دن کی دھوپ ڈھل چکی تھی شام کا آنچل آسمان پر پھیلنے لگا تھا تین مسافروں نے ایک پہاڑ کے غار میں شب گزاری کا ارادہ کیا جیسے ہی وہ غار میں داخل ہوئے ایک بھاری پتھر پہاڑ کی چوٹی سے لڑھک کر آیا جس سے غار کا دہانہ بند ہو گیا اب وہ تینوں اندھیرے، تنہائی اور بے بسی کے عالم میں قید ہو چکے تھے زمین کی وسعت ان پر تنگ ہو چکی تھی اور آسمان ان کی نظروں سے بہت دُور جا چکا تھا
دنیا میں کسی انسان سے بھی رابطہ کی امیدیں ختم ہو چکی تھیں
وہ آپس میں کہنے لگے کہ
اس مصیبت سے نجات کے سارے راستے منقطع ہو چکے ہیں اب ہمارے پاس نجات کا صرف ایک راستہ بچا ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم سب اپنے رب کے حضور اپنی فریاد رکھیں۔
پہلے ہم لوگ اپنے اچھے اعمال یاد کریں جو خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کیے گئے ہوں پھر انہیں کو وسیلہ بنا کر بارگاہِ خداوندی میں گریہ و زاری کریں۔
ان میں سے ایک آگے بڑھا اور دل کی گہرائیوں سے اپنے رب سے دست بدعا ہوا
اے میرے رب
میرے والدین نہایت ضعیف تھے میں، ان کی خدمت کو اپنی سب سے بڑی سعادت سمجھتا تھا
کبھی ایسا نہ ہوا کہ گھر میں ان سے پہلے کسی کو ایک گھونٹ دودھ یا کھانے کا ایک لقمہ ملا ہو۔
ایک دن میں جانوروں کے لئے چارے اور لکڑیاں لینے جنگل کی طرف نکل گیا مگر واپسی میں تھوڑی تاخیر ہو گئی تھی جب لوٹا تو میرے والدین سو چکے تھے
میں نے دودھ نکالا اور پیالہ ہاتھ میں لیے ان کے سرہانے جا کھڑا ہوا
میرے سامنے میرے بچے بھوک سے تڑپ رہے تھے مگر میں نے اپنے اہل و عیال کو والدین پر ترجیح نہ دی
صبح کی پہلی کرن جب افق پر نمودار ہوئی تب جا کر وہ دونوں بیدار ہوئے اور میں نے ان کے سامنے دودھ کا پیالہ پیش کیا
اے میرے معبود! اگر یہ عمل آپ کی رضا کے لیے تھا تو ہمیں اس سنگین صورتحال سے نکال دیجئے
ابھی اُس کی زبان دعا سے فارغ بھی نہ ہوئی تھی کہ چٹان نے جنبش کی، تھوڑا سا راستہ روشن ہو گیا مگر ابھی اس سے نکلنا ممکن نہ تھا۔
دوسرا شخص لب کشا ہوا، اس کے لہجے میں ندامت تھی، دل میں سچائی، اور آنکھوں میں خلوص
اے پروردگار! مجھے ، ایک چچازاد بہن سے بے پناہ محبت تھی میں نے اس کی دلجوئی کے لیے کیا کچھ نہ کیا مگر وہ حیا کی چادر میں لپٹی رہی
پھر ایک سال ایسا آیا جب قحط چھا گیا اور وہ محتاج ہو کر میرے پاس آئی۔
میں نے اسے ایک سو بیس دینار اس شرط پر دیے کہ وہ خود کو میرے سپرد کر دے۔
مجبوری کے عالم میں وہ راضی تو ہو گئی مگر جیسے ہی میں نے اس کی پاکیزگی پر دست درازی کرنا چاہی، اس نے
: لرزتی آواز میں کہا
! اللہ تعالیٰ سے ڈر
! یہ ظلم نہ کر
اے ربِ کریم ! میں نے فوراً اپنے نفس کو قابو میں کیا، اس کی عصمت کو محفوظ رکھا، اور وہ سونا بھی اس سے واپس نہ لیا۔
یا اللہ! اگر میرا یہ عمل خالص آپ کی خوشنودی کے لیے تھا، تو ہماری رہائی کی سبیل پیدا فرما دیجئے
چٹان کچھ اور ہٹی، روشنی اور ہوا کا دائرہ وسیع ہوا، مگر اب بھی رہائی کا دروازہ مکمل کھلا نہ تھا۔
تیسرا شخص دل کی گہرائیوں سے گویا ہوا
اے اللہ! میں نے چند مزدوروں کو کام پر لگایا تھا، ایک دن سب کو ان کی اجرت دی، مگر ایک مزدور بغیر اجرت لیے چلا گیا۔
میں نے اس کی اجرت کو اپنے کاروبار میں لگا دیا برسوں کی محنت سے وہ رقم بڑھتے بڑھتے اتنی ہو گئی کہ میں نے اس سے بہت سے اونٹ گائیں اور بکریاں خرید لیے۔
کئی برس بعد وہ شخص واپس آیا اور کہنے لگا: میری اجرت دے دو۔
! میں نے کہا: نظر اُٹھا کر دیکھو
جو کچھ تمھارے سامنے ہے، وہ سب تمہارا ہے۔
وہ ششدر رہ گیا، سمجھا شاید یہ مذاق ہے مگر میں نے اس سے کہا: میں سچ کہتا ہوں، لے جاؤ، سب تمہارا ہے۔
وہ شخص وہ سب کچھ لے گیا۔
میں نے اس کی امانت میں ذرہ برابر بھی خیانت نہ کی ۔
اے میرے مالک! اگر یہ سب کچھ آپ کی رضا کے لیے تھا، تو ہمیں اس تاریکی سے نجات عطا فرما دیں۔
پھر کیا تھا ! چٹان پوری طرح ہٹ گئی، آفتاب کی کرنوں سے غار جگمگا اٹھا ، اور تینوں مسافر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آزاد ہو کر باہر نکل آئے۔
جب نیت خالص ہو، عمل پاک ہو، اور دل اللہ تعالیٰ کے لیے دھڑکے، تو بند دروازے کھل جاتے ہیں، بے جان پتھر بھی حرکت میں آجاتے ہیں اور رب کائنات اپنی رحمت کے دریا بہا دیتے ہیں
والدین کی خدمت، پاکدامنی کا تحفظ، اور امانت کی پاسداری، انسان کو مشکلات کے غار سے نکال کر آسانیوں کی روشنی کی طرف لے آتے ہیں۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما کی سند سے صحیح مسلم کا یہ واقعہ ویسے تو مدتوں سے سنتے آرہے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ماضی بعید کا یہ قصہ سنایا کیوں ؟
کیا یہ محض ایک تاریخی واقعہ ہے ؟
یا اسے سنانے کے پیچھے کوئی گہرا مقصد اور دائمی پیغام پنہاں ہے ؟
! یقین جانیے
پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان اقدس سے نکلنے والا ہر لفظ، ہر جملہ، ہر قصہ ، زمان و مکان کی حدود سے ماورا ہو کر قیامت تک کے انسانوں کے لیے رہنمائی کا چراغ ہے
یہ واقعہ بھی، تین افراد کے غار میں پھنسنے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنے کا محض بیان نہیں ہے ، بلکہ یہ اخلاصِ نیت اور عملِ صالح کی صورتوں اور اس کی لازوال طاقت کا عملی مظاہرہ ہے ۔
ایسا مظاہرہ جو انسان کے مقدر کا دھارا بدل سکتا ہے، جو بند دروازے کھول سکتا ہے، جو ناممکن کو ممکن میں تبدیل کر سکتا ہے۔
اور اصل سبق یہ ہے کہ انسان کی زندگی کا ہر لمحہ، ہر عمل، اس وقت تک دین اور عبادت کا درجہ نہیں پا سکتا جب تک اس کی بنیاد اخلاص پر نہ ہو۔
کیونکہ نیت عمل کی روح ہے۔ جس طرح جسم بغیر روح کے بے جان ہوتا ہے، اسی طرح عمل بغیر اخلاص کے بے وزن۔
نیت ہی وہ کسوٹی ہے جس پر ہر عمل کا وزن کیا جائیگا، اور قیامت کے دن نیتیں ہی اعمال کے پلڑے کو بھاری یا ہلکا کریں گی۔
اور دوسرا اہم سبق یہ ہے کہ
عملِ صالح محض نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج جیسے ظاہری اعمال تک محدود نہیں۔
بلکہ اس کا ایک وسیع تصور ہے، جو انسان کی پوری زندگی کو محیط ہے۔
اگر انسان کی نیت خالص ہو، اور اس کا دل اللہ تعالیٰ کی رضا کا طلبگار ہو، تو والدین کی خدمت، روزی کمانا، بچوں کی تربیت، بیمار کی تیمارداری، مظلوم کی مدد، راستے سے پتھر ہٹانا جیسے سارے اعمال ، عمل صالح اور عبادت ہیں۔
واقعہ میں مذکور تینوں افراد نے جو اعمال اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کیے تھے۔
ایک نے والدین کی خدمت▪️
دوسرے نے عزت کی حفاظت▪️
تیسرے نے امانت داری▪️
یہ اعمال نہ انہوں نے کسی دنیاوی فائدے کے لیے کیا، نہ شہرت کے لیے ۔
انہوں نے صرف اور صرف اپنے رب کی رضا کی خاطر یہ اعمال انجام دئے، اور یہی خلوص ان کے لیے معجزہ بن گیا۔
آج ہم میں سے ہر شخص کو اپنے دل کے آئینے میں جھانکنا چاہیے۔
ہمیں اپنے معمولات پر نظر ڈالنی چاہیے کہ کیا ہم واقعی اللہ تعالیٰ کے لیے جیتے ہیں؟
کیا ہمارے پیش نظر اپنے رب کی رضاء ہوتی ہے؟
یا پھر ہم اپنے نفس، دنیا اور سوسائٹی کی واہ واہ کے اسیر ہیں؟
یاد رکھیے! خلوص ایسی طاقت ہے جو غار کے دہانے پر جمے ہوئے پتھر کو سرکا سکتی ہے، دعا کو فلک کی بلندیوں تک پہنچا سکتی ہے
اور بظاہر معمولی عمل کو عظیم ترین عبادت میں تبدیل کر سکتی ہے۔
لہٰذا، اگر ہم واقعی کامیاب ہونا چاہتے ہیں
اگر ہم اپنی دعاؤں میں اثر چاہتے ہیں
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری زندگی بھی ان نیک لوگوں کی طرح معجزہ بن جائے، تو ہمیں اپنے ہر عمل کی بنیاد اخلاص پر رکھنی ہوگی۔
نیت درست ہو، تو ناکامی بھی کامیابی بن جاتی ہے، اور نیت میں کھوٹ ہو، تو کامیابی بھی خسارے میں بدل جاتی ہے۔
بس یہی وہ نصیحت ہے جس کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ واقعہ سنایا تھا ۔۔۔۔۔۔۔