محسن شناسی، انسان کے اخلاقی حسن کی علامت ہے جو شخص اپنے محسن کی قدر کرتا ہے، وہ عزت و شرف کا حامل ہوتا ہے، اور جو احسانات کو بھلا کر انکار کی راہ اختیار کرتا ہے، وہ ناشکرا کہلاتا ہے۔
ناشکری اگر انسان کے ساتھ کی جائے تو اسے بدترین اخلاقی رویہ سمجھا جاتا ہے
مگر جو شخص، اپنے حقیقی محسن، یعنی خالقِ کائنات کا ناشکرا ہو، اسے کیا لفظ دیا جانا چاہئے ؟
سورج کی روشنی، ہوا کی تازگی، زمین کا فرش، آسمان کی چھت، سمندروں کی وسعت پہاڑوں کی مضبوطی ۔۔۔۔۔۔۔
سبھی، انسانوں کی فلاح کے لیے بنائے گئے ہیں۔
اور وہ لمحہ بھی یاد رکھنا چاہئے جب ایک بےجان قطرہ، ایک حقیر سی بوند، مکمل انسان کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
هَلْ أَتَىٰ عَلَى ٱلْإِنسَـٰنِ حِينٌۭ مِّنَ ٱلدَّهْرِ لَمْ يَكُن شَيْـًۭٔا مَّذْكُورًۭا
“کیا انسان پر ایک ایسا وقت نہیں آیا جب وہ کوئی قابلِ ذکر چیز نہ تھا؟”
( الدہر: 1)
پھر جب وہی بچہ بڑا ہوتا ہے، تو زندگی کی رونقوں میں کھو جاتا ہے، اپنے محسن کو بھولنے لگتا ہے، اس کے احسانات کو نظر انداز کرنے لگتا ہے، اور بعض تو اتنے آگے بڑھ جاتے ہیں کہ سرے سے محسن کے وجود کا انکار کر دیتے ہیں۔
: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
إِنَّا خَلَقْنَا ٱلْإِنسَـٰنَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍۢ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَـٰهُ سَمِيعًۭا بَصِيرًا
بے شک ہم نے انسان کو ایک ملے جلے قطرے سے پیدا کیا تاکہ ہم اسے آزمائیں، پس ہم نے اسے سننے اور دیکھنے والا بنایا۔
(الدہر: 2)
کفر کی تعریف
کفر ایک اصطلاح ہے، جو ایمان کے مقابلے میں استعمال ہوتی ہے۔
کفر کے معنی ڈھانپنے اور چھپانے کے ہیں، جبکہ اصطلاح شریعت میں اس سے مراد حق کو جاننے ، سمجھنے کے باوجود اس کا انکار کرنا ہے۔
: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا سَواءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ ( البقرہ 6)
بے شک وہ لوگ جنہوں نے ( حق کو جاننے کے باوجود ) انکار کیا ( آپ ) انہیں ڈرائیں یا نہ ڈرائیں وہ ایمان نہ لائیں گے ۔
کفر کی قسمیں
علماء کرام نے کفر کی کئی قسمیں بیان کی ہیں۔
کفرِ استکبار
یہ وہ کفر ہے جس میں کوئی شخص حق کو جانتے ، بوجھتے محض تکبر کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ، اس کے رسول ﷺ، یا دین اسلام کی بنیادی تعلیمات کا انکار کرے۔
: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
وَجَحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَعُلُوًّا
اور انہوں نے ان (نشانیوں) کا انکار کر دیا حالانکہ ان کے دل یقین کر چکے تھے، صرف ظلم اور تکبر کی بنا پر۔
(النمل: 14)
کفرِ تکذیب
یہ وہ کفر ہے جس میں کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ کسی واضح حکم یا رسول کریم ﷺ کی کسی واضح اور مستند خبر کو جھٹلا دے۔
مثلاً : قیامت، جنت، جہنم ، فرشتوں کے وجود وغیرہ کو نہ مانے ۔
: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
وَيَوْمَ نَحْشُرُ مِن كُلِّ أُمَّةٍ فَوْجًا مِّمَّن يُكَذِّبُ بِآيَاتِنَا فَهُمْ يُوزَعُونَ حَتَّىٰ إِذَا جَاؤُوا قَالَ أَكَذَّبْتُم بِآيَاتِي وَلَمْ تُحِيطُوا بِهَا عِلْمًا أَمَّاذَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
(النمل 83-84)
