زندگی خوشی اور غم ، کامیابی اور ناکامی امید اور مایوسی کا مجموعہ ہے۔ بعض اوقات ہم اپنی محنت کے باوجود نتائج ویسے نہیں پاتے جیسے چاہتے ہیں، اور کبھی بغیر کسی توقع کے نعمتیں مل جاتی ہیں۔ ایسے میں ایک سچا مومن دل سے یقین رکھتا ہے کہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کے حکم، علم، اور ارادے کے مطابق ہوتی ہے، چاہے وہ ہمارے لیے بظاہر اچھی ہو یا بُری
یہی یقین “تقدیر پر ایمان” کہلاتا ہے، جو ایمان کے چھ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے۔

تقدیر پر ایمان رکھنا نہ صرف اسلامی عقیدہ ہے، بلکہ ایک عقلی حقیقت بھی ہے۔ انسان اپنی زندگی میں بہت سے ارادے بناتا ہے منصوبہ بندی کرتا ہے مگر ہمیشہ وہی نہیں ہوتا جو وہ چاہتا ہے۔
ذرا غور کریں کہ انسان جو ابتداء میں ایک معمولی قطرہ ہوتا ہے ، مگر جب اللہ تعالٰی کی تخلیقی قدرت اس پر جلوہ گر ہوتی ہے تو وہ ایک جیتا جاگتا شاہکار بن جاتا ہے
: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں

هُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُكُمْ فِی الْاَرْحَامِ كَیْفَ یَشَآءُؕ۔ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ (آل عمران 6)
وہ تمہیں ، رحم مادر میں جس طرح چاہتے ہیں تخلیق کرتے ہیں ۔ ان کے سوا کوئی معبود نہیں وہ زبردست حکمت والے ہیں۔

ایک معمولی نطفہ، جو پانی کی ایک بوند سے زیادہ کچھ نہیں، اللہ تعالیٰ کے حکم سے گوشت و پوست کا حسین پیکر بن جاتا ہے۔ اس کی آنکھوں میں بینائی، اس کے دل میں زندگی کی حرارت، اس کے لبوں پر مسکراہٹ اور اس کے دماغ میں فکر و شعور کے چراغ روشن ہو جاتے ہیں۔
انسان ابھی دنیا میں نہیں آیا ہوتا، مگر اس کی صورت گری ہو رہی ہوتی ہے۔ کہیں اس کے ہاتھوں کی لکیریں بن رہی ہوتی ہیں، تو کہیں اس کی آنکھوں کا رنگ متعین ہو رہا ہوتا ہے۔ اس کا قد ، اس کی جسمانی ساخت

اس کی ذہانت، اس کی صلاحیتیں، سب کچھ ایک غیر مرئی دستکاری کے تحت تخلیق ہو رہی ہوتی ہیں۔
یہ کیسا حیرت انگیز نظام ہے کہ ماں کے پیٹ میں پلنے والے ایک ناتواں وجود کے ہر پہلو کو پہلے سے طے کر دیا گیا ہے کہ کس کے چہرے پر خوشی کی رونق ہوگی اور کس کی پیشانی پر غم و اندوہ کی شکنیں۔
مگر دونوں صورتوں میں اس کی آزمائش ہوتی ہے کہ وہ صبر و ثبات اور شکر و سپاس کے ساتھ کب تک کھڑا رہتا ہے ؟

یہاں “کَیْفَ یَشَاءُ” تمہاری صورت گری ” جس طرح چاہتا ہے کرتا ہے۔
میں جو وسعت اور اختیار کا اعلان ہے، وہ انسان کو اس کی بے بسی کا احساس دلاتا ہے۔
نہ کوئی اپنی آنکھوں کی رنگت بدل سکتا ہے نہ اپنی پیدائشی ساخت۔ کوئی خود کو طویل القامت نہیں بنا سکتا، نہ کوئی اپنی جلد کی رنگت کا فیصلہ خود کر سکتا ہے ، اور نہ لڑکا لڑکی بننے میں کسی کا کوئی اختیار ہے ۔

جو کچھ بھی وہ ہے، جیسا بھی وہ ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی مشیّت کے تابع ہے۔
اس لئے اگر جسم میں کوئی کمی ہے تو اپنے رب کے فیصلے پر راضی رہتے ہوئے صبر کرنا چاہئے ۔ اور اگر خوبی ہے تو سمجھنا چاہیے کہ یہ سب اس کا اپنا انتخاب نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کا عطیہ ہے ۔
کیونکہ جو بھی شکل و صورت، جو بھی صلاحیتیں اسے عطا کی گئی ہیں، وہ اس کے لئے اللہ تعالیٰ کا مناسب انتخاب ہیں اور اس کے لئے وہی بہتر ہیں۔

وَصَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ۔ (التغابن: 3)
اور اس نے تمہاری صورت بنائی، پھر اسے بہترین بنایا۔

ہر انسان اللہ تعالیٰ کی نظر میں مکمل اور خوبصورت ہے، کیونکہ اسے اسی حکمت کے مطابق تخلیق کیا گیا ہے، جو اس کے لیے سب سے بہتر تھی۔

یہ آیت محض ایک حقیقت نہیں، بلکہ ایک پیغام ہے، ایک درس ہے، ایک زندگی گزارنے کا اصول ہے ۔ اس میں اللہ تعالیٰ کے اختیار، ان کی محبت، اور ان کے فیصلے پر یقین رکھنے کا درس ہے۔
انسان کو چاہیے کہ وہ خود کو کسی اور کے پیمانے پر نہ تولے، بلکہ یہ سمجھے کہ اس کی تخلیق میں جو کچھ بھی ہے، وہ بہترین ہے۔

اللہ تعالیٰ کی تقدیر میں کبھی بھول نہیں اس کی صنعت میں کوئی کمی نہیں، اور اس کے فیصلوں میں کبھی ناانصافی نہیں۔
جو کچھ بھی ہمیں ملا، وہ اللہ تعالیٰ کی بہترین مشیت کے تابع ہے ۔ جسمانی نظام کا ایک ایک حصہ مثلا: دل کی دھڑکن، سانس لینے کا عمل، ڈی این اے کا پروگرام، اور دماغ کی کارکردگی، سب ایک مقررہ تقدیر کے تحت کام کر رہے ہیں۔

ہم اپنی مرضی سے دل کی دھڑکن کو نہیں روک سکتے،
نہ ہی خود سے ڈی این اے کا کوڈ تبدیل کر سکتے ہیں۔
یہ سب اللہ تعالیٰ کی طے کردہ تقدیر کے مطابق چلتے ہیں۔
انہیں تکوینی امور کہا جاتا ہے ۔

ہم تقدیر کو اجمالی طور پر دو بڑے دائروں میں تقسیم کر سکتے ہیں
تکوینی امور
تشریعی امور

تکوینی امور میں انسان کا کوئی اختیار نہیں ہوتا، مثلاً:
انسان کی پیدائش ، جنس ، رنگ و نسل صحت و بیماری ، تکلیف و آرام ، زندگی اور موت وغیرہ ۔
یہ سب اللہ تعالیٰ کے قطعی فیصلے ہیں، جن پر انسان کا نہ کوئی اختیار ہے اور نہ ہی ان پر اس سے کوئی مؤاخذہ ہوگا۔

تشریعی امور
یہ وہ امور ہیں جو انسان کے ارادے، اختیار اور کوشش سے متعلق ہیں، مثلاً
ہدایت یا گمراہی کا راستہ اختیار کرنا۔
اچھے یا برے اعمال کا انتخاب
اللہ تعالیٰ کی اطاعت یا نافرمانی

