّيْلِ، فَلَا يَسْتَبِينُ لِي، فَغَدَوْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: إِنَّمَا ذَاكَ سَوَادُ اللَّيْلِ وَبَيَاضُ النَّهَارِ۔

جب یہ آیت (حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ) نازل ہوئی، تو میں نے ایک سفید عقال اور ایک سیاہ عقال لیا اور انہیں اپنے تکیے کے نیچے رکھا۔
میں رات کے وقت ان کو دیکھتا رہا، لیکن مجھے کچھ سمجھ میں نہ آیا تو صبح نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس واقعہ کا ذکر کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس سے مراد رات کی تاریکی اور دن کی روشنی ہے۔
( بخاری، مسلم)

ان تمام تر تفصیلات سے
“لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ”
کا مفہوم اچھی طرح واضح ہو جاتا ہے کہ: قرآن کریم در حقیقت اصول کی کتاب ہے اس میں قانون اور کلیات بیان ہوئی ہیں ، جن کی زبانی و عملی تشریح ضروری ہے اور اس تشریح کی ذمہ داری ، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت محمد ﷺ کو سونپی ہے ۔
نیز یہ کہ متذکرہ بالا آیت ، احادیث مبارکہ کی حجیت (authority) کی اہم ترین دلیل ہے۔
اب جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ صرف قرآن کریم ہمارے لئے کافی ہے، ان کی یہ بات کیسے درست ہو سکتی ہے ؟

یہ بات سو فیصد سچ ہے کہ قران کریم کتاب ایمان ، کتاب ہدایت، کتاب عمل ہے۔ مگر اسے اچھی طرح سمجھنے کے لئے معلم حقیقی حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریحات ، بہر حال درکار ہیں۔
اور وہ تشریحات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات و اعمال ہیں۔

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص احادیث مبارکہ کو چھوڑ کر صرف قرآن کریم کو ماننے کا دعویٰ کرے تو وہ قرآن کریم کی مجمل آیات واحکام کی تفصیلات کہاں سے لائے گا ؟
ایسا شخص مکمل طور پر قرآن کریم کو بھی نہیں مانتا ہے . دراصل وہ
أَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَابِ وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ (بقرة: 85)
کیا تم الله تعالي كي کتاب کے بعض حصے پر ایمان لاتے ہو اور بعض کا انکار کرتے ہو؟ کا مصداق ہے ۔

قرآن کریم میں نبی کریم ﷺ کی تفسیر و تاویل کی اس اہم ذمہ داری کا تذکرہ اور بھی کئی مقامات پر ہے۔
:اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا مِن قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ (سورة الجمعة: 2)
وہی (اللہ تعالیٰ) ہیں جنہوں نے
امِّيوں میں ایک رسول (محمد ﷺ) کو بھیجا جو انہی میں سے ہیں، وہ ان پر اللہ تعالیٰ کی آیات تلاوت کرتے ہیں، ان کا تزکیہ کرتے ہیں، اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں حالانکہ وہ لوگ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے۔

کچھ لوگ قرآن کریم میں غور و تدبر کا مطلب تفسیر بالرائے سمجھتے ہیں جب کہ اس سے مراد قرآن کریم کی حقانیت اور
اللہ تعالیٰ کی قدرت، تخلیق و کمالات وغیرہ پر غور و تدبر کرنا اور اللہ تعالیٰ کے بے پایاں احسانات کے بارے میں سوچنا ہے تاکہ بندہ اپنے حقیقی محسن کا سچا احسان مند بن سکے

غور و تدبر کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کوئی شخص اپنی مرضی سے قرآن کریم کی من مانی تفسیر کرنے لگے ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تفسیر بالرائے کرنے والوں کے لئے سخت وعید ارشاد فرمائی ہے ۔
ارشاد ہے
مَنْ قَالَ فِي الْقُرْآنِ بِرَأْيِهِ فَأَصَابَ، فَقَدْ أَخْطَأَ۔ (ابوداؤد، ترمذی)

