قرآن کریم ، انسانی زندگی کے ہر پہلو پر محیط ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ یہ وہ علمی معجزہ ہے جس کی روشنی قیامت تک عالمِ انسانیت کو راہ دکھاتی رہے گی۔ اس کا اعجاز صرف معنوی نہیں بلکہ اسلوبیاتی، علمی اور قانونی پہلوؤں میں بھی نمایاں ہے۔
یہ ایسا زندہ معجزہ ہے جس نے فصاحت و بلاغت کے دعویداروں کو عاجز کر دیا اور جس کے دلائل ہر دور میں اپنی سچائی ثابت کرتے رہے ہیں۔
ادبی اعجاز
قرآن کریم کا اسلوب بے نظیر اور ناممکن التمثیل ہے۔ اس کی زبان میں ایک ایسا ربط، حسنِ بیان، اور معانی کی گہرائی ہے کہ عرب کے فصیح و بلیغ شعراء اور خطباء بھی اس کے سامنے جھک گئے۔
اس کے الفاظ دلوں میں اترنے والے، اس کی ترتیب محیرالعقول، اور اس کے جملے ایک منفرد کشش کی حامل ہیں۔ عربوں کے ادبی عروج کے دور میں، جب کہ زبان و بیان کے ماہرین اپنے کمالات کے جھنڈے گاڑ چکے تھے، قرآن کریم نے انہیں چیلنج کیا
وَإِن كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَىٰ عَبْدِنَا فَأْتُوا۟ بِسُورَةٍ مِّن مِّثْلِهِ (البقرہ: 23)
اگر تم ہماری نازل کردہ آیات میں سے کسی آیت کے بارے میں شک میں پڑے ہو تو اس جیسی کوئی ایک سورت ہی لے آؤ۔
اللہ تعالیٰ کے اس چیلنج کے بعد
عرب کے فصیح و بلیغ شعراء، جو اپنی زبان دانی پر نازاں تھے، قرآن کریم کے منفرد اسلوب اور معجزاتی فصاحت
و بلاغت کے سامنے بے بس نظر آئے۔
جب کہ عرب کا معاشرہ شعر و ادب کے عروج پر تھا، اور وہ نثر و نظم کے ماہر سمجھے جاتے تھے۔
لیکن جب قرآن کریم کی آیات ان کے سامنے آئیں، تو ان کی تمام فنی و لسانی برتری ماند پڑ گئی۔ اور تمام تر لسانی مہارت کے باوجود کوئی شخص اس جیسا کلام پیش کرنے کی ہمت نہ کرسکا ۔
چنانچہ جاہلی شعراء اور اہلِ عرب کا رد عمل حیرانی، اعترافِ عجز اور بعض اوقات حسد و انکار کی صورت میں سامنے آیا۔
▪️ولید بن مغیرہ کی عاجزی▪️
مشہور عرب شاعر اور فصیح و بلیغ خطیب ولید بن مغیرہ، جو نبی کریم ﷺ کا شدید مخالف تھا، جب اس نے قرآن کریم کو سنا تو دنگ رہ گیا اور اس نے قریش کے سرداروں سے کہا
“وَاللَّهِ إِنِّي لَسَمِعْتُ مِنْ مُحَمَّدٍ كَلَامًا مَا هُوَ مِنْ كَلَامِ الْإِنْسِ، وَلَا مِنْ كَلَامِ الْجِنِّ، وَإِنَّ لَهُ لَحَلَاوَةً، وَإِنَّ عَلَيْهِ لَطَلَاوَةً، وَإِنَّهُ لَمُثْمِرٌ أَعْلَاهُ، مُغْدِقٌ أَسْفَلُهُ، وَإِنَّهُ لَيَعْلُو وَلَا يُعْلَى عَلَيْهِ.”