اور جس دن ہم ہر امت میں سے ان لوگوں کو جمع کریں گے جو ہماری آیات کو جھٹلاتے تھے، پھر انہیں (ایک جگہ) رکھا جائے گا۔ یہاں تک کہ جب وہ آجائیں گے تو (اللہ تعالیٰ فرمائیں گے ) کیا تم نے میری آیات کو جھٹلایا تھا، حالانکہ تم نے ان کا پورا علم بھی حاصل نہیں کیا ؟
پھر تم کیا کر رہے تھے؟
کفرِ اعراض
کفرِ اِعراض کا مطلب یہ ہے کہ
کوئی شخص حق بات سننے کے لئے ہی تیار نہ ہو۔ اور اس کے پاس ایسا کرنے کی کوئی معقول وجہ بھی نہ ہو
جیسے کہ اس نے پہلے سے ہی کچھ نہ ماننے کا مزاج بنا رکھا ہو ۔
: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِآيَاتِ رَبِّهِ فَأَعْرَضَ عَنْهَا
اور اس شخص سے بڑا ظالم کون ہو سکتا ہے جسے اس کے رب کی آیات کے ذریعے نصیحت کی جائے اور وہ اس سے منہ پھیر لے ؟
(سورۃ السجدہ: 22)
کفرِ نفاق
یہ وہ کفر ہے جس میں کوئی شخص بظاہر مومن ہو مگر اندرونی طور پر کفر پر قائم رہے
منافقین کے بارے میں اللہ کے رسول ﷺ فرماتے ہیں
“تجدون شرّ الناس ذا الوجهين، الذي يأتي هؤلاء بوجهٍ، وهؤلاء بوجهٍ”
: (صحیح بخاری، صحیح مسلم )
تم ، سب سے بدترین شخص اس کو پاؤ گے جو دو چہرے والا ہو، جو ایک کے پاس ایک چہرہ لے کر جائے اور دوسرے کے پاس دوسرا چہرہ لے کر جائے۔
کفرِ استہزاء
کفر استہزاء یعنی کوئی شخص ، اللہ تعالی رسول کریم ﷺ قرآن کریم کی آیات یا کسی دینی شعار کا مذاق اڑائے۔
: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
قُلْ أَبِاللَّهِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِئُونَ لَا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمْ۔
آپ کہہ دیجئے! کیا تم اللہ تعالیٰ، ان کی آیات اور ان کے رسول کا مذاق اڑا رہے تھے؟ بہانے نہ بناؤ، تم ایمان کے بعد کافر ہو چکے ہو۔
( التوبہ: 65-66)
کفر کے اسباب
: کفر کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، مثلا
جہالت
بعض لوگ علم نہ ہونے کی وجہ سے حق کو نہیں پہچانتے اور کفر میں مبتلا رہتے ہیں۔
: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
بَلْ قَالُوا إِنَّا وَجَدْنَا آبَاءَنَا عَلَىٰ أُمَّةٍ وَإِنَّا عَلَىٰ آثَارِهِم مُّهْتَدُونَ
( الزخرف 22)
بلکہ وہ کہتے ہیں: “ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا اور ہم انہیں کے نقش قدم پر چلنے والے ہیں۔”
تکبر اور ضد
کچھ لوگ حق کو جاننے کے باوجود اپنی ضد اور تکبر کی وجہ سے اسے قبول نہیں کرتے۔ شیطان کا کفر بھی اسی طرح کا تھا۔
: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
وَجَحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنفُسُهُمْ ظُلْمًا وَعُلُوًّا فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ
(سورۃ النمل 14)
اور انہوں (آل فرعون ) نے ان (نشانیوں) کا ظلم اور تکبر کی بنیاد پر انکار کیا، حالانکہ ان کے دل یقین کر چکے تھے، تو دیکھو فساد کرنے والوں کا انجام کیا ہوا
دنیا کی محبت
مال، عہدہ، شہرت یا دیگر دنیاوی مفادات کی خاطر بعض لوگ دین کی راہ چھوڑ دیتے ہیں۔
: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
أُو۟لَٰئِكَ ٱلَّذِينَ ٱشْتَرَوُا۟ ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا بِٱلْأخِرَةِ فَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ ٱلْعَذَابُ وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی خرید لی، پس ان سے عذاب ہلکا نہ کیا جائے گا اور نہ ہی ان کی مدد کی جائے گی۔
خواہشات کی پیروی
اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی میں بعض لوگ دینی احکام کو پس پشت ڈال دیتے ہیں جس سے وہ رفتہ رفتہ کفر میں داخل ہو جاتے ہیں۔
: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
أَفَرَءَيْتَ مَنِ ٱتَّخَذَ إِلَٰهَهُۥ هَوَىٰهُ وَأَضَلَّهُ ٱللَّهُ عَلَىٰ عِلْمٍ وَخَتَمَ عَلَىٰ سَمْعِهِۦ وَقَلْبِهِۦ وَجَعَلَ عَلَىٰ بَصَرِهِۦ غِشَٰوَةً فَمَن يَهْدِيهِ مِنۢ بَعْدِ ٱللَّهِ ۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ
( الجاثیہ 23)
کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنا لیا، اور اللہ تعالیٰ نے علم کے باوجود اسے گمراہ کر دیا، اور اس کے کان اور دل پر مہر لگا دی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ؟ تو اللہ کے بعد اسے کون ہدایت دے سکتا ہے؟
کیا تم نصیحت نہیں حاصل کرتے؟
کفر کے نتائج اور نقصانات
کفر کی وجہ سے فرد و معاشرے پر کئی سنگین اثرات مرتب ہوتے ہیں، جن میں سے چند درج ذیل ہیں
دنیا میں ذلت اور رسوائی
: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
وَمَنْ يُهِنِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ مُكْرِمٍ
اور جسے اللہ تعالیٰ ذلیل کر دیں ، اسے کوئی عزت دینے والا نہیں۔ (الحج: 18)
آخرت میں جہنم کا عذاب
قرآن کریم میں بارہا کافروں کے لیے جہنم کی وعید بیان کی گئی ہے۔
: جیسا کہ ارشاد ہے
إِنَّ اللَّهَ لَعَنَ الْكَافِرِينَ وَأَعَدَّ لَهُمْ سَعِيرًا
بے شک اللہ تعالیٰ نے کافروں پر لعنت کی ہے اور ان کے لیے بھڑکتی آگ تیار کر رکھی ہے۔
( الاحزاب: 64)
نیک اعمال ضائع ہو جانا
کفر کی وجہ سے انسان کے تمام نیک اعمال ضائع ہو جاتے ہیں۔
: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
وَقَدِمْنَا إِلَى مَا عَمِلُوا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنَاهُ هَبَاءً مَنْثُورًا
اور ہم ان کے اعمال کی طرف متوجہ ہوں گے پھر انہیں بکھری ہوئی دھول بنا دیں گے۔ (الفرقان: 23)
کفر سے بچنے کے طریقے
کفر سے محفوظ رہنے کے لیے درج ذیل اقدامات کرنا چاہئے
ایمان کی مضبوطی
قرآن کریم اور احادیث مبارکہ کا مطالعہ کر کے اپنے عقائد کو درست اور پختہ بنانا ضروری ہے۔
علم حاصل کرنا
دینی علوم سیکھنے اور قرآن کریم اور احادیث مبارکہ کا علم رکھنے والے علماء سے رہنمائی لیتے رہنے سے انسان صحیح راستے پر قائم رہ سکتا ہے۔
اچھے لوگوں کی صحبت اختیار کرنا
اچھے اور دین دار لوگوں کے ساتھ رہنے سے انسان کفر اور گمراہی سے بچ سکتا ہے۔
توبہ اور استغفار
اگر کسی سے کفر کی کوئی بات سرزد ہو جائے تو فوراً اللہ تعالیٰ کے حضور سچی توبہ کرے۔
خلاصہ
کفر ایمان کی ضد ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس سے بچنے کا تاکیدی حکم دیا ہے۔
اس کی مختلف اقسام اور وجوہات کو سمجھنا ضروری ہے تاکہ ہم اس سے محفوظ رہ سکیں۔
ایمان کی حفاظت اور آخرت کی فلاح کے لیے ضروری ہے کہ ہم صحیح عقیدہ اپنائیں، اچھے اعمال کریں، اور قران کریم کی تلاوت (سمجھنا اور غور و تدبر کرنا ) زندگی کا معمول بنا لیں ، قرآن کریم سمجھنے سمجھانے والے علماء سے تعلق رکھیں اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ اور آخرت کو یاد رکھنے کی کوشش کرتے رہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں کفر اور اس کے نتائج سے محفوظ رکھیں اور ایمان پر ثابت قدمی عطا فرمائیں۔
آمین۔