جو شخص قرآن کریم میں کوئی بات اپنے خیال سے کرے اس نے بالفرض درست بات کی تو بھی اس نے غلطی کی۔ یعنی اسے ایسا کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔
ایک دوسری روایت میں نہایت سخت وعید کا ذکر ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں
مَنْ تَكَلَّمَ فِي الْقُرْآنِ بِغَيْرِ عِلْمٍ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ
(ترمذی)

جس نے قرآن کریم میں کوئی بات بغیر علم (بنا سند) کی ، اسے اپنا ٹھکانہ جہنم بنا لینا چاہئے ۔
ہاں اگر کسی کو قرآن کریم کی زبان و ادب سمجھنے میں مہارت حاصل ہو اور وہ قرآن کریم کے انداز بیان، اسلوب گفتگو سمجھنے میں بھی دسترس رکھتا ہو پھر اسے کسی آیت کے کلمات سے کوئی نئی بات سمجھ میں آجائے بشرطیکہ وہ بات قرآن و سنت کی روح سے متصادم نہ ہو ، بلکہ اس سے تائید ملتی ہو تو وہ تفسیر بالرائے میں شمار نہ ہوگی ۔
اس لئے حدیث و سنت کو چھوڑ کر صرف قرآن کریم پر عمل کرنے کا نظریہ بے بنیاد اور غلط ہے۔
اور بنا حدیث و سنت کے قرآن کریم کے کئی احکام پر عمل کرنا ممکن بھی نہیں ہے ۔
مثلا : قرآن کریم چوری کی حد بیان کرتا ہے
الله تعالي ارشاد فرماتے ہیں ۔

السَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا جَزَاءً بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِّنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
(المائدة: 38)
چور مرد ہو یا عورت، دونوں کے ہاتھ کاٹ دو، یہ ان کے کیے کا بدلہ ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے عبرتناک سزا۔
اور اللہ تعالیٰ زبردست، بڑی حکمت والے ہیں۔

یہاں چند باتیں وضاحت طلب ہیں ۔
اس حکم کا مخاطب کون ہے ؟؟؟
کیا کوئی عام شخص بھی کسی چور کا ہاتھ کاٹ سکتا ہے یا یہ کام حکومت وقت اور عدلیہ کے ذمہ ہے ؟

نیز ہاتھ کہاں سے کاٹا جائے ، پورا ہاتھ یا ہاتھ کا کچھ حصہ ؟
اور کتنی قیمت کا مال، چوری کرنے پر یہ سزا ہوگی ؟

کیا کوئی بھوکا آدمی چند روٹیاں (بریڈ وغیرہ ) چرا لے تو اس پر بھی حد جاری کرنے کا حکم صادر ہوگا ؟
ظاہر ہے یہ ساری تفصیلات اور حدود و تعزیرات کا عملی خاکہ قرآن کریم میں موجود نہیں ہے تو لازما اس آیت پر عمل کے لئے احادیث کی طرف رجوع کرنا ہوگا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کی حدود جاری فرماتے ہوئے درج بالا باتوں کو کس طرح ملحوظ عمل رکھا تھا ۔

اس لئے قرآن کریم کو کماحقہ سمجھنا اور اس پر عمل کرنا، حدیث و سنت کے بغیر کیسے ممکن ہوگا ؟
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن کریم کی طرح احادیث مبارکہ بھی اسلام کا بنیادی ماخذ ہیں ۔

اسی لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو ہدایت اور ایمان کی علامت قرار دیا گیا ۔

وَإِن تُطِيعُوهُ تَهْتَدُواْ
(سورۃ النور: 54)
اور اگر تم اس (نبی) کی اطاعت کرو گے تو ہدایت پاؤ گے۔

فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُواْ فِيٓ أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُواْ تَسْلِيمًا
(سورۃ النساء: 65)
پس (اے نبی!) تمہارے رب کی قسم! یہ لوگ مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ یہ اپنے جھگڑوں میں تمہیں حکم نہ بنائیں اور پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو، اس پر اپنے دل میں کوئی تنگی محسوس نہ کریں اور اسے مکمل طور پر تسلیم کر لیں۔

ابو داؤد کی ایک روایت میں خلفاء راشدین کے عمل کو بھی سنت قرار دیا گیا
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں
عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ، تَمَسَّكُوا بِهَا وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ
(سنن ابو داؤد)
تم پر میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء کی سنت پر عمل کرنا لازم ہے، اس کو مضبوطی سے پکڑ لو اور اس پر دانت جمالو۔

ایک غلط فہمی کا ازالہ
بعض لوگ کہتے ہیں کہ احادیث کی تدوین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تقریباً دو سو سال کے بعد ہوئی ، اس لئے ان پر کیسے اعتماد کیا جا سکتا ہے ؟
یہ سوال کم علمی پر مبنی ہے ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہی احادیث کو زبانی یاد کرنے اور لکھ کر ریکارڈ کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا
کئی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے نبی کریم ﷺ کی احادیث کو زبانی یاد رکھنے کے ساتھ ساتھ تحریری صورت میں بھی محفوظ کیا تھا ۔
ذیل میں چند ایسے معروف صحیفوں (تحریری مجموعوں) کے نام دیئے جارہے ہیں جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے مرتب کیے تھے

صحیفہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ صحیفہ نبی کریم ﷺ کے براہ راست ارشادات پر مشتمل تھا جس میں حدود، قصاص، دیت اور دیگر قانونی احکام درج تھے۔
اس کا ذکر صحیح بخاری اور دیگر کتب میں ملتا ہے۔

(آج بھی کتابی شکل میں موجود ہے۔)

صحیفہ عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنھما
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما کو نبی کریم ﷺ نے احادیث لکھنے کی اجازت دی تھی۔
انہوں نے “الصحیفة الصادقة” نامی مجموعہ تیار کیا جس میں تقریباً ایک ہزار احادیث تھیں۔

(آج بھی یہ کتابی شکل میں دستیاب ہے ۔)

صحیفہ جابر بن عبداللہ رضي الله عنهما

حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنھما کی مرویات بھی کثیر تعداد میں ہیں۔

امام طحاوی رحمہ اللہ انکے شاگردوں کا قول لکھتے ہیں: ۔
كُنَّا نَأْتِي جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ لِنَسْأَلَهُ عَنْ سُنَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ تَعَالَىٰ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَكْتُبَهَا۔
(شرح معاني الآثار للطَّحَاوِي)

ہم لوگ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوتے تاکہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی سنتیں معلوم کرکے قلمبند کریں ۔

ان کے علاوہ
صحیفة همام بن منبه ہے۔
ھمام بن منبہ حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ کے شاگرد ہیں۔
یہ مجموعہ ” الصحيفة الصحيحة ” کے نام سے جانا جاتا ہے ۔
پچاس هجري ميں لکھی گیا تھا جس میں 138 حدیثیں درج ہیں ۔
اور
صحیفہ سعد بن عبادہ رضي الله عنه
صحیفہ سمرہ بن جندب رضي الله عنه وغیرہ بھی احادیث کے مجموعے ہیں جنہیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے قلمبند کئے تھے ۔

یہ ابتدائی تحریری مجموعے بعد کے دور میں مسانید، سنن اور صحاح جیسی حدیث کی مشہور کتابوں کی بنیاد بنے ۔
اور محدّثین نے انہیں حدیث کی بڑی کتب میں شامل کر دیے، جیسے صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن ابی داؤد وغیرہ۔

اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کریم و احادیث مبارکہ کی اہمیت سمجھنے اور ان پر عمل کی توفیق عطا فرمائیں ۔
آمین۔

Tashreeh Updates 👋

Get new articles in your inbox.

We don’t spam! Read our privacy policy for more info.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *