اسلام کا بنیادی اور سب سے اہم عقیدہ توحید ہے ، یعنی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار
اسی عقیدے کی اشاعت و حفاظت کے لیے تمام انبیاء کرام علیہم السلام مبعوث کیے گئے اور یہی عقیدہ انسان کی کامیابی کی ضمانت ہے۔
اس کے بر خلاف اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو شریک ٹھہراتا ہے، تو وہ سب سے بڑے گناہ یعنی شرک کا ارتکاب کرتا ہے۔
شرک عربی زبان کا لفظ ہے، جس کا مطلب ہے “شریک کرنا” یا “کسی کو کسی کے برابر ٹھہرانا”۔
اسلامی اصطلاح میں
شرک سے مراد اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو اس کی عبادت، صفات یا اختیارات میں شریک قرار دینا۔
یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو حاجت روا مشکل کشا سمجھنا، جب کہ وہ خود جسے انسان معبود سمجھ کر پکارتا ہے، اپنی حفاظت کا محتاج ہے۔
:اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مَا يَمْلِكُونَ مِنْ قِطْمِيرٍ
وہ لوگ جنہیں تم اللہ تعالیٰ کے سوا پکارتے ہو وہ کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے بھی مالک نہیں ہیں ۔
( فاطر 13 )
قرآن کریم اور احادیث نبویہ میں شرک کی سخت مذمت آئی ہے اگر انسان بغیر توبہ کے اسی حال میں دنیا سے رخصت ہوگیا تو یہ ایک ناقابل معافی گناہ ہے ۔
: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ ۚ
بے شک اللہ تعالیٰ شرک کو معاف نہیں فرماتے اور اس کے علاوہ جو چاہیں ، معاف کر دیتے ہیں۔ (النساء: 48)
: ایک دوسرے مقام پر ارشاد ہے
وَلَا يُشْرِكُ فِي حُكْمِهِ أَحَدًا
اور وہ (اللہ تعالیٰ) اپنے حکم میں کسی کو شریک نہیں کرتے۔ (الکہف: 26)
شرک کی قسمیں
علماء کرام نے شرک کی دو بنیادی قسمیں بیان کی ہیں
شرک اکبر (بڑا شرک)
یہ وہ شرک ہے جو انسان کو اسلام سے خارج کر دیتا ہے اور اس کی وجہ سے انسان ہمیشہ کے لیے جہنم کا مستحق بن جاتا ہے۔
: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
َمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ
اور جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرے، تو بے شک اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت کو حرام کر دیا ہے اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ (المائدہ: 5:72)
: شرک اکبر کی مثالیں
: عبادت میں شرک ▪
اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی عبادت (سجدہ ، طواف ، قربانی وغیرہ ) کرنا۔
: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
وَٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا۟ بِهِۦ شَيْـًۭٔا
اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ (النساء: 36)
: دعا میں شرک ▪
اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور سے غائبانہ مدد مانگنا اور یہ سمجھنا کہ وہ اس کی فریاد سن رہا ہے ۔
: نبی کریم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں
إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللَّهَ، وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ
جب تم مانگو ، تو صرف اللہ تعالیٰ سے مانگو اور جب مدد طلب کرو ، تو اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرو۔ (سنن ترمذی: 2516)
: حاکمیت میں شرک ▪
اللہ تعالیٰ اور نبی کریم ﷺ نے قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں زندگی گزارنے کے مکمل اصول و ضوابط بیان فرما دئے ہیں
جن میں عدل، معیشت، معاشرت، اور سیاست کے احکامات شامل ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا حق ہے کہ وہی قانون ساز ہوں اور کسی بھی مومن کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے قانون کو چھوڑ کر انسانی عقل و خواہشات پر مبنی قوانین کو کامل اور افضل سمجھے۔
مثلا اگر کوئی شخص یہ عقیدہ رکھے کہ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ قوانین جیسے سود کی حرمت، وراثت کے اصول، زنا اور چوری کی سزائیں آج کے دور میں قابلِ عمل نہیں ہیں یا زنا، چوری، قتل کی اسلامی سزائیں، ظالمانہ ہیں اور مغربی یا سیکولر قوانین اس سے بہتر ہیں، تو یہ شرک فی الحاکمیت ہوگا۔
: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْكَـٰفِرُونَ
اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ (قانون) کے مطابق فیصلے نہیں کرتے، وہی کافر ہیں۔ (المائدہ: 44)
شرک اصغر (چھوٹا شرک)
یہ وہ شرک ہے جو انسان کو اسلام سے خارج نہیں کرتا، لیکن اس کے اعمال برباد کر دیتا ہے۔
: شرک اصغر کی مثالیں
: ریاکاری
عبادت میں دکھاوا کرنا، جیسے لوگوں کو خوش کرنے کے لیے نماز پڑھنا یا صدقہ دینا وغیرہ۔
: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمُ الشِّرْكَ الْأَصْغَرُ، قَالُوا وَمَا الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: الرِّيَاءُ
مجھے تمہارے بارے میں سب سے زیادہ جس چیز کا خوف ہے وہ شرک اصغر ہے۔
صحابہؓ نے پوچھا: یا رسول اللہ! شرک اصغر کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ریاکاری۔
(مسند احمد)
: قسم میں شرک
اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کی قسم کھانے کی ممانعت احادیث مبارکہ میں صراحت کے ساتھ آئی ہوئی ہے۔
نبی کریم ﷺ نے اس عمل کو شرک قرار دیا ہے
: نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا
مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللَّهِ فَقَدْ كَفَرَ أَوْ أَشْرَكَ
جس نے غیر اللہ کی قسم کھائی، اس نے کفر یا شرک کیا۔
(سنن ترمذی، سنن ابوداؤد)
والدین کی قسم کھانے کی ممانعت
: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
أَلَا إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ، فَمَنْ كَانَ حَالِفًا فَلْيَحْلِفْ بِاللَّهِ، أَوْ لِيَصْمُتْ
خبردار! اللہ تعالیٰ تمہیں منع کرتا ہے کہ تم اپنے باپ دادا کی قسم کھاؤ، پس جو قسم کھانا چاہے، وہ اللہ تعالیٰ کی قسم کھائے یا خاموش رہے۔
: اور ارشاد فرمایا کہ
لَا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ، وَلَا بِأُمَّهَاتِكُمْ، وَلَا بِالْأَنْدَادِ، وَلَا تَحْلِفُوا إِلَّا بِاللَّهِ، وَلَا تَحْلِفُوا بِاللَّهِ إِلَّا وَأَنْتُمْ صَادِقُونَ
اپنے آباء، امھات اور جھوٹے معبودوں کی قسم نہ کھاؤ، صرف اللہ تعالیٰ کی قسم کھاؤ اور جب اللہ تعالٰی کی قسم کھاؤ تو سچ بولو۔
یہاں “أنداد” (شریک ٹھہرائے گئے معبود) میں کعبہ سمیت ہر وہ چیز شامل ہے جسے اللہ تعالیٰ کے سوا مقدس سمجھ کر اس کی قسم کھائی جائے۔
نوٹ : والدین کی طرح اولاد کی قسم کھانا بھی اسی حکم میں آتا ہے
کعبہ کی قسم کھانے والے کو رسول اللہ ﷺ کی اصلاح
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک آدمی کو سنا جو کہہ رہا تھا
وَالْكَعْبَةِ (کعبہ کی قسم!)