(تفسیر ابن کثیر)
اللہ کی قسم! میں نے محمد (ﷺ) سے ایک ایسا کلام سنا ہے جو نہ انسان کا کلام معلوم ہوتا ہے اور نہ کسی جن کا۔ اس کی مٹھاس بے مثال ہے، اس کی روشنی درخشاں ہے، وہ غالب ہے، کوئی اس پر غالب نہیں آ سکتا۔
لیکن حسد اور ضد کی وجہ سے قریش نے اسے جادو قرار دے دیا، حالانکہ وہ خود اس کی فصاحت و بلاغت سے مغلوب ہو چکے تھے۔
لبید بن ربیعہ کا اعتراف حق
لبید بن ربیعہ جاہلیت کے سب سے بڑے شعراء میں شمار ہوتے تھے اور ان کے اشعار مکہ کی دیواروں پر آویزاں کیے جاتے تھے۔ جب انہوں نے قرآن کریم سنا تو ان پر اتنا اثر ہوا کہ انہوں نے شاعری ترک کر دی اور اسلام قبول کر لیا۔
ایک موقع پر جب ان سے کہا گیا کہ وہ کچھ اشعار سنائیں، تو انہوں نے جواب دیا
“ما كنت لأقول شعرًا بعد أن قرأت القرآن.”
(الإصابة في تمييز الصحابة)
قرآن کریم پڑھنے کے بعد میں نے شاعری کو ترک کر دیا ہے، کیونکہ اب شاعری کی کوئی ضرورت نہیں رہی۔
رضی اللہ تعالیٰ عنہ
امیہ بن ابی الصلت کی حیرانی
امیہ بن ابی الصلت جاہلی دور کا مشہور شاعر تھا جو توحید اور آخرت پر یقین رکھتا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ نبی آخر الزمان وہ خود ہوگا
لیکن جب نبی کریم ﷺ کی بعثت ہوئی اور اس نے قرآن کریم سنا تو اس کی فصاحت و بلاغت سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا ، مگر حسد اور عناد کی وجہ سے ایمان سے محروم رہا
نبی کریم ﷺ اس کے اشعار کو پسند فرماتے تھے اور صحابہ کرام سے سنتے تھے۔
صحیح مسلم کی روایت ہے کہ شرید بن سوید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں
ردفت رسول الله ﷺ يوما، فقال لي: «هل معك من شعر أمية بن أبي الصلت شيء؟» قلت نعم. قال: «هيه». فأنشدته بيتا، فقال: «هيه» ثم أنشدته بيتا، فقال: «هيه». حتى أنشدته مائة بيت.
(صحیح مسلم، کتاب الشعر )
ایک دن میں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سوار تھا، تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا ‘کیا تمہارے پاس امیہ بن ابی الصلت کے کچھ اشعار ہیں؟’ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ‘سناؤ۔’ میں نے ایک شعر سنایا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ‘اور سناؤ۔’ پھر میں نے ایک اور شعر سنایا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ‘اور سناؤ۔’ یہاں تک کہ میں نے آپ ﷺ کو سو اشعار سنائے۔
▪️قریش کی مخالفت اور بےبسی▪️
قریش کے سرداروں نے دیکھا کہ لوگ قرآن کریم کی تاثیر سے مسحور ہو رہے ہیں، تو انہوں نے لوگوں کو قرآن کریم سننے سے منع کیا اور لوگوں کو روکنے کے لئےمختلف حربے استعمال کیے
مگر قرآن کریم کی تاثیر ایسی تھی کہ خود ان کے بڑے سردار رات کی تاریکی میں چھپ کر رسول اللہ ﷺ کی تلاوت سنتے تھے۔
تاریخ میں ہے کہ ابوسفیان، ابوجہل اور اخنس بن شریق رات کے وقت چھپ کر قرآن کریم سنتے تھے اور ایک دوسرے سے ملنے پر عہد کرتے تھے کہ دوبارہ ایسا نہیں کریں گے، مگر پھر بھی وہ اپنی خواہش پر قابو نہ پاتے اور دوبارہ قرآن کریم سننے آجاتے تھے۔
(سیرت ابن ہشام)
▪️نضر بن الحارث کا اعتراف▪️
نضر بن الحارث، جو رسول اللہ ﷺ کی مخالفت میں پیش پیش تھا، قرآن کریم سن کر بے اختیار کہہ پڑا
لقد سمعت منه كلامًا ما هو من كلام الإنس ولا من كلام الجن، وإن له لحلاوة، وإن عليه لطلاوة.