ان امور میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل، ارادہ اور اختیار عطا فرمایا ہے، اسی لیے ان پر انسان سے باز پرس ہوگی۔
گویا جہاں انسان مجبور ہے وہاں وہ ذمہ دار نہیں،
اور جہاں اسے اختیار دیا گیا ہے، اسی سے متعلق اس کی جواب دہی طے کی گئی ہے ۔

تقدیر پر ایمان
انسان اپنی زندگی میں کئی مرتبہ ایسے حالات کا سامنا کرتا ہے جو اس کے اختیار میں نہیں ہوتے۔
جیسے : غیر متوقع حادثات اور کامیابی و ناکامی وغیرہ۔
اگر انسان اپنی تقدیر کا مالک ہوتا، تو وہ ہمیشہ اپنے حق میں بہتر چیزوں کا انتخاب کرتا
لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے ۔

رسول اللہ ﷺ ارشاد فرماتے ہیں
“لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّىٰ يُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ، خَيْرِهِ وَشَرِّهِ.”
(صحيح مسلم)
کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ تقدیر پر ایمان نہ لے آئے، چاہے وہ خیر ہو یا شر۔

یہ عقیدہ انسان کو بے یقینی کی کیفیت سے نکال کر اطمینان کی روشنی عطا کرتا ہے۔

مسئلہ تقدیر کو قدرے تفصیل سے سمجھنے کے لئے اس کے چار بنیادی عناصر کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے ۔

اللہ تعالیٰ کا علم
اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جانتے ہیں، جو کچھ ہو چکا، جو ہو رہا ہے، اور جو ہونے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا علم کامل اور بے عیب ہے۔

الله تعالي ارشاد فرماتے ہیں
أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ؟
(الحج: 70)
کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالی آسمان و زمین کی ہر چیز کو جانتے ہیں؟

وَعِندَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ ۖ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ۚ وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا ۚ وَلَا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ ( الأنعام: 59)
اور انہیں کے پاس غیب کی چابیاں ہیں، انہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور وہ جانتے ہیں جو کچھ خشکی اور سمندر میں ہے اور کوئی پتا نہیں گرتا مگر وہ اسے جانتے ہیں اور کوئی دانہ زمین کے اندھیروں میں نہیں اور نہ کوئی تری میں اور نہ خشکی میں، مگر وہ سب کچھ ایک واضح کتاب میں (لکھا ہوا) ہے۔

سب کچھ لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے ۔
أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ۗ إِنَّ ذَٰلِكَ فِي كِتَابٍ ۚ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ
(سورۃ الحج: 70)
کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ آسمان و زمین کی ہر چیز کا علم رکھتے ہیں ؟ بے شک یہ سب کچھ ایک کتاب میں (لکھا ہوا) ہے، اور بے شک یہ اللہ تعالیٰ کے لیے بالکل آسان ہے۔

یہ یقین انسان کے دل سے بے چینی ختم کر دیتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کی زندگی کا ہر لمحہ میرے رب اور سب سے بڑے محسن کے علم میں ہے

اللہ تعالیٰ کی مشیت
اللہ تعالیٰ کی مرضی کے بغیر کوئی چیز نہیں ہو سکتی۔
ہر عمل، ہر تبدیلی، ہر فیصلہ اللہ تعالی کی مشیت سے ممکن ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
وَمَا هُم بِضَآرِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ ( بقرہ: 102)
اور وہ کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتے، مگر اللہ تعالیٰ کے اذن (ڈھیل) سے۔

قُل لَّن يُصِيبَنَآ إِلَّا مَا كَتَبَ ٱللَّهُ لَنَا (توبہ: 51)
کہہ دو! ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا مگر وہی جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے حق میں لکھ دیا ہے۔

مَا أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ فِي ٱلْأَرْضِ وَلَا فِيٓ أَنفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَـٰبٍۢ مِّن قَبْلِ أَن نَّبْرَأَهَآ
(حدید: 22)
زمین میں یا تمہاری جانوں پر جو مصیبت آتی ہے، وہ ایک کتاب میں لکھی جا چکی ہے، اس سے پہلے کہ ہم اسے وقوع میں لائیں۔