: تو ابن عمرؓ نے فرمایا
لَا تَحْلِفْ بِغَيْرِ اللَّهِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ ﷺ يَقُولُ: مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللَّهِ فَقَدْ كَفَرَ أَوْ أَشْرَكَ
اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی قسم مت کھاؤ، کیونکہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ : جس نے غیر اللہ کی قسم کھائی اس نے کفر یا شرک کیا۔
ربِّ کعبہ کی قسم کہنا جائز ہے
اگرچہ “کعبہ کی قسم” کھانا منع ہے، لیکن ربِّ کعبہ کی قسم کھانا جائز ہے، اس میں قسم اللہ تعالیٰ کے نام کی ہوتی ہے، نہ کہ کسی مخلوق کی ۔
: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
وَرَبِّ الْكَعْبَةِ إِنَّهُ لَحَقٌّ
ربِّ کعبہ کی قسم! بے شک یہ برحق ہے۔
توہم پرستی اور بدشگونی
کسی چیز کو منحوس سمجھنا یا اس سے نفع و نقصان کا عقیدہ رکھنا
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا
الطِّيَرَةُ شِرْكٌ
بدشگونی لینا شرک ہے۔
نجومیوں ، کاہنوں کی باتوں کو سچ سمجھنا کفر ہے ۔
: نبی اکرم ﷺ نے فرمایا
مَنْ أَتَى عَرَّافًا أَوْ كَاهِنًا فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ، فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ ﷺ
جو شخص کسی نجومی یا کاہن کے پاس گیا اور اس کی بات کی تصدیق کی، تو اس نے اس چیز کا انکار کیا جو محمد ﷺ پر نازل کی گئی۔
غیر شرعی جھاڑ پھونک ، غیر شرعی تعویذ اور ٹونے ٹوٹکے شرک ہیں
: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
إِنَّ الرُّقَى وَالتَّمَائِمَ وَالتِّوَلَةَ شِرْكٌ
بے شک (غیر شرعی) جھاڑ پھونک (غیر شرعی ) تعویذ اور محبت کے جادو (ٹونے ٹوٹکے) شرک ہیں۔
شرک کے اسباب
جہالت: دین کی بنیادی تعلیمات سے لاعلمی کی وجہ سے لوگ شرک میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔
اندھی تقلید: آباؤ اجداد یا معاشرتی روایات کی اندھی پیروی کرنا، جیسا کہ مشرکین مکہ کرتے تھے۔
دنیا کی محبت: بعض لوگ دنیوی فوائد کے لیے شرکیہ اعمال میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔
وساوس: شیطان انسان کو وسوسے ڈال کر شرک کی طرف راغب کرتا ہے۔
: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
إِنَّهُ مَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا
بے شک جو کوئی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کریگا وہ بہت دور کی گمراہی میں جا پڑا۔ (النساء: 116)
شرک کے نقصانات
: تمام نیک اعمال برباد ہو جاتے ہیں
لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ
اگر تم نے شرک کیا تو تمہارے تمام اعمال برباد ہو جائیں گے اور تم خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤ گے۔ (الزمر: 65)
: اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محرومی
شرک کرنے والے پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہوتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم رہتا ہے۔
: آخرت میں ابدی عذاب
شرک کرنے والے کو ہمیشہ کے لیے جہنم میں رکھا جائے گا۔
شرک سے بچنے کے طریق
توحید کا علم حاصل کرنا: قرآن کریم و احادیث مبارکہ کو پڑھ کر اور علماء سے سیکھ کر توحید کی حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے۔
: نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنا
ایسے لوگوں کے ساتھ رہنا چاہیے جو عقیدۂ توحید پر مضبوطی سے قائم ہوں۔
: بدعات اور خرافات سے اجتناب
ہر اس رسم و رواج سے دور رہنا چاہیے جو شرک کی طرف لے جا سکتا ہے۔
: اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے رہنا
اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ شرک سے محفوظ رہنے کی دعا کرنی چاہیے۔
نبی اکرم ﷺ اللہ تعالیٰ کے حضور دعا مانگتے تھے کہ
خلاصہ
شرک سب سے بڑا گناہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک ناقابل معافی جرم ہے ۔
ہمیں چاہیے کہ ہم خالص توحید پر قائم رہیں ہر قسم کے شرک سے بچیں اور اپنی زندگی اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق گزاریں اللہ تعالیٰ ہمیں شرک سے محفوظ اور ایمان پر ثابت قدم رکھیں
آمین