(دلائل النبوية للبیہقی)
میں نے محمد (ﷺ) سے ایسا کلام سنا ہے جو نہ انسانوں کا کلام معلوم ہوتا ہے اور نہ جنوں کا۔ اس میں بے مثال مٹھاس ہے اور اس کی چمک دمک بہت دلکش ہے۔
▪️فصحاء قریش کا اجتماعی اعتراف▪️
قرآن کریم کے اس چیلنج کے بعد کہ اگر تم قرآن کریم کو انسانی کلام سمجھتے ہو تو اس جیسی ایک سورۃ بنا کر لے آو ، تو عرب کے بڑے بڑے فصحاء اور شعراء نے جمع ہوکر طبع آزمائی کی مگر سب کے سب عاجز رہے اور بول پڑے
“والله ما هذا بكلام بشر”
(الطبري )
اللہ کی قسم! یہ کسی بشر کا کلام نہیں ہے۔
اور یہ چیلنج آج بھی بدستور قائم ہے، مگر صدیاں گزر جانے کے باوجود کوئی اس کے ہم پلہ کلام پیش نہ کر سکا۔
عقلی و سائنسی دلائل
قرآن کریم ، عقل انسانی کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔
یہ صرف عقائد و احکام بیان نہیں کرتا ہے بلکہ کائنات اور انسانی تخلیق کے ایسے راز بھی بیان کرتا ہے جو صدیوں بعد جدید سائنس کے ذریعے ثابت ہوئے۔
مثال کے طور پر
▪️تخلیق انسانی کے مراحل▪️
قرآن کریم نے ماں کے رحم میں بچے کی تخلیق کے مراحل کا تفصیلی ذکر کیا ہے:
ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَامًا فَكَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْمًا (المؤمنون: 14)
پھر ہم نے نطفے کو جمے ہوئے خون کی شکل دی، پھر خون کے لوتھڑے کو گوشت کا ٹکڑا بنایا، پھر گوشت کے ٹکڑے کو ہڈیوں میں بدلا، پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھایا۔
یہ جدید ایمبریولوجی (جنینیات) کے مطابق ہے جسے ڈاکٹر کیتھ مور جیسے ماہرین نے تسلیم کیا۔
کائنات کی توسیع
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ (الذاریات: 47)
اور آسمان کو ہم نے قوت سے بنایا اور ہم ہی اسے وسعت دینے والے ہیں۔
جدید فلکیات کے مطابق کائنات مسلسل پھیل رہی ہے
کائنات کا یہ پھیلاؤ (Expanding Universe) کے سائنسی نظریے کے عین مطابق ہے، جسے 20 ویں صدی میں ایڈون ہبل (Edwin Hubble) نے دریافت کیا تھا ۔
جب کہ قرآن کریم 1400 سال پہلے اس حقیقت کو بیان کر چکا تھا۔
پہاڑوں کا کردار
قرآن کریم بیان کرتا ہے کہ پہاڑ زمین کو استحکام دیتے ہیں:
وَجَعَلْنَا فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَن تَمِيدَ بِهِمْ (الأنبیاء: 31)
اور ہم نے زمین میں مضبوط پہاڑ رکھ دیے تاکہ وہ انہیں لے کر ڈگمگا نہ جائے۔
یہ نظریہ جدید پلیٹ ٹیکٹونکس (Plate Tectonics) سے مطابقت رکھتا ہے، جو زمین کی سطح پر موجود پلیٹوں اور پہاڑوں کے استحکام میں ان کے کردار کو ثابت کرتا ہے۔
پانی میں زندگی کی ابتداء
سائنس ثابت کر چکی ہے کہ زندگی کی ابتدا پانی میں ہوئی، جبکہ قرآن کریم نے صدیوں پہلے فرما دیا تھا
وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ (الأنبیاء: 30)
اور ہم نے ہر جاندار چیز کو پانی سے بنایا۔
یہ حیاتیات (Biology) کے بنیادی اصولوں میں شامل ہے کہ تمام زندہ خلیات کا بڑا حصہ پانی پر مشتمل ہوتا ہے۔
دو سمندروں کا نہ ملنا
قرآن بیان کرتا ہے کہ دو مختلف سمندر آپس میں نہیں ملتے بلکہ ان کے درمیان ایک رکاوٹ ہوتی ہے:
مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيَانِ بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا يَبْغِيَانِ (الرحمن: 19-20)