اللہ تعالیٰ کی تخلیق
اللہ تعالیٰ ہر چیز کے خالق ہیں، خواہ وہ ہمارے اعمال ہوں یا ہماری زندگی کے حالات۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
“إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ.”
(قمر: 49)

بے شک ہم نے ہر چیز کو ایک مقررہ تقدیر کے مطابق پیدا کیاہے
وَرَبُّكَ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَيَخْتَارُ (القصص 68)
اور تیرا رب جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور (جسے چاہتا ہے) چن لیتا ہے۔

یہ سوال ہمیشہ سے انسانی ذہن کو متحیر کیے ہوئے ہے کہ کیا انسان مجبور ہے؟
اگر اس کی قسمت کا ہر حرف پہلے ہی لوحِ تقدیر پر رقم ہو چکا ہے، اگر اس کے فیصلے کسی ان دیکھے قلم سے تحریر کر دیے گئے ہیں تو پھر جزا و سزا کا فلسفہ کیوں؟
اگر وہ اپنی راہوں کا خود معمار نہیں، تو پھر اس کے اچھے اور برے اعمال کا حساب کیوں؟
یہی وہ نکتہ ہے جہاں تقدیر اور اختیار کے درمیان نازک توازن کو سمجھنا لازم ہو جاتا ہے۔
اس توازن کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم دنیاوی زندگی کے مقصد سے واقف ہوں ۔
یاد رکھیں کہ یہ دنیا آزمائش کی جگہ ہے جہاں ہر فرد کو خیر و شر کے درمیان چناؤ کا اختیار دیا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا علم ہر چیز پر حاوی ہے، مگر یہ علم انسان کی راہ میں قید و زنجیر نہیں بنتا۔ کامیاب وہی ہے جو اپنی تقدیر کو تدبیر، دعا اور نیک اعمال کے ذریعے سنوارنے کی کوشش کرتا ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں
“لَا يَرُدُّ الْقَدَرَ إِلَّا الدُّعَاءُ”
تقدیر کو سوائے دعا کے کچھ نہیں بدل سکتا۔ (سنن ترمذی)

یہ حدیث اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ دعا وہ ہاتھ ہے جو تقدیر کے دریچوں پر دستک دیتا ہے۔ یہ وہ روشنی ہے جو لکھی ہوئی سطروں میں نیا رنگ بھر دیتی ہے۔ دعا محض الفاظ نہیں، بلکہ بندے کا اپنے رب سے وہ تعلق ہے جو لکھی ہوئی خشک قسمت کو بھی نمی عطا کر سکتا ہے ۔

ایک اہم وضاحت
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
وَلَـكِن يُضِلُّ مَن يَشَاءُ وَيَهْدِي مَن يَشَاءُ وَلَتُسْأَلُنَّ عَمَّا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ (النحل93)
الله تعالیٰ جسے چاہیں گمراہ کر دیں اور جسے چاہیں ھدایت عطا کریں۔ اور ضرور بالضرور تم سب سے تمھارے اعمال کی باز پرس ہوگی ۔

اس آیت کو سمجھنے کے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت (چاہنا) اس کے اپنے بنائے ہوئے اصولوں کے تحت کام کرتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور گمراہی کے لیے کچھ پیمانے مقرر کر رکھے ہیں۔

آیت کریمہ کا پہلا حصہ
يُضِلُّ مَن يَشَاءُ
اللہ تعالیٰ جسے چاہتے ہیں گمراہ کرتے ہیں اس کی تشریح قرآن کریم نے خود ہی کر دی ہے کہ اللہ تعالیٰ کن لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں اور گمراہ کرنے کا مطلب کیا ہے ؟
​ارشاد ہے
وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفَاسِقِينَ (البقرہ 26)
اور وہ اس (مثال) سے صرف فاسقوں (نافرمانوں) ہی کو گمراہی میں رہنے دیتے ہیں۔

وَيُضِلُّ اللَّهُ الظَّالِمِينَ ۚ وَيَفْعَلُ اللَّهُ مَا يَشَاءُ (ابراہیم27)
اور اللہ تعالیٰ ظالموں کو گمراہی میں چھوڑ دیتے ہیں ، اور اللہ تعالیٰ جو چاہتے ہیں کرتے ہیں ۔

سَأَصْرِفُ عَنْ آيَاتِيَ الَّذِينَ يَتَكَبَّرُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ (الاعراف 146)
میں اپنی نشانیوں سے ان لوگوں کے دلوں کو پھیر دوں گا جو زمین میں ناحق تکبر کرتے ہیں۔
آیت کریمہ کا دوسرا حصہ
وَيَهْدِي مَن يَشَاءُ
اور اللہ تعالیٰ جسے چاہیں ھدایت سے نوازیں ۔

​یعنی اللہ تعالیٰ صرف ان لوگوں کو ہدایت کے لیے چنتے ہیں جن میں اس کی طلب ہوتی ہے۔
چنانچہ ارشاد ہے
وَيَهْدِي إِلَيْهِ مَنْ أَنَابَ ( الرعد 27)
اور وہ ( اللہ تعالیٰ) اپنی طرف آنے والے کو ہدایت سے سرفراز کرتے ہیں ۔

وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنکبوت 69)
اور جو لوگ ہماری راہ میں کوشش کرتے ہیں ہم انہیں ضرور اپنے راستے دکھاتے ہیں۔
​يَهْدِي بِهِ اللَّهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلَامِ (المائدہ 16)
اللہ تعالیٰ اس (کتاب) کے ذریعے ان لوگوں کو سلامتی کی راہیں دکھاتے ہیں جو اس کی رضا کے پیچھے چلتے ہیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ
​اللہ تعالیٰ کی مشیت حاکمِ اعلیٰ ہے، لیکن وہ ظالمانہ نہیں بلکہ عادلانہ ہے۔
​انسان کو اللہ تعالیٰ نے “اختیار” دے کر آزمایا ہے۔ جب انسان بار بار Free Will کا استعمال کرتے ہوئے حق کو ٹھکراتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ کی مشیت اس پر گمراہی کی مہر لگا دیتی ہے۔
جسے چاہتے ہیں کا مطلب یہ نہیں کہ بغیر کسی وجہ کے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو ہدایت یا گمراہی کے مروجہ قانون پر پورا اترتا ہے اللہ تعالیٰ اسے وہی دیتے ہیں
آسان لفظوں میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ارادہ اور اختیار دیا ہے۔ جب انسان خود جان بوجھ کر برائی کا راستہ چنتا ہے اور بار بار حق کو جھٹلاتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دیتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے “گمراہ کرنا” دراصل انسان کے اپنے فیصلے کا نتیجہ ہوتا ہے۔

جس طرح ایک ​استاد کلاس میں اپنے تمام شاگردوں کو ایک ساتھ پڑھاتا ہے اور نصاب تعلیم بھی سب کے لیے یکساں ہوتا ہے ۔ اب ان میں ​بعض طلبہ توجہ سے پڑھائی کریں اور محنت کرکے امتحانات کے پیپرز پورا صحیح صحیح حل کریں ، اور پھر استاد انہیں پاس کر دے۔
​ اور انہیں شاگردوں میں کوئی پڑھائی پر توجہ نہ دے ، اور امتحانات کے پیپرز بھی خالی چھوڑ دے، تو استاد اسے فیل کر دے۔
اب ​یہ کہنا کہ “استاد نے اسے فیل کر دیا” غلط نہیں ہے، کیونکہ اختیار استاد کا تھا، لیکن فیل ہونے کی وجہ خود طالب علم کا اپنا عمل تھا۔
اسی طرح ​اللہ تعالیٰ کسی کو زبردستی گمراہ نہیں کرتے۔ انسان جب خود گمراہی کا انتخاب کر لیتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اسے اس کے حال پر چھوڑ دیتے ہیں، اور اسی کو “یضل من یشاء” (جسے چاہے گمراہ کر دے) کہا گیا ہے۔

