زندگی کے بامِ عروج پر وہی لوگ پہنچتے ہیں جن کے دل اخلاص کی روشنی سے منور ہوتے ہیں۔
اخلاص، یعنی خالص نیت، ہر نیک عمل کی روح اور اساس ہے۔ جب دل میں دکھاوا ریاکاری اور خودنمائی کی آلائشیں نہ ہوں، تو اعمال میں برکت اور زندگی میں سچائی کا نور جھلکتا ہے۔
اخلاص وہ جوہر ہے جو انسان کو بندگی کے اعلیٰ مقام تک پہنچاتا ہے اور اس کی کاوشوں کو بارگاہِ الٰہی میں مقبول بناتا ہے۔

اخلاص کی حقیقت

اخلاص عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے کسی شے کو ہر طرح کی آمیزش سے پاک کر دینا اصطلاحِ شریعت میں اخلاص کا مفہوم یہ ہے کہ ہر نیک عمل محض اللہ تعالی کی رضا کے لیے کیا جائے، اس میں دنیاوی مفادات یا لوگوں کی خوشنودی کا کوئی دخل نہ ہو۔
گویا اخلاص وہ چراغ ہے جو دل کے نہاں خانوں میں سچائی کی روشنی بکھیرتا ہے اور عمل کو خالصتاً ربّ کے لیے مخصوص کر دیتا ہے۔

قرآن کریم میں اخلاص کی اہمیت

قرآنِ کریم میں اخلاص کی تاکید بار بار کی گئی ہے۔

: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاءَ
(البینہ: 5)
اور انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں، اسی کے لیے دین کو خالص رکھتے ہوئے، یکسو ہو کر۔

: ایک مقام پر ارشاد ہے

قُلْ إِنِّي أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ اللَّهَ مُخْلِصًا لَهُ الدِّينَ
(الزمر: 11)
کہئے! مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کروں دین کو خالص اللہ تعالیٰ کے لئے کر کے ۔

ایک دوسرے مقام پر ہے

مَّن كَانَ يُرِيدُ ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا وَزِينَتَهَا نُوَفِّ إِلَيْهِمْ أَعْمَٰلَهُمْ فِيهَا وَهُمْ فِيهَا لَا يُبْخَسُونَ (١٥) أُو۟لَٰئِكَ ٱلَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِى ٱلْءَاخِرَةِ إِلَّا ٱلنَّارُ
(ہود: 15-16)
جو شخص دنیاوی زندگی اور اس کی زینت چاہتا ہے، ہم اس کے اعمال کا بدلہ اسے دنیا میں ہی دے دیتے ہیں اور اس میں ان کی کمی نہیں کی جاتی۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں صرف آگ ہے۔

احادیث مبارکہ میں اخلاص کی اہمیت

: نبی اکرم ﷺ نے فرمایا

“إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى”
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔

إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبَلُ مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا كَانَ لَهُ خَالِصًا وَابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُهُ
(سنن نسائی)
بے شک اللہ تعالیٰ صرف وہی عمل قبول کرتے ہیں جو خالص ان کے لیے ہو اور جس کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا ہو۔

ریاکاری کی تباہ کاریاں

ریاکاری اخلاص کی ضد ہے، یعنی کسی بھی نیک عمل کو لوگوں کی واہ واہ اور شہرت کی غرض سے کرنا۔

: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں

فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ ٱلَّذِينَ هُمْ عَن صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ ٱلَّذِينَ هُمْ يُرَآءُونَ
(الماعون: 4-6)
تباہی ہے ان نمازیوں کے لیے جو اپنی نماز سے غافل ہیں، جو دکھاوے کے لیے نماز پڑھتے ہیں۔

: نبی اکرم ﷺ نے فرمایا

إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمُ الشِّرْكَ الْأَصْغَرَ قَالُوا وَمَا الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: الرِّيَاءُ
(مسند احمد)
مجھے تم پر سب سے زیادہ جس چیز کا خوف ہے وہ ‘چھوٹا شرک’ (ریاکاری) ہے۔
صحابہؓ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول
‘چھوٹا شرک’ کیا ہے؟
آپ نے فرمایا: ‘ریاکاری’۔

اخلاص کے فوائد

اعمال کی قبولیت
اللہ تعالیٰ صرف خالص اعمال کو قبول کرتے ہیں۔

دل کا اطمینان
جو شخص خلوصِ نیت سے عمل کرتا ہے، اس کا دل سکون و راحت محسوس کرتا ہے۔

دنیا و آخرت میں کامیابی
اخلاص رکھنے والے کو دنیا میں عزت اور آخرت میں اجرِ عظیم ملتا ہے۔

ریاکاری سے نجات
مخلص شخص دوسروں کی تعریف یا تنقید کی پرواہ نہیں کرتا، بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے عمل کرتا ہے۔

اخلاص پیدا کرنے کے طریقے

ہر عمل سے پہلے نیت کو درست کرنا۔▪️

کوئی عمل کرتے وقت خود سے سوال کریں▪️

“کیا میں یہ کام اللہ تعالیٰ کے لیے کر رہا ہوں؟”

شہرت کی خواہش سے بچنا
صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کی طلب رکھیں لوگوں کی تعریف کا انتظار نہ کریں۔

دعا کرنا
اللہ تعالیٰ سے اخلاص مانگیں، کیونکہ وہی دلوں کو خالص کرنے والے ہیں۔

: نبی اکرم ﷺ کی دعا ہے
اللهم اجعل عملي كله صالحًا، واجعله لوجهك خالصًا، ولا تجعل لأحد فيه شيئًا
اے اللہ! میرے تمام اعمال کو نیک بنا دے اور انہیں اپنے لیے خالص کر دے، اور کسی کا حصہ اس میں نہ بنا۔ (مسند احمد)

اخلاص ہر عمل کی جان ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی ساری زندگی عبادت میں گزار دے مگر اس کی نیت میں اخلاص نہ ہو، تو وہ عبادتیں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بے وقعت ہوں گی۔
اخلاص ہی وہ وصف ہے جو انسان کو بندگی کے حقیقی مقام پر فائز کرتا ہے اور اسے جنت کی راہ دکھاتا ہے۔
یہی وہ جوہر ہے جو انسان کو سچائی کی معراج پر پہنچا کر اللہ تعالیٰ کی رضا اور قربت عطا کرتا ہے۔
اور جو عمل اللہ تعالیٰ کے لیے کیا جائے، وہی باقی رہتا ہے، اور جو دنیا کے لیے ہو، وہ دنیا ہی میں فنا ہو جاتا ہے۔

Tashreeh Updates 👋

Get new articles in your inbox.

We don’t spam! Read our privacy policy for more info.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *