ایمان وہ لازوال نعمت ہے جو انسان کو بندگی کی معراج تک پہنچاتی ہے
مومن کے دل کو روشنی، روح کو اطمینان، زندگی کو بامقصد اور آخرت کو کامیاب بنا دیتی ہے۔
یہی وہ متاعِ گراں مایہ ہے جس کے بغیر نہ حقیقی مسرت ممکن ہے اور نہ دائمی نجات۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
قَدْ أَفْلَحَ ٱلْمُؤْمِنُونَ
بے شک ایمان والے ہی کامیاب ہیں ۔ (المؤمنون: 1)
ایمان کا لغوی معنی
عربی زبان میں “ایمان” کا مطلب
کسی بات کو دل سے مان لینا اور اس کی تصدیق کرنا ہے ۔
ایمان کی اصطلاحی تعریف
اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات ، ان کے فرشتوں نازل کردہ کتابوں، برگزیدہ نبیوں ، قیامت کے دن اور تقدیر کی حقیقت پر مکمل یقین کا نام ایمان ہے۔
جو شخص اس یقین کو دل کی گہرائیوں میں اتار لیتا ہے، وہی حقیقی معنوں میں مومن کہلاتا ہے۔
مومن، جب ایمان کو پوری سچائی اور اخلاص کے ساتھ قبول کرلیتا ہے، تو اس کی زندگی کا ہر عمل اللہ تعالی کی رضا کے تابع ہو جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
إِنَّمَا ٱلْمُؤْمِنُونَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا۟
( الحجرات: 15)
حقیقت میں مومن وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ اور ان کے رسول پر ایمان لے آئے اور پھر شک میں نہیں پڑے ۔
یہ ایمان کا اجمالی تعارف ہے ۔
سورہ نساء میں ایمان و کفر دونوں کو قدرے تفصیل سے بیان فرمایا گیا۔
: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ءَامِنُوا۟ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَٱلْكِتَـٰبِ ٱلَّذِى نَزَّلَ عَلَىٰ رَسُولِهِۦ وَٱلْكِتَـٰبِ ٱلَّذِىٓ أَنزَلَ مِن قَبْلُ ۚ وَمَن يَكْفُرْ بِٱللَّهِ وَمَلَـٰٓئِكَتِهِۦ وَكُتُبِهِۦ وَرُسُلِهِۦ وَٱلْيَوْمِ ٱلْـَٔاخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَـٰلًۭا بَعِيدًۭا
اے ایمان والو! ایمان لاؤ اللہ تعالیٰ پر، ان کے رسول پر، اس کتاب پر جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر نازل فرمائی ہے، اور ان کتابوں پر جو اس سے پہلے نازل کی گئیں ہیں، اور جو کوئی اللہ تعالیٰ، ان کے فرشتوں، ان کی کتابوں، ان کے رسولوں اور روزِ آخرت کا انکار کریگا ، وہ گمراہی میں بہت دور جا چکا۔ (النساء: 136)
: نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا
الإِيمَانُ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَتُؤْمِنَ بِالقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ
(مسلم)
ایمان یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ، ان کے فرشتوں، کتابوں، رسولوں، یوم آخرت، اور تقدیر پر ایمان رکھو۔
ایمان کے بنیادی ارکان
ایمان کے چھ بنیادی ارکان ہیں، جن کو ایمان کے فرائض بھی کہا جاتا ہے کیونکہ ان سب کے بغیر ایمان کی تکمیل نہیں ہو سکتی ہے ، یعنی اگر کوئی شخص ان میں سے کسی ایک بات کا بھی انکار کریگا تو وہ مومن نہیں شمار کیا جائیگا ۔
اللہ تعالیٰ پر ایمان
اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات پر سچے دل سے ایمان لانا اور ہر طرح کے شرک سے بیزاری ایمانیات کی بنیاد اور رکن اعظم ہے ۔
اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں
قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ (الاخلاص: 1-2)
آپ کہئے کہ : اللہ تعالیٰ ایک ہیں، اللہ تعالیٰ بے نیاز ہیں۔
اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ ( الزمر 62 )
اللہ تعالیٰ ہر چیز کے خالق ہیں ۔
ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ
( الفاتحة 1)
تمام تعريفيں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں جو پوری کائنات کے رب ہیں ۔
فرشتوں پر ایمان
: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
وَمَن يَكْفُرْ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا” (النساء: 136)
جو شخص اللہ تعالی ، ان کے فرشتوں کتابوں رسولوں، اور آخرت کے دن کا انکار کرے، وہ گمراہی میں بہت دور جا پڑا۔
فرشتوں پر ایمان ، انسان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں کچھ ہستیاں ایسی بھی ہیں جو ہر وقت اس کے اعمال کی نگرانی پر مقرر ہیں۔
اللہ تعالیٰ کی کتابوں پر ایمان
اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے اپنی کتابیں نازل فرمائیں، جن میں تورات، زبور، انجیل اور سب سے آخری اور مکمل کتاب، قرآن مجید شامل ہے۔
: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا آمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي نَزَّلَ عَلَى رَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي أَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ” (النساء: 136)
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ پر، اس کے رسول پر اور اس کتاب پر ایمان لاؤ جو اس کے رسول پر نازل کی گئی ہے، اور ان کتابوں پر بھی جو اس سے پہلے نازل کی گئی تھیں۔”
اللہ تعالیٰ کے رسولوں پر ایمان
اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک، بے شمار انبیاء کو انسانوں کی رہنمائی کے لیے مبعوث فرمایا
: ارشاد ہے
آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مِن رَّبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ ۚ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّن رُّسُلِهِ” (البقرہ: 285)
رسول ان تمام پیغامات پر ایمان لائے جو ان کے رب کی طرف سے ان پر نازل کئے گئے ، اور مومن بھی (ایمان لائے)، سب کے سب اللہ تعالیٰ، فرشتوں، کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔
(اور کہا کہ )
ہم اللہ تعالیٰ کے رسولوں کے درمیان تفریق نہیں کرتے۔
یومِ آخرت پر ایمان
مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے ، حساب و کتاب جنت اور جہنم کی حقیقت پر ایمان رکھنا۔
: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
قُلِ اللَّهُ يُحْيِيكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يَجْمَعُكُمْ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا رَيْبَ فِيهِ” (الجاثیہ: 26)
کہہ دو کہ اللہ ہی تمہیں زندگی دیتا ہے، پھر وہی تمہیں موت دیتا ہے، پھر تمہیں قیامت کے دن جمع کرے گا، جس میں کوئی شک نہیں۔
تقدیر پر ایمان
ہر چیز اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوتی ہے، اور وہی ہر چیز پر قادر ہیں ۔
: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
مَا أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ مِّن قَبْلِ أَن نَبْرَأَهَا ۚ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ” (الحدید: 22-23)
زمین میں اور تمہاری جانوں پر جو کوئی مصیبت آتی ہے، وہ ایک کتاب میں پہلے سے لکھی ہوئی ہے، ہمارے اسے ظاہر کرنے سے پہلے ہی۔ بے شک یہ اللہ تعالیٰ کے لیے آسان ہے۔
ایمان کی برکات
ایمان، ایک روشنی ہے جو دلوں کو منور کرتی ہے
یہ انسان کو اس کے حقیقی خالق سے جوڑتی ہے۔
یہ ایک لازوال سچائی ہے جو فکر و عمل کو جلا بخشتی ہے اور زندگی کو بامقصد بناتی ہے ۔
یہی وہ دولت ہے، جو انسان کو حقیقت میں بلند مقام عطا کرتی ہے۔
در حقیقت یہ اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے، جو دنیا میں کامیابی اور آخرت میں نجات کی ضمانت ہے۔