اس نے دو سمندروں کو چھوڑ دیا کہ وہ ملتے ہیں، مگر ان کے درمیان ایک پردہ ہے، وہ ایک دوسرے سے آگے نہیں بڑھتے۔
یہ سمندریات (Oceanography) میں دریافت شدہ حقیقت ہے کہ مختلف سمندروں میں پانی کی کثافت، نمکیات، اور درجہ حرارت کے فرق کی وجہ سے وہ علیحدہ رہتے ہیں۔
قرآن کریم کے یہ سائنسی چیلنجز اس کی الہامی حیثیت کا واضح ثبوت ہیں۔ ایک ایسے دور میں جب سائنسی علم محدود تھا، ان حقائق کا بیان ہونا کسی انسانی تصنیف کا کام نہیں ہو سکتا۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے بارہا انسان کو تحقیق اور تدبر کی دعوت دی ہے
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ (فصلت: 53)
ہم انہیں اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے اور خود ان کے نفس میں بھی، یہاں تک کہ ان پر واضح ہو جائے گا کہ یہی حق ہے۔
سائنسدان ، جنھوں نے قرآن کریم سے متاثر ہوکر اسلام قبول کیا
پروفیسر کیتھ ایل مور
معروف ایمبریولوجسٹ کینیڈا
Dr. Keith L. Moore (Professor of Embryology, Canada).
“The descriptions of the human embryo in the Qur’an cannot be based on scientific knowledge in the 7th century… It is inconceivable that this information could have come from a human source.”
قرآن کریم میں انسانی جنین کی جو تفصیلات ہیں، وہ ساتویں صدی کے سائنسی علم پر مبنی نہیں ہو سکتیں…
یہ ناممکن ہے کہ یہ معلومات کسی انسانی ذریعہ سے آئی ہوں۔
پروفیسر ای مارشل جانسن
Dr. E. Marshall Johnson (Professor of Anatomy & Developmental Biology, USA)
“As a scientist, I can only deal with things which I can specifically see. I can understand embryology and developmental biology. I can understand the words that are translated to me from the Qur’an. If I were to transpose myself into that era, knowing what I do today and describing things, I could not describe the things that were described in the Qur’an.”
بطور سائنسدان، میں صرف وہی چیزیں جانچ سکتا ہوں جو میں دیکھ سکتا ہوں۔ میں ایمبریالوجی اور ڈیولپمنٹل بیالوجی کو سمجھ سکتا ہوں۔ میں قرآن سے میرے لیے ترجمہ شدہ الفاظ کو بھی سمجھ سکتا ہوں۔ اگر میں اپنے آپ کو اُس دور میں رکھوں، اور آج جو کچھ جانتا ہوں اس کی بنیاد پر چیزوں کو بیان کرنے کی کوشش کروں، تو میں قرآن میں دی گئی تفصیلات بیان نہیں کر سکتا۔”
ڈاکٹر ہنری لارسن
سینیئر پروفیسر ہارڈورڈ یونیورسٹی موروثی نابیناپن کے علاج کے لئے اسٹیم سیل دوا کے موجد ۔
Dr. Henry Larson (Harvard Professor & Stem Cell Researcher, USA)
“When I studied the Qur’an and compared it with modern scientific findings, I was amazed at its accuracy. This led me to accept Islam.
جب میں نے قرآن کریم کا مطالعہ کیا اور اسے جدید سائنسی دریافتوں سے موازنہ کیا، تو میں اس کی درستگی سے حیران رہ گیا۔
یہی چیز مجھے اسلام قبول کرنے کی طرف لے گئی۔
ڈاکٹر اوکڈا جاپانی سائنسدان ۔
سورہ الحجر کی آیت نمبر 36 سے متاثر ہوکر اسلام میں داخل ہوئے ۔
Dr. Okuda (Japanese Scientist, Japan)
“The statement in the Qur’an about human creation from ‘altered black smooth mud’ (Surah Al-Hijr:26) intrigued me.
This aligns perfectly with our findings in genetics and embryology.”
قرآن کریم میں ‘بدلی ہوئی کالی ہموار مٹی’ سے انسان کی تخلیق کے بیان نے مجھے حیران کر دیا۔ یہ ہماری جینیٹکس اور ایمبریالوجی کی دریافتوں سے مکمل طور پر مطابقت رکھتا ہے۔
سعودی عالم شیخ عبد الحمید زندانی کے مطابق ، ایک سائنسداں نے انسانی جلد میں درد کے احساس پر تحقیق کی ۔
جب انہوں نے سورہ نساء آیت نمبر 56 پڑھیں تو وہ حیران رہ گئے کہ قرآن کریم نے چودہ سو سال پہلے ہی یہ حقیقت بیان کر دی تھی اس انکشاف کے بعد انہوں نے اسلام قبول کر لیا ۔اور ان کے ذریعے مزید 500 لوگ حلقہ بگوش اسلام ہوئے ۔
Unidentified Professor (USA/Germany) – Research on Pain Receptors
“We discovered that pain sensation is only possible due to nerve endings in the skin. The Qur’an mentioned this fact over 1400 years ago in Surah An-Nisa (4:56). How could this knowledge have been available at that time? I embraced Islam after learning this truth.”
ہم نے دریافت کیا کہ درد کا احساس صرف جلد میں موجود اعصابی سروں کی وجہ سے ممکن ہے۔ قرآن کریم نے 1400 سال پہلے سورۃ النساء 56 میں اس حقیقت کو بیان کر دیا تھا۔ اُس وقت یہ علم کیسے دستیاب ہو سکتا تھا؟
اس حقیقت کو جاننے کے بعد میں نے اسلام قبول کر لیا۔
تشریعی نظام:
▪️مبنی بر انصاف▪️
قرآن کریم ایک جامع قانونی اور سماجی نظام بھی پیش کرتا ہے، جو فرد اور معاشرے دونوں کی اصلاح کرتا ہے۔
چاہے وہ عدل و انصاف کا معاملہ ہو، تجارت و معیشت کے اصول ہوں، یا ازدواجی و عائلی زندگی کے ضوابط۔
ہر پہلو پر قرآن کریم کی تعلیمات مکمل اور متوازن ہیں۔
عدل و انصاف
إِنَّ ٱللَّهَ يَأْمُرُ بِٱلْعَدْلِ وَٱلْإِحْسَانِ (النحل: 90)
بے شک، اللہ تعالی عدل اور احسان کا حکم دیتے ہیں۔
یہ اصول اسلامی قانون اور عدالتی نظام کی بنیاد بنا، جس نے دنیا کو ایک غیر جانبدار اور منصفانہ عدلیہ کا تصور دیا۔
معاشی اصول
أَحَلَّ ٱللَّهُ ٱلْبَيْعَ وَحَرَّمَ ٱلرِّبَوٰا۟ (البقرہ: 275)
اللہ تعالی نے تجارت کو حلال کیا اور سود کو حرام قرار دیا۔
جدید معیشت میں بھی سودی نظام کے نقصانات تسلیم کیے جا نے لگے ہیں، جب کہ قرآن کریم نے بہت پہلے ہی اس سے بچنے کی تلقین کر دی تھی۔
قرآن کریم، ایک زندہ معجزہ
قرآن کریم کا اعجاز ہر دور میں آشکار ہوتا رہا ہے۔ اس کی فصاحت و بلاغت نے ادیبوں کو ماند کر دیا، اس کے سائنسی حقائق نے سائنس دانوں کو حیران کر دیا، اور اس کے قوانین نے معاشروں میں عدل و انصاف کی شمعیں روشن کر دیں۔
یہ ایک ایسا کلام ہے جس کے الفاظ میں روشنی، معانی میں گہرائی، اور پیغام میں زندگی کی تمام جہتوں کا احاطہ ہے۔۔ یہی وجہ ہے کہ یہ آج بھی زندہ و جاوید ہے انسانیت کے لیے چراغِ راہ ہے، اور قیامت تک ہر شعبۂ زندگی میں رہنمائی کا سرچشمہ رہے گا۔
ابدی ہدایت
قرآن کریم کا پیغام ہر زمانے کے انسانوں کے لیے یکساں موزوں اور قابلِ عمل ہے۔ اس کی تعلیمات صرف روحانی ہی نہیں بلکہ عقلی سائنسی اور قانونی بنیادوں پر بھی ناقابلِ تردید ہیں۔
اللہ تعالی ہم سب کو قرآن کریم کی اہمیت کو سمجھنے کا شعور بخشیں ۔
آمین