اللہ تعالیٰ کی ذات قادرِ مطلق ہے، وہی کائنات کے خالق، موت و حیات کے مالک، اور جزا و سزا کا فیصلہ فرمانے والے ہیں۔
ان کی بادشاہت میں کوئی ان کا شریک نہیں ان کے فیصلے حتمی ہیں کوئی انہیں ٹال نہیں سکتا ۔ جنت و جہنم، مغفرت و عذاب سب انہیں کے اختیار میں ہیں، مگر وہ ایسے حاکم نہیں جو کسی پر ناحق ظلم کریں ، وہ سراپا عدل و رحمت ہیں۔
ان کی رحمت و انصاف کے پیمانے کامل حکمت پر مبنی ہیں۔ وہ اپنے بندوں کی ادنیٰ نیکی کو بھی نظر انداز نہیں کرتے ، بلکہ اجر و ثواب میں کئی گنا اضافہ فرماتے ہیں۔
ان کے عدل کا تقاضا ہے کہ جو ان کے حکم کے مطابق زندگی بسر کرے، اسے بہترین جزا دیں اور جو سرکشی و نافرمانی کا راسںتہ اپنائے، اسے اس کے برے انجام تک پہنچائیں۔
ارشاد ہے
إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ
بے شک اللہ تعالیٰ شرک کو معاف نہیں کرتے اور اس کے علاوہ جسے چاہیں بخش دیتے ہیں۔ (النساء: 48)

یہاں “لِمَنْ يَشَاءُ” کی وضاحت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ مغفرت محض ایک غیر مشروط بخشش نہیں ، بلکہ اللہ تعالیٰ کے علم حکمت اور بندے کے اعمال کے مطابق ہے۔
وہ چاہیں تو ایک معمولی نیکی پر بھی رحمت کے دروازے کھول دیں اور چاہیں تو کسی کی سرکشی پر اسے عذاب میں مبتلا کر دیں ، مگر ان کا ہر فیصلہ سراسر عدل و انصاف پر مبنی ہوتا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد نقل کیا ہے
“إِنَّ رَحْمَتِي غَلَبَتْ غَضَبِي”
بے شک میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔
(بخاری، مسلم)

یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو بلا وجہ عذاب میں مبتلا نہیں کرتے ، بلکہ وہ اپنے بندوں کو بارہا توبہ اور رجوع کا موقع فراہم کرتے ہیں، تاکہ وہ اپنے اعمال کی اصلاح کر سکیں اور اپنی آخرت سنوار سکیں۔

ایک دوسری آیت میں ارشاد ہے
يَغْفِرُ لِمَن يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَاءُ ۚ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ( البقرة 284)
جسے چاہتے ہیں بخش دیتے ہیں اور جسے چاہتے ہیں عذاب دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت فرمانے والے ، رحم کرنے والے ہیں ۔
مستحقین عذاب کو عذاب دینا اللہ تعالیٰ کے عدل کی بنیاد پر ہوگا ۔
جس کے جس طرح کے اعمال ہونگے اسی طرح کا اسے بدلہ ملیگا۔ اللہ تعالیٰ کسی پر جبر نہیں فرماتے ، بلکہ نتیجہ عین مطابق عدل ہوگا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں
كُلُّكُمْ تَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ أَبَى، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَنْ يَأْبَى؟ قَالَ: مَنْ أَطَاعَنِي دَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ أَبَى.
( بخاری)

تم سب جنت میں داخل ہو گے، سوائے اس کے جو انکار کرے۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کون انکار کرے گا؟ فرمایا: جس نے میری اطاعت کی، وہ جنت میں داخل ہوگا، اور جس نے نافرمانی کی، وہی انکار کرنے والا ہے۔

إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ النَّاسَ شَيْئًا، وَلَكِنَّ النَّاسَ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ(مسلم)
بیشک اللہ تعالیٰ لوگوں پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتے، بلکہ لوگ خود اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں۔

إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ النَّاسَ شَيْئًا، وَلَكِنَّ النَّاسَ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ(مسلم)
بیشک اللہ تعالیٰ لوگوں پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتے، بلکہ لوگ خود اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں۔

ایک شخص یہ جانتے ہوئے کہ قتل کا انجام پھانسی یا عمر قید ہے پھر بھی اس جرم کا ارتکاب کرتا ہے ، تو ظاہر ہے اس نے اپنے لئے سزا کا فیصلہ خود کیا ہوا ہے ۔

اللہ تعالیٰ نے خیر و شر، ہدایت و ضلالت کے راستے اور ان کے انجام واضح کر دیے ہیں،
ان کے خالق اللہ تعالیٰ ہیں ، فاعل نہیں ۔
فاعل بندہ ہے ، بندہ خود انتخاب کرتا ہے کہ اسے کس راہ پر چلنا ہے ۔
جیسے کوئی ممتحن سوال نامہ تیار کرتا ہے تو وہ سوال کے ایک درست جواب کے ساتھ کئی غلط متبادل بھی درج کر دیتا ہے۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ طالب علم کو صحیح یا غلط جواب چننے پر مجبور کر رہا ہے۔
سوال نامہ محض امتحان کا میدان فراہم کرتا ہے، انتخاب کی ذمہ داری طالب علم کی اپنی ہوتی ہے۔
جو طالب علم محنت اور فہم و
توجہ سے کام لیتا ہے وہ درست جواب تک پہنچ جاتا ہے، اور جو غفلت یا لاپروائی کا شکار ہوتا ہے وہ غلطی کا راستہ اختیار کر لیتا ہے۔ اس لئے درست اور غلط دونوں راستوں کا سامنے ہونا جبر نہیں،
بلکہ اختیار کے ساتھ آزمائش ہے۔
اور یہی آزمائش کامیابی اور ناکامی کے درمیان اصل فرق کو نمایاں کرتی ہے۔

حق کو ماننے نہ ماننے
اپنے محسن کا شکر و ناشکری اور اطاعت و نافرمانی میں انسان کو مکمل آزادی حاصل ہے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں :
وَقُلِ الْحَقُّ مِنْ رَبِّكُمْ ۖ فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْمِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُرْ ۚ(الکہف: 29)
اور آپ کہ دیجئے کہ یہ حق ہے آپ کے رب کی طرف سے ، پھر جو چاہے ایمان لے آئے اور جو چاہے انکار کر دے۔
یہ اعلان اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ ایمان کا تعلق تسلیم خاطر و تصدیق قلب سے ہے یہ کوئی ایسی شیئ نہیں ہے جسے زبردستی کسی کے دل میں بٹھایا جا سکے ، بلکہ یہ بندے کے اختیار پر منحصر ہے۔

اسی طرح فرمایا “إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا” (الدہر: 3)
ہم نے اسے راستہ دکھا دیا، اب چاہے شکر گزار بنے یا ناشکرا۔
یہاں “إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا” کے الفاظ انسان کے اختیار کی بھرپور وضاحت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اسے آزاد پیدا کیا ہے، اس کے اعمال کے نتائج اسی پر مرتب ہوں گے۔
جو برائی کرے گا، وہ اس کی سزا پائے گا
مَن يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ وَلَا يَجِدْ لَهُ مِن دُونِ اللَّهِ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا (نساء: 123)
جو بھی برائی کرے گا، اسے اس کی سزا دی جائے گی اور وہ اللہ تعالیٰ کے سوا نہ کوئی حمایتی پائے گا اور نہ کوئی مددگار۔
آگے کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے جزا و سزا کے اصول بھی بیان فرمادئے .
لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ (بقرہ 286)
جو نیکی کرے گا وہ اس کے حق میں ہے، اور جو برائی کرے گا وہ اس کے خلاف ہے۔

انسان کا اختیار اور عدلِ الٰہی
یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ انسان کو شعور و اختیار کی نعمت سے سرفراز کیا گیا ۔ دنیا میں وہ جس راہ کا انتخاب کرتا ہے، اس کا انجام بھی اسی کے مطابق مقدر ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص ظلم کی تاریکیوں میں بھٹکتا رہے، ہوس اور خیانت کو اپنا شعار بنا لے دوسروں کے حقوق غصب کرے اور جھوٹ و فریب کے سہارے اپنی دنیا سنوارنے کی کوشش کرے، تو یہ کیسے ممکن ہے کہ آخرت میں اس کے لیے راحت و سکون کا سامان ہو؟
اسی طرح، ایک مخلص اور نیکوکار شخص، جو تقویٰ و اخلاص کی روشنی میں زندگی بسر کرے، اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ عدل و احسان کا برتاؤ کرے، اور حق و صداقت کی راہ پر گامزن رہے، وہ کبھی خسارے میں نہیں رہ سکتا۔
اللہ تعالیٰ نے خیر و شر کی راہیں واضح کر دی ہیں، اور انسان کو وہ بصیرت بخشی ہے جس کے ذریعے وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کر سکتا ہے۔ اس کی مشیّت، عدل اور رحمت ایک کامل توازن کے ساتھ کار فرما ہے۔

نہ وہ کسی پر بلا وجہ عذاب نازل کرتا ہے، نہ کسی کو بے سبب بخشش سے نوازتا ہے۔ بلکہ ہر فیصلے کی بنیاد اس کی حکمت اور انسان کے اعمال پر ہے۔
حقیقی کامیابی اسی کے حصے
میں آئے گی جو ایمان اور نیک اعمال کی روشنی میں اپنی راہ متعین کرے گا، اور نامرادی اس کا مقدر ہوگی جو نافرمانی اور سرکشی کو اپنا وطیرہ بنا لے۔
یہ دنیا محض ایک امتحان گاہ ہے، جہاں ہر عمل کا ریکارڈ محفوظ ہو رہا ہے، اور آخرت وہ عظیم دن ہے جہاں ہر عمل کا حساب ہوگا۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی رحمت کا طلبگار ہوگا، وہ اس کی آغوشِ عاطفت میں پناہ پائے گا، اور جو اپنی سرکشی کے باعث عذاب کا مستحق بنے گا، اس کے لیے کوئی جائے پناہ نہ ہوگی۔

اسلام ہمیں تقدیر اور اختیار کے مابین ایک حسین توازن کا درس دیتا ہے۔
نبی کریم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:
إعْمَلُوا، فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ (صحیح مسلم)
عمل کرو، کیونکہ ہر ایک کے لیے وہی راستہ آسان کیا گیا ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے۔
یہ ارشاد ہمیں باور کراتا ہے کہ انسان جو کچھ بھی کرتا ہے، اس کے نتائج ویسے ہی برآمد ہوتے ہیں۔
تقدیر پر کامل ایمان رکھنے والا شخص ہر حال میں مطمئن رہتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ خوشی و غم، نفع و نقصان سب اللہ تعالیٰ کے فیصلے کے تحت ہیں۔ ان کی رضا میں راضی رہنا ہی اصل کامیابی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی محبت کی دولت عطا کریں اور اپنے ہر فیصلے پر کامل رضا اور صبر کی توفیق بخشیں۔ آمین

Tashreeh Updates 👋

Get new articles in your inbox.

We don’t spam! Read our privacy policy for more